لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے وفاقی ٹاسک فورس

Image caption پاکستان میں لاپتہ افراد کے لواحقین اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے احتجاج کرتے رہے ہیں

پاکستان کی وفاقی حکومت نے لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق ایک ٹاسک فورس قائم کردی ہے جو ہر لاپتہ ہونے والے شخص کے معاملے کا جائزہ لیکر مجاز حکام کے علاوہ سپریم کورٹ کو بھی آگاہ کرے گی۔

اس ٹاسک فورس میں چاروں صوبوں کی پولیس کے ایڈیشنل آئی جی کے علاوہ آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلیجنس کے اہلکار بھی شامل ہوں گے۔

اس کی سربراہی وزارت داخلہ کے ایڈیشنل سیکرٹری طارق لودھی کو سونپی گئی ہے جو ماضی میں نیشنل کرائسس مینجمنٹ سیل کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں۔

ٹاسک فورس کچھ کر پائے گی؟ راشد رحمان سے گفتگو

پاکستان کی وزارتِ داخلہ نے جمعرات کو اس ٹاسک فورس کے قیام کا نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے اور اس کا پہلا اجلاس 29 جولائی کو طلب کیا گیا ہے۔

اس فورس کے اہلکار لاپتہ ہونے والے افراد کے ورثاء سے بھی ملاقاتیں کریں گے اور ان افراد کے خلاف مختلف اداروں کی طرف سے کی جانے والی تفتیش سے متعلق بھی آگاہی حاصل کریں گے۔

یہ پاکستان میں لاپتہ افراد کی تلاش کے سلسلے میں حکومت کی جانب سے تشکیل دیا جانے والا دوسرا ادارہ ہے۔

اس سے قبل ان معاملات سے متعلق ایک تحقیقاتی کمیشن بھی تشکیل دیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج جاوید اقبال کی سربراہی میںاس کمیشن نے ابھی تک لاپتہ افراد اور بازیاب ہونے والے افراد کے بارے میں رپورٹ جاری نہیں کی۔

تاہم وزارت داخلہ کی طرف سے ابھی تک اس کمیشن کے بارے میں نہیں بتایا گیا کہ آیا یہ کمیشن بھی کام کرتا رہے گا یا پھر اسے کام کرنے سے روک دیا گیا ہے۔

لاپتہ افراد کے ورثاء نے اس کمیشن پر عدم اعتماد کا بھی اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ کمیشن کے اجلاس میں اُنہیں نہیں بُلایا جاتا تھا بلکہ اس اجلاس میں خفیہ اداروں کے اہلکاروں کے ساتھ مل کر اپنے تئیں فیصلے کرتے رہے ہیں۔

دوسری جانب ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق محمود کھوکھر نے لاپتہ افراد کے مقدمے کی سماعت میں سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ سیکرٹری داخلہ نے بلوچستان کے ہوم سیکرٹری کو فوج کے ریٹائرڈ بریگیڈئیر محمد صدیق کے خلاف قانونی کارروائی کرنے سے متعلق خط لکھ دیا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ مذکورہ ریٹائرڈ فوجی افسر پر الزام ہے کہ وہ جبری طور پر لاپتہ ہونے والے علی اصغر بنگلزئی کے اغوا میں ملوث ہیں۔

عدالت نے اس ضمن میں بلوچستان کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کی سماعت چھبیس جولائی تک کے لیے ملتوی کر دی ہے۔

خیال رہے کہ رواں برس مارچ میں پاکستان میں جبری گمشدگیوں کی تحقیقات کرنے والے حکومتی کمیشن نے بتایا تھا کہ انہیں دو برس میں ملک سے مزید آٹھ سو اکسٹھ افراد کے لاپتہ ہونے کی شکایات موصول ہوئی ہیں جس کے بعد ایسے معاملات کی تعداد 999 تک پہنچ گئی ہے۔

کمیشن کے مطابق ان میں سے تین سو اٹھہتر شکایات کو نمٹا دیا گیا ہے اور اُس وقت چھ سو اکیس شکایات کے بارے میں تحقیقات جاری تھیں۔

اس سے قبل جنوری 2013 میں حکومتِ پاکستان نے پہلی بار اس بات کو تسلیم کیا تھا کہ وہ سات سو کے قریب مشتبہ شدت پسندوں کو بغیر قانونی کارروائی کے حراست میں رکھے ہوئے ہے۔

اسی بارے میں