’حملے کا مقصد سرکاری عملے کو یرغمال بنانا تھا‘

Image caption ’بظاہر ایسا لگتا ہے ان دھماکوں میں آئی ایس آئی کے دفتر کو نشانہ بنایا گیا‘

پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر سکھر کے ایس ایس پی عرفان بلوچ نے کہا ہے کہ بدھ کو آئی ایس آئی کے دفتر پر ہونے والے حملے کا مقصد سرکاری عملے کو یرغمال بنانا تھا۔

پاکستان کے سرکارٹی ٹی وی کے مطابق سکھر کے ایس ایس پی نے جمعرات کو نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس حملے میں طریقۂ واردات کراچی حملوں جیسا تھا۔

آئی ایس آئی نشانے پر

دوسری جانب کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے سکھر میں آئی ایس آئی کے دفتر پر بدھ کے روز ہوئے حملے اور جمعرات کو پشاور میں فرنٹیئر پولیس کے ڈپٹی کمانڈنٹ گل ولی خان پر ہونے والے حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔

عرفان بلوچ کا کہنا تھا کہ بدھ کو چار دہشت گرد بیراج کالونی میں داخل ہوئے اور وہ ججز کالونی پر بھی حملہ کرنا چاہتے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ حملہ آور ہائی روف گاڑی میں آئے اور انھوں نے بارود سے بھری گاڑی گیٹ سے ٹکرا دی۔

ایس ایس پی کے مطابق اس کارروائی میں پانچ دہشت گرد ملوث ہیں جو مارے جا چکے ہیں۔

عرفان بلوچ نے میڈیا کو بتایا کہ ایک حملہ آور کی لاش قابلِ شناخت ہے جبکہ دو کے سر ملے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ دہشت گردی کی اس واردات کے پیچھے کالعدم تنظیموں کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر سکھر میں آئی ایس آئی کے دفتر پر حملے اور بم دھماکوں میں کم از کم 5 افراد ہلاک جبکہ پولیس حکام کے مطابق 4 حملہ آور بھی اس کارروائی کے دوران ہلاک ہوئے تھے۔

مقامی پولیس کے مطابق بدھ کی شام شہر کی بیراج کالونی میں پہلے حملہ آوروں نے بارود سے بھری گاڑی میں دھماکہ کیا جس کے بعد وہ پاکستانی فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے دفترمیں داخل ہوگئے اور وہاں دستی بم پھینکے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق جس جگہ دھماکے ہوئے اسی علاقے میں آئی ایس آئی کے دفتر کے علاوہ ضلع کے کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور ججوں کی رہائش گاہ موجود ہیں جو دھماکے سے متاثر ہوئیں۔

سکھر پولیس کے ڈی آئی جی جاوید اوڈھو نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ بظاہر ایسا لگتا ہے ان دھماکوں میں آئی ایس آئی کے دفتر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ حملہ آوروں نے گاڑی میں دھماکے کے بعد ایجنسی کے دفتر کے احاطے میں گھس کر دستی بم پھینکے اور پھر ان میں سے دو نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مقابلے میں مزید دو حملہ آور مارے گئے۔

اس واقعے کے فوراً بعد موقع پر امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں اور ایدھی کے اہلکاروں کے مطابق پولیس اور مسلح افراد کے درمیان جاری مقابلے کے باعث امدادی کارروائیاں بھی متاثر ہوئیں۔

دھماکوں کے بعد شہر کے ہسپتالوں میں ہنگامی حالت بھی نافذ کر دی گئی تھی۔

خیال رہے کہ سکھر پاکستان کے ان شہروں میں سے ہے جو دہشت گردی کی کارروائیوں سے اب تک محفوظ رہے ہیں تاہم فوج کی خفیہ ایجنسی کے دفاتر ملک کے مختلف شہروں میں دہشت گردوں کا ہدف رہے ہیں۔

دوسری جانب کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے نئے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے بی بی سی کے نامہ نگار احمد ولی مجیب کو اپنے پہلے انٹرویو میں بتایا کہ سکھر میں آئی ایس آئی کے دفتر پر حملہ تحریک طالبان نے کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ مفتی ولی الرحمٰن کے قتل کا بدلے میں کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق سندھ سمیت پورے ملک میں اس طرح کے حملے ہوتے رہیں گے۔

اس سے قبل سکھر میں آئی ایس آئی کے دفتر پر حملے کی ذمہ داری جند اللہ نامی تنظیم نے قبول کی تھی۔ تاہم شاہد اللہ شاہد کے مطابق جند اللہ نامی تنظیم کا تحریک طالبان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اسی بارے میں