خیبر پختون خوا: ملک کی پہلی ’موبائل کورٹ‘

Image caption موبائل عدالت کے قیام کے لیے ایک خصوصی گاڑی تیار کی گئی ہے جو جدید سہولیات سے آراستہ ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خوا میں ملک کی تاریخ کی پہلی موبائل کورٹ یا گشت کرنے والی عدالت کا آغاز کر دیا گیا ہے جس کے تحت اب عام شہری فون کر کے عدالت کو اپنے علاقے میں مدعو کر سکیں گے۔

پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس دوست محمد خان نے سنیچر کو موبائل عدالت کا باقاعدہ افتتاح کیا جس کے ساتھ ہی ہائی کورٹ کے احاطے میں کھڑی موبائل عدالت نے پہلے دن اپنے کام کا آغاز کرتے ہوئے معمولی نوعیت کے چھ کسیز کو نمٹایا۔

عوام آن لائن ایف آئی آر کے نظام سے خوش

پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس

اس موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے چیف جسٹس دوست محمد خان نے کہا کہ موبائل عدالت کے اجراء کا مقصد غریب اور لاچار عوام کو ان کی دہلیز پر سستا انصاف فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دور دراز کے علاقوں میں رہنے والے غریب افراد کو اب اپنے مقدمات کی پیروی کے لیے پشاور یا دیگر بڑے شہروں میں جانا نہیں پڑے گا بلکہ عدالت خود ان کے علاقے میں آئیگی۔

انہوں نے کہا کہ اب لوگوں کے تنازعات یونین کونسل اور علاقے کے سطح پر حل ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فری سروس ہے جس کے تحت کوئی بھی شہری فون کر کے عدالت کو اپنے شہر میں بلا سکے گا اور اس حوالے سے ان سے کوئی فیس وصول نہیں کی جائے گی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اس منصوبے کی کامیابی کے لیے ابتدائی طور پر تربیت کا مرحلہ بھی مکمل کر لیا گیا ہے اور اس سلسلے میں نو جج صاحبان اور اٹھارہ وکلاء کو ٹریننگ دی گئی ہے۔

Image caption ہ فری سروس ہے جس کے تحت کوئی بھی شہری فون کر کے عدالت کو اپنے شہر میں بلا سکے گا

سکیورٹی کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ جس علاقے میں موبائل کورٹ کام کرے گی وہاں سکیورٹی بڑھائی جائیگی۔

موبائل عدالت کے قیام کے لیے یو این ڈی پی کے تعاون سے ایک خصوصی گاڑی تیار کی گئی ہے جو جدید سہولیات سے آراستہ ہے۔ اس گاڑی میں جج، وکلاء اور پیشی بھگتنے والے افراد کے لیے الگ الگ چیمبرز بنائے گئے ہیں۔

پشاور ہائی کورٹ میں موبائل کورٹ منصوبے کی انچارج محترمہ رفعت عامر نے بی بی سی کو بتایا کہ موبائل عدالت کے لیے یہ طریقہ کار بنایا گیا ہے کہ جس علاقے سے زیادہ شکایات موصول ہوں گی وہاں عدالت جا کر لوگوں کے کیسسز سنے گی اور موقع پر احکامات جاری کریگی۔

انہوں نے کہا کہ ابتدائی طورپر اس عدالت میں معمولی نوعیت کے دیوانی اور فوجداری تنازعات حل کیے جائیں گے تاہم وقت کے ساتھ ساتھ اس کا دائرہ وسیع کیا جاسکتا ہے۔

اسی بارے میں