سوات میں صرف خواتین پر مشتمل جرگہ

Image caption اب تک جرگوں کے اس متوازی نظامِ انصاف میں صرف مرد شرکت کرتے تھے

پاکستان کی وادیِ سوات کی خواتین تاریخ رقم کرنے کے ساتھ ساتھ شاید چند طاقتور دشمنیاں بھی مول لے رہی ہیں۔ سوات کی خواتین نے مشاورت کے ذریعے مسائل کے حل کے لیے صرف عورتوں پر مشتمل ایک جرگے کا انعقاد کیا ہے۔ عام طور پر جرگوں میں صرف مرد شرکت کیا کرتے ہیں۔ ہماری ساتھی اورلا گیورن کی اس رپورٹ کے کچھ حصے شاید کچھ قارئین کے لیے پریشان کن ہوں۔

طاہرہ کو زندگی میں تو انصاف نہ ملا مگر وہ اپنی موت کے بعد بھی یہ جنگ موبائل فون کی ایک ویڈیو ریکارڈنگ کی مدد سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اپنے بسترِ مرگ پر لیٹے ہوئے انھوں نے عدالت میں استعمال کے لیے ایک بیان ریکارڈ کیا جس میں انھوں نے خود پر ظلم کرنے والے ظالموں کے نام لیے۔

ان کا کہنا تھا کہ جیسے وہ جلتی رہی ہیں، اُن کے ظالموں کو بھی ایسے ہی جلنا چاہیے۔

طاہرہ کے جسم کا پینتیس فیصد ایک مبینہ تیزاب کے حملے میں جل گیا تھا۔ ادھر ان کے جسم سے گوشت جل کر گرے جا رہا تھا اور دوسری جانب وہ اپنی درد بھری آواز میں اپنی روداد سنا رہی تھیں۔

ان کی والدہ جان بانو اپنے سفید دوپٹے سے اپنے آنسو پونچھتے ہوئے بتاتی ہیں: ’میں نے اسے کہا کہ تم اونچا بولو اور ہمیں بتاؤ کہ تمھارے ساتھ کیا ہوا ہے۔ وہ اپنی آخری سانس تک بات کر رہی تھی۔‘

پختون معاشرے کا پہلا خواتین جرگہ: ویڈیو رپورٹ

طاہرہ کے شوہر، ساس اور سسر کو گذشتہ ماہ اس تیزاب حملے کے الزام سے بری کر دیا گیا تھا۔ جان بانو اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں اور اس مہم میں ان کا ساتھ پاکستان کا پہلا خواتین پر مشتمل جرگہ دے گا۔

روایتی طور جرگہ نظام کے تحت عمائدین تنازعات حل کرتے ہیں۔ اب تک اس متوازی نظامِ انصاف میں صرف مرد شرکت کرتے تھے اور اکثر جرگے کے فیصلوں میں خواتین کے خلاف امتیازی سلوک ظاہر ہوتا تھا۔

اب اس نئے پچیس خواتین پر مشتمل جرگے کا مقصد اپنی طرز کا انصاف فراہم کرنا ہے۔

ماضی میں پاکستانی طالبان کے زیرِ انتظام رہنے والی وادیِ سوات شاید اس جرگے کے لیے ایک غیر متوقع پس منظر ہو۔ ہم اس جرگے کی ایک ابتدائی نشت میں شریک ہوئے۔ کمرے میں خواتین ایک دائرے میں بیٹھنے لگیں اور بہت سوں کے قدموں کے ساتھ ان کے بچے لپٹے تھے۔ زیادہ تر کا سر ڈھکا ہوا تھا اور کچھ نے برقع پہن رکھا تھا۔

تقریباً ایک گھنٹے سے زیادہ تک انھوں نے زمین کے تنازعات، پانی کی رسد کے مسائل، تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور قتل کے بارے میں بات چیت کی۔ کمرے میں موجود واحد مرد ایک مقامی وکیل سہیل سلطان تھے۔ سہیل سلطان جرگے کے اراکین کو قانونی مشورے دینے کے ساتھ ساتھ جان بانو کے کیس کی پیروی بھی کر رہے ہیں۔

انھوں نے جان بانو کو بتایا ہے کہ اُن کے کیس میں اصل مجرم پولیس ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ پولیس کو ملزمان نے رشوت دی اور اسی لیے پولیس نے کیس کی تفتیش صحیح طریقے سے نہیں کی۔

پاکستان کے بہت سے حصوں کی طرح سوات میں بھی خاندان کی عورتوں کے لیے اہم فیصلے مرد ہی کرتے ہیں جیسے کہ ان کی بیٹیاں سکول جائیں گی یا نہیں، کب اور کس سے شادی کریں گی۔

اس جرگے کی بانی رکن تبّسم عدنان کا کہنا ہے کہ ’ہمارا معاشرے میں مردوں کا غلبہ ہے۔ وہ عورتوں کو حقوق نہیں دیتے اور انھیں اپنی ملکیت سمجھتے ہیں۔ ہمارا معاشرہ یہ نہیں سمجھتا ہے کہ ہمیں اپنی زندگی خود گزارنے کا حق ہے۔

چار بچوں کی والدہ اور خوش مزاج سماجی کارکن کو یہ معلوم ہے کہ ثقافت اور روایت کے خلاف آواز اٹھانا خطرے سے خالی نہیں ہے۔ وہ کہتی ہیں ’کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ مجھے ہلاک کیا جا سکتا ہے۔ مگر مجھے لڑنا ہے۔ میں رکنے والی نہیں۔‘

