پی پی پی کا صدارتی انتخاب کے بائیکاٹ کا اعلان

Image caption اگر حزبِ اختلاف متفقہ امیدوار لاتی تو انتخابات میں کامیابی ان ہی کی ہوتی: رضا ربانی

پاکستان پیپلز پارٹی نے تیس جولائی کو ہونے والے صدارتی انتخاب کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ہے۔

اسلام آباد میں جمعہ کو ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی پی پی کے رہنما اور صدارتی امیدوار سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ ان کی جماعت نے جمہوریت اور وفاق کی خاطر صدارتی انتخاب کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے۔

شیڈول میں تبدیلی عدالت کا یکطرفہ اقدام

’صدارتی انتخاب اب تیس جولائی کو ہوگا‘

دوسری جانب پاکستان کے الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ تیس جولائی کو ہونے والے صدارتی انتخاب کے لیے تین امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور کر لیے گئے ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کے صدارتی امیدوار رضا ربانی سمیت دیگر انیس امیدواروں کے کاغذات مسترد کردیے ہیں۔جن امیدواروں کے کاغذات منظور کیے گئے ہیں ان میں مسلم لیگ نواز کے امیدوار ممنون حسین اور ان کے متبادل امیدوار اقبال ظفرجھگڑا کے علاوہ تحریک انصاف کے امیدوار ریٹائرڈ جسٹس وجیہ الدین احمد شامل ہیں۔

عدالتی فیصلے سے ن لیگ کا نقصان ہوا ہے: جسٹس طارق محمود

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رضا ربانی کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے اس معاملے میں انہیں اپنا موقف بیان کرنے کا موقع ہی نہیں دیا اور دو دن میں انتخابی مہم چلانا ممکن نہیں تھا جس کے بعد پیپلز پارٹی کے پاس صدارتی انتخاب کے بائیکاٹ کے سوا کوئی راستہ نہ تھا۔

ابتدائی شیڈول کے مطابق ملک میں صدارتی انتخاب چھ اگست کو ہونا تھے تاہم بدھ کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پی ایم ایل نواز کی جانب سے صدارتی انتخاب کی تاریخ میں تبدیلی کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن کو تیس جولائی کو صدارتی انتخاب کرانے کا حکم دیا تھا۔

پریس کانفرنس میں رضا ربانی نے کہا کہ ’ہم سپریم کورٹ کے یکطرفہ فیصلے کو بھی تسلیم کر لیتے جس طرح ہم نے گیارہ مئی کے عام انتخابات کے نتائج کو خدشات کے ساتھ تسلیم کیا تاکہ جمہوریت آگے بڑھے۔‘

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’جب ہم نے دیکھا کہ اس فیصلے کو تسلیم کرنے سے وفاقیت پر کاری ضرب پڑ رہی ہے اور صدر کے دفتر کو جو وفاق کی علامت ہے تبدیل کر کے ون یونٹ مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تو ہمارے پاس وفاق کو بچانے کے لیے کوئی راستہ نہ بچا کہ ہم اس الیکشن اور اس انتخابی عمل کا بائیکاٹ کرتے۔‘

رضا ربانی نے کہا کہ ’ہمیں امید تھی کہ اٹھارہویں اور بیسویں ترمیم کے بعد الیکشن کمیشن آزاد ہو گیا ہے اور وہ اپنی آزادی کو مثبت انداز میں استعمال کرے گا‘ لیکن دیکھنے میں یہ آیا کہ جب ابتدائی طور پر الیکشن کمیشن نے حکومت کی جانب سے تاریخ بدلنے کی درخواست رد کی تو ساتھ ہی یہ ’اپنی ذمہ داری پوری نہ کرتے ہوئے یہ کہا کہ اگر ہمیں سپریم کورٹ آف پاکستان کہے گی تو ہم شیڈول کی تبدیلی کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘

ان کاکہنا تھا کہ آٹھارویں اور بیسویں ترمیم کے ذریعے آزادی لیے ہوئے الیکشن کمیشن کی یہ آئینی ذمہ داری ہے وہ الیکشن کروائے گا اور اس کا شیڈول دے گا۔

انھوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے خود عدالت کو دعوت دے دی کہ آپ یہ قدم اٹھائیں۔

رضا ربانی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی بات کو اشارہ سمجھتے ہوئے ہی مسلم لیگ نواز نے 23 جولائی کو سپریم کورٹ میں الیکشن کو 30 تاریخ کو صدارتی انتخاب کرانے کی درخواست دائر کی۔

انھوں نے کہا کہ’ 23 کو جو درخواست دی گئی اس پر 24 جولائی کو سپریم کورٹ کا فیصلہ آتا ہے جس میں انتخاب کی وہی تاریخ اور دن رکھا جاتا ہے جو حکومت نے اپنی درخواست میں لکھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے دوسرے امیدوروں کو نوٹس جاری نہیں کیے اور’ہماری شنوائی نہیں کی، ہمیں اپنا نقطۂ نظر پیش کرنے کا موقع فراہم نہیں کیا اور یک طرفہ فیصلہ کر دیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے انتہائی سنجیدگی سے انتخابی مہم چلائی اور حزبِ اختلاف کی جماعتوں سے رابطہ بھی کیا اور اگر حزبِ اختلاف متفقہ امیدوار لاتی تو انتخابات میں کامیابی ان ہی کی ہوتی۔

اس موقع پر انہوں نے صدارتی مہم میں تعاون کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کا شکریہ بھی ادا کیا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف خورشید شاہ نے کہا کہ اب پیپلزپارٹی حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ انتخابات کی تاریخ ہمیشہ آگےجاتی ہے لیکن اس بار ’ریورس گیئر‘ لگا ہے جو خطرناک بھی ہوسکتا ہے۔

پریس کانفرنس میں موجود سینیٹر اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ الیکشن شیڈول تبدیل کرنے کے لیے نفلی عبادات کو جواز بنایا صحیح نہیں اور یہ تاریخ میں تبدیلی کی کوئی آئینی اور قانونی وجہ بھی نہیں۔

اسی بارے میں