زہریلی شراب پینے سے 18 افراد ہلاک

Image caption پاکستان میں صرف غیر مسلموں کو شراب خریدنے کی اجازت ہے

پاکستان میں حکام کے مطابق زہریلی شراب پینے سے کم از کم اٹھارہ افراد ہلاک جبکہ درجنوں بیمار ہوگئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق متاثرین میں سے بیشتر یا تو مسلمان ہیں یا پھر عیسائی مزدور۔ زہریلی شراب کے استعمال کے یہ واقعات وسطی فیصل آباد میں دو مختلف تقریبات میں پیش آئے۔

گوجرانوالہ: کھانسی کا شربت پینے سے سولہ ہلاک

پاکستان میں صرف غیر مسلموں کو شراب خریدنے کی اجازت ہے تاہم بہت سے لوگ غیر قانونی طور پر شراب کشید کرتے ہیں۔

صوبائی گورنر نے ان واقعات کی تفتیش کا حکم دے دیا ہے۔

حکام کا کہنا تھا کہ ایک سالگرہ کی تقریب میں لوگ شراب پینے کے بعد بے ہوش ہونے لگے۔ ان میں سے بیشتر ہسپتال لے جانے سے پہلے ہی ہلاک ہوگئے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کو سینیئر پولیس اہلکار جاوید احمد خان نے بتایا کہ ہلاکتوں کی تعداد اٹھارہ ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مزید دو درجن افراد زیرِ علاج ہیں۔

شراب پینے والے اکثر رمضان کے ماہ میں غیر قانونی طور پر کشید کی گئی شراب کا استعمال کرتے ہیں کیونکہ وہ دکانیں بند ہوتی ہیں جہاں سے غیر مسلم قانونی طور پر شراب حاصل کر سکتے ہیں۔

اسی بارے میں