بلدیاتی الیکشن کا مسودۂ قانون اسمبلی میں

Image caption اس بِل کے مطابق ہر یونین کونسل میں خواتین کے لیے ایک نشست مختص کی گئی ہے

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے پنجاب اسمبلی میں مقامی حکومتوں کا مسودۂ قانون پیش کر دیا گیا۔

مسودۂ قانون پر بحث کے لیے اسے 12 رکنی خصوصی کمیٹی کے سپرد کیا گیا جس کی سربراہی مسلم لیگ ن کے عبدالرزاق ڈھلوں کریں گے۔

کمیٹی سے منظوری کے بعد اسے عام بحث کے لیے ایوان میں لایا جائے گا جہاں اس کی حتمی منظوری دی جائے گی۔

سپریم کورٹ نے صوبائی حکومتوں کو چند روز پہلے متنبہ کیا تھا کہ وہ ستمبر تک بلدیاتی انتخابات کا انعقاد یقینی بنائیں۔

پنجاب حکومت نے بلدیاتی انتخاب کے لیے عدالت سے 90 دن کی مہلت طلب کی تھی تاہم عدالت نے مہلت دینے سے انکار کر دیا تھا۔

پنجاب کے قائم مقام ایڈووکیٹ جنرل مصطفیٰ رمدے نے عدالت میں موقف اختیار کیا تھا کہ چونکہ بلدیاتی انتخابات کے لیے حلقہ بندیاں کی جانی ہیں جس کے لیے نئی قانون سازی کرنا ہوگی اس لیے 90 دنوں کی مہلت ضروری ہے۔

عدالت کے حکم کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے مقامی حکومتوں کا نیا قانون بنانے کے لیے تجاویز کی منظوری دی اور وزیرِ بلدیات رانا ثنا اللہ نے پنجاب اسمبلی میں جمعے کو نئے قانون کا مسودہ پیش کیا۔

رانا ثنا اللہ کہتے ہیں: ’اس قانون کے لیے حزبِ اختلاف کی تجاویز کو ہم کھلے دل سے قبول کریں گے۔ میں حکومت اور پنجاب اسمبلی کی جانب سے باضابطہ طور پر ذرائع ابلاغ اور سول سوسائٹی کو بھی اس بحث میں شامل ہونے کی دعوت دیتا ہوں تاکہ اس قانون پر تجزیے اور تبصرے ہوں اور ایک بہترین قانون سامنے آسکے۔‘

اپوزیشن نے جمعے کو بِل پر بحث تو نہیں کی تاہم اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے تحریکِ انصاف سے تعلق رکھنے والے پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود الرشید نے کہا کہ اپوزیشن اس قانون کی تشکیل میں بھر پور حصہ لے گی۔

انھوں نے کہا: ’ آئین کی یہی منشا ہے کہ ہم اختیارات گلی محلے کی سطح پر اپنے منتخب نمائندوں کو منتقل کریں۔ مجموعی طور پر اس بل کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ آئین کی شق 140 اے کی روح کے مطابق نہیں تاہم ہم حکومتی بنچوں کی اس بات کا خیرمقدم کرتے ہیں کہ اپوزیشن کی جائز اور منطقی تجاویز کو زیر غور لایاجائے گا‘۔

اس بِل پر بحث کے لیے ویسے تو ایک خصوصی کمیٹی بنائی گئی ہے تاہم ارکانِ اسمبلی اس کے اجلاس میں شامل ہوسکتے ہیں اور کمیٹی کو اپنی تجاویز سے آگاہ کر سکتے ہیں۔

اس بِل کے مطابق ہر یونین کونسل میں خواتین کے لیے ایک نشست مختص کی گئی ہے۔

پنجاب اسمبلی میں پیپلز پارٹی کی رکن فائزہ ملک کو نئے بلدیاتی قانون میں خواتین کی نمائندگی کم ہونے اور انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر کروانے پر شدیدتحفظات ہیں۔

