گوادر: کوسٹ گارڈ کی پوسٹ پر حملہ، سات ہلاک

پاکستان کے صوبے بلوچستان کے ساحلی ضلع گوادر میں شد ت پسندوں کے ایک حملے میں کوسٹ گارڈز کے کم از کم سات اہلکار ہلاک اور چھ سے زائد زخمی ہو گئے۔

یہ واقعہ سینیچر کی صبح پاکستان اور ایران کی سر حد سے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر پیش آیا۔

بلوچستان کے سیکرٹری داخلہ اکبر حسین درانی نے بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم کو کو بتایا کہ اس علاقے میں نامعلوم شدت پسندوں نے کوسٹ گارڈز کی ایک چیک پوسٹ پر حملہ کیا۔

کوئٹہ: تیس سے زائد مشتبہ افراد گرفتار

’انٹیلی جنس ادارے تعاون کو یقینی بنائیں‘

ان کا کہنا تھا کہ اس حملے میں کوسٹ گارڈز کے کم از کم سات اہلکار ہلاک اور چھ سے زائد زخمی ہو گے۔ اکبر حسین درانی کے مطابق حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

کمشنر مکران ڈوژن فتح بنگر کا کہنا ہے کہ اس حملے کے بعد کوسٹ گارڈ کے دو اہلکار لاپتہ بھی ہوئے ہیں جبکہ حملے میں ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے کوششوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ فورسز جائے وقوع پر روانہ کر دی گئی ہیں تاہم ابھی تک کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی ہے۔

ادھر کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

تنظیم کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کوسٹ گارڈ کے دو اہلکار تنظیم کی تحویل میں ہیں اور اس حملے میں ان کے دو ساتھی بھی زخمی ہوئے ہیں۔

ضلع گوادر بلوچستان کے مکران ڈویژن کا حصہ ہے اور اس کا شمار شورش زدہ علاقوں میں ہوتا ہے۔

اس واقعہ سے قبل بھی گوادر میں کوسٹ گارڈز سمیت قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں پر اس طرح کے حملے ہوتے رہے ہیں۔

گذشتہ سال جولائی کے مہینے میں گوادر کے ایک اور علاقے پشکان میں کوسٹ گارڈ کے آٹھ اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

اپنی محل وقوع اور طویل ساحلی پٹی کی وجہ سے گوادر کو اسٹریٹیجک اہمیت حاصل ہے۔

یہاں تعمیر کی جانے والی بندرگاہ کو نہ صرف ایک چینی کمپنی کے حوالے کیا گیا بلکہ وزیر اعظم محمد نواز شریف نے اپنے حالیہ دورۂ چین کے موقع پر پاکستان اور چین کے درمیان اکنامک کوریڈور کے حوالے سے سمجھوتوں پر جو دستخط کیے ہیں ان میں سے بعض اسی ضلع گوادر سے متعلق ہیں۔

اسی بارے میں