شکیل آفریدی، عافیہ تبادلہ: ’وزارت داخلہ میں غور جاری‘

Image caption ’دو علاقائی تصفیے ہیں جن کو اگر اکٹھے دیکھا جائے تو مجرموں کے تبادلے پر بات چیت ہو سکتی ہے‘

پاکستان کے دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان دو علاقائی تصفیے موجود ہیں جن کو اگر اکٹھا کیا جائے تو ڈاکٹر شکیل آفریدی اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے تبادلے پر بات جیت کی جاسکتی ہے۔

یہ بات پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان اعزاز چوہدری نے جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہی۔

دفترِ حارجہ کے ترجمان نے کہا ’پاکستان اور امریکہ کے درمیان مجرموں کے تبادلے کا کوئی دو طرفہ معاہدہ نہیں ہے۔ دو علاقائی تصفیے ہیں جن کو اگر اکٹھے دیکھا جائے تو اس ایشو پر بات چیت ہو سکتی ہے۔‘

ترجمان نے مزید کہا کہ ڈاکٹر شکیل افریدی کو امریکہ کے حوالے کرنے اور ڈاکٹر عافیہ کا پاکستان کے حوالے کرنے کے حوالے سے بہتر جواب وزارت داخلہ دے سکتی ہے۔ ’ان علاقائی نظام پر پاکستان کی وزارت داخلہ غور کر رہی ہے۔‘

یاد رہے کہ وزیر داخلہ چوہدری نثار نے تیس جون کو ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جو ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی پاکستان کو حوالگی کے حوالے سے سفارشات کابینہ کو پیش کرے گی۔

تاہم یہ کمیٹی کب اپنی سفارشات پیش کرے گی اس بارے میں کوئی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی نے ایبٹ آباد میں مقیم القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کا ڈی این اے حاصل کرنے کے لیے ہیپائیٹس سے بچاؤ کے ٹیکے لگانے کی ایک جعلی مہم شروع تھی۔

ڈاکٹر شکیل آفریدی کو تحصیل باڑہ کے اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ کی عدالت نے امریکہ کے لیے جاسوسی کے الزام میں تیس سال قید کی سزا سُنائی۔

دوسری جانب ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو ستمبر 2010 میں امریکی ڈسٹرکٹ کورٹ کے جج رچرڈ برمن نے 86 سال کی سزا سنائی تھی۔

عافیہ صدیقی کو وفاقی عدالت کی جیوری نے افغانستان میں امریکی فوج اور حکومت کے اہلکاروں پر مبینہ طور قاتلانہ حملے اور قتل کی کوشش کرنے کے سات الزامات میں مجرم قرار دیا تھا۔

دوسری جانب امریکی دفترِ خارجہ کی ترجمان نے جمعرات کو پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ امریکہ عافیہ صدیقی کو پاکستان کے حوالے نہیں کر رہا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں نائب ترجمان میری ہارف نے کہا ’پاکستان نے عافیہ صدیقی کو حوالے کرنے کا مطالبہ 2010 میں کیا تھا۔ کسی نئے مطالبے کے بارے میں علم نہیں ہے۔‘

حالیہ دنوں میں مقامی میڈیا میں یہ خبریں گردش کر رہی تھی کہ امریکہ نے پاکستان کو تجویز دی ہے کہ مجرموں کے تبادلے کا دو طرفہ معاہدہ کر لیا جائے جس کے تحت امریکہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو پاکستان کے حوالے اور پاکستان ڈاکٹر شکیل آفریدی کو امریکہ کے حوالے کر دے۔

اسی بارے میں