’پہلے جب بلدیاتی نظام چل رہا تھا اس وقت بھی خواتین کی نشستیں 33 فیصد سے کم کرکے 17 فیصد کردی گئی تھیں اور اب اس میں مزید کمی کی جا رہی ہے۔ اگر یہ کمی اتنا بڑا مینڈیٹ رکھنے والی حکومت کی جانب سے ہوگی تو اس سے سیاست میں دلچسپی رکھنے والی عام خواتین کو دھچکا لگے گا۔‘

فائزہ ملک کہتی ہیں: ’اس بِل کے مطابق کونسلز کا انتخاب غیرجماعتی ہوگا۔ چونکہ ہرکوئی حکومت میں آنا چاہتا ہے تو اس اقدام سے لوٹا کریسی کو فروغ ملے گا اور سیاسی ادارے مستحکم ہونے کے بجائے کمزرور ہوں گے۔‘

بلدیاتی امور کے ماہر زاہد اسلام کے مطابق اس نئے قانون میں بلدیاتی حکومتوں کا حجم بھی تقریبا 50 فیصد کم کر دیا گیا ہے اور صرف خواتین ہی نہیں بلکہ اقلیتوں کی نشستیں بھی کم کر دی گئی ہیں۔

’پہلے ہر یونین کونسل میں اقلیتوں کی مخصوص نشستیں تھیں لیکن اب صرف اس یونین کونسل میں اقلیتی نشست ہوگی جہاں اقلیتی آبادی کم از کم 500 ہو گی یعنی جہاں اقلیتی آبادی 500 سے کم ہو گی اس یونین کونسل میں وہ نمائندگی سے محروم رہیں گے۔‘

ان سب اعتراضات کے علاوہ ناقدین کو سب سے زیادہ تحفظات پنجاب کے بلدیاتی نظام کے نئے مسودے میں موجود شہری اور دیہی تفریق پر ہیں۔

ناقدین کے مطابق اس قانون میں شہری علاقوں کے لیے ایک طرح کی مقامی حکومت ہوگی اور دیہی علاقوں کے لیے دوسری۔ اس تفریق کے باعث مقامی سطح پر اختیارات کے حصول اور خاص طور پر نئے صوبوں کی مانگ زور پکڑے گی کیونکہ بہت سے مسائل کے لیے اب پسماندہ علاقوں کا لاہور پر انحصار مزید بڑھ جائے گا۔

ماہرین کے مطابق مسودۂ قانون میں صوبائی اور مقامی حکومتوں کے درمیان اختیارات اور فرائض کی تقسیم بھی مبہم ہے۔ زیادہ اختیارات ریاستی اداروں یعنی صوبائی حکومت کو ہی دیے گئے ہیں۔

بِل میں مالی اختیارات بھی مقامی حکومتوں کو مکمل طور پر منتقل نہیں کیے گئے اور مقامی کونسلز کو گرانٹس کے لیے صوبائی حکومتوں پر ہی انحصار کرنا پڑے گا۔ پہلے تمام خواتین کونسلرز براہ راست منتخب ہوتی تھیں لیکن اب بالواسطہ انتخاب کے باعث وہ منتخب ہونے کے لیے جنرل کونسلز کے رحم و کرم پر ہوں گی۔

پنجاب حکومت اس مسودے کو جلد از جلد منظور کروانا چاہتی ہے اور لگتا ایسا ہے کہ آئندہ ہفتے ارکانِ اسمبلی، سول سوسائٹی اور میڈیا پر اس قانون کا تجزیہ جاری رہے گا۔

اس بات کا اندازہ کچھ ہی روز میں ہو جائے گا کہ آیا مشاورت کا عمل محض دکھاوا ہے یا حقیقتاً تجاویز اور تنقید کے مطابق اس مسودے میں تبدیلیاں کی جائیں گی۔

اسی بارے میں