سورج کی روشنی میں رچے صحن میں بیٹھے ہم بات کر ہی رہے تھے کہ تبسّم کو ایک پریشان کن فون آیا۔ ’مجھے ابھی بتایا گیا ہے کہ ایک خاتون کی لاش ملی ہے۔ اس کے شوہر نے اسے گولی مار دی ہے۔‘ تبسّم اس معاملے کی خود تفتیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں اور وہ حکام سے عملی اقدامات کا مطالبہ کریں گی۔

وہ کہتی ہیں ’میرے جرگے سے پہلے پولیس اور منصفین نے کبھی بھی خواتین کی طرف توجہ نہیں دی مگر اب ایسا نہیں ہوگا۔ میرا جرگہ خواتین کے لیے بہت کچھ کر چکا ہے۔‘

قریب بیٹھی غمگین والدہ تاج محل نے اس بات کی تائید کی۔ ان کی بیٹی نورینہ کو مئی میں تشدد کر کے ہلاک کر دیا گیا۔

اپنے گلے کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر تاج محل نے بتایا کہ نورینہ کے بازو کو تین جگہ سے توڑ کر گلا گھونٹ کر مار دیا گیا۔ ’انھوں نے اس کی ہنسلی کی ہڈی توڑی، اس کے منہ اور آنکھوں کو گوند کی مدد سے بند کر دیا۔ صرف اس کا چہرہ رہ گیا تھا باقی سب صرف گوشت اور ٹوٹی ہوئی ہڈیاں تھیں۔‘

Image caption ’کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ مجھے ہلاک کیا جا سکتا ہے۔ مگر مجھے لڑنا ہے۔ میں رکنے والی نہیں۔‘ خواتین جرگے کی بانی رکن تبسّم عدنان

تاج محل کا کہنا تھا کہ ’جب میں نے اپنی بیٹی کو دیکھا تو ایسا محسوس کیا جیسے میرے دل کا ایک ٹکڑا نکال لیا گیا ہے۔اس کا چہرہ میری نظروں کے سامنے آتا ہے، مجھے اُس کی ہنسی یاد آتی ہے۔‘

نورینہ کے شوہر اور ساس سسر کے خلاف اب قتل کی فردِ جرم عائد کی گئی ہے مگر تاج محل کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر عدالتوں نے کوئی دلچسپی نہیں دکھائی تھی۔

’جب بھی ہم جج کے سامنے درخواست لے کر جاتے تھے وہ انہیں پھاڑ کر پھینک دیتے تھے۔ اب ہماری آواز اس جرگے کی وجہ سے سنی جا رہی ہے۔ اب ہمیں انصاف ملے گا۔ جرگے سے پہلے شوہر جو چاہے اپنی بیویوں کے ساتھ کر سکتے تھے۔‘

سوات کے سب سے بڑے شہر منگورہ کی مصروف شاہراہوں پر خواتین کم ہی نظر آتی ہیں۔ رکشے اور ٹیکسیاں چھوٹی چھوٹی دوکانوں کے سامنے سے گزرتی جاتی ہیں۔ پھل فروش اور حلوائی سبھی نظر آتے ہیں مگر سبھی مرد ہیں۔

جب ہم نے مقامی مردوں سے خواتین جرگے کے بارے میں پوچھا تو ان کی رائے حیران کن تھی۔ زیادہ تر مرد اس کی حمایت کرتے ہیں۔

ایک پھل فروش کا کہنا تھا ’یہ ایک اچھی چیز ہے۔ عورتوں کو اپنے حقوق کا پتا ہونا چاہیے اور انھیں حقوق ملنے چاہیئیں۔‘

مردوں کے مقامی جرگہ کا خواتین جرگے کے بارے میں ردِ عمل قدرے متوقع تھا۔ انھوں نے اسے یہ کہہ کر رد کر دیا کہ خواتین کے پاس اپنے فیصلوں پر عمل کروانے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔

انسانی حقوق کی کارکن طاہرہ عبداللہ نے بھی اسی موقف کو دہرایا۔ وہ کہتی ہیں ’میرے خیال میں یہ ایک شوشے سے زیادہ کچھ نہیں۔ ان خواتین کی کون سنے گا؟ کلاشنکوفوں والے مرد؟ خواتین مخالف طالبان؟ ہمارا مرد پرست معاشرہ؟‘

طاہرہ عبداللہ چاہتی ہیں کہ جرگے ختم کر دیے جائیں، چاہے مردوں کے ہوں یا خواتین کے۔ ’جرگہ نظام غیر قانونی ہے۔ اسے پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ نے غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔ یہ کبھی بھی منصفانہ نہیں ہو سکتا۔ ایسے کچھ کیس ہیں جہاں ان جرگوں سے عورتوں یا غیر مسلموں کو انصاف نہیں ملتا۔‘

ان میں سے ایک ایسا کیس گذشتہ سال پاکستان کے شمالی علاقے کوہستان میں پیش آیا تھا جہاں ایک جرگے نے مبینہ طور پر پانچ خواتین اور دو مردوں کو مقامی روایات کی خلاف ورزی کے جرم میں موت کی سزا سنا دی تھی۔ ملزمان نے ایک شادی کے موقع پر اکٹھے گانے گائے اور رقص کیا تھا۔

اس کے علاوہ اکثر ایسا سننے میں آتا ہے کہ جرگے تنازعات کے حل کے لیے ایک خاندان کی خواتین یا بچیوں کو بطور جرمانہ دوسرے خاندان کے حوالے کر دیتے ہیں۔

اسی بارے میں