صدارتی امیدواروں کی اتحادیوں سے امید

Image caption ممنون حسین دوسرے رفیق تارڑ بننے جا رہے ہیں: شرجیل میمن

پاکستان کے صدارتی انتخابات میں شریک امیدوار ممنون حسین اور جسٹس ریٹائرڈ وجیھ الدین احمد صوبہ سندھ سے تعلق رکھتے ہیں تاہم دونوں کی جماعتوں مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کو صوبائی اسمبلی میں اکثریت حاصل نہیں اور ان کا تکیہ اتحادیوں پر ہے۔

سندھ اسمبلی میں اس وقت ارکان کی تعداد 168 کی بجائے 162 ہے، جس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے 90، متحدہ قومی موومنٹ کے 48، مسلم لیگ ن کے 6، مسلم لیگ فنکشنل کے 10، تحریک انصاف کے 4، نیشنل پیپلز پارٹی جس کو مسلم لیگ ن میں ضم کردیا گیا کے دو ارکان اور ارباب گروپ کا ایک رکن ہے۔

ایم کیو ایم کا ممنون کی حمایت کا اعلان

مسلم لیگ فنکشنل پہلے ہی مسلم لیگ ن کی اتحادی جماعت ہے اور ارباب غلام رحیم بھی ان کی حمایت کر چکے ہیں۔ پچھلے دنوں متحدہ قومی موومنٹ نے ممنون حسین کی حمایت کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد سندھ میں مسلم لیگ ن کے امیدوار کی پوزیشن مستحکم ہوگئی ہے۔

اس سے پہلے سابق صدر جنرل پرویز مشرف اور موجودہ صدر آصف علی زرداری سندھ اسمبلی سے اکثریتی ووٹ لیکر کامیاب ہوئے تھے۔ ان دونوں کا تعلق بھی صوبہ سندھ سے تھا۔

سندھ کی حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے صدارتی انتخابات کے بعد اسمبلی کے اجلاس کے بھی بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ بائیکاٹ کی وجہ غیر ذمے دارانہ رویے اور یک طرفہ فیصلہ ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ چند لوگوں کی وجہ سے سپریم کورٹ کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔

شرجیل میمن کے مطابق ممنون حسین دوسرے رفیق تارڑ بننے جا رہے ہیں اور ان کا ریموٹ کنٹرول میاں نواز شریف کے ہاتھ میں ہوگا۔

مسلم لیگ ن نے سندھ میں صدارتی امیدوار کے لیے ایم کیو ایم کی حمایت تو حاصل کر لی ہے، لیکن تنظیمی طور پر اسے مشکلات اور دباؤ کا سامنا ہے۔ مرکزی قیادت کے فیصلے سے خاص طور پر سندھی قیادت ناراض نظر آتی ہے، جس نے قیادت کو مشورہ دیا ہے کہ ایم کیو ایم سے اتحاد نہ کیا جائے کیونکہ اس سے ان کی ساکھ متاثر ہوگی۔

مسلم لیگ کی انتخابی اتحادی قوم پرست جماعتوں نے بھی شکوہ کیا ہے کہ ان سے مشورہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے ایم کیو ایم کے ساتھ اتحاد پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

اسی بارے میں