بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان جیلوں پر حملوں میں مماثلت

Image caption حکومت نے جیلوں کی سکیورٹی کواتنا مضبوط نہیں بنایا

پیر کی رات سوا گیارہ بجے کے قریب سنٹرل جیل ڈیرہ اسماعیل خان کونشانہ بنا کرساتھیوں کو چھڑانے والے طالبان کا طریقۂ کار تقریباً وہی تھا جوگذشتہ سال پندرہ اپریل کی رات انہوں نے سینٹرل جیل بنوں پرحملے کے لیے استعمال کیا تھا۔

گذشتہ سال بنوں جیل پر ہونے والا یہ حملہ پاکستان کی تاریخ میں جیل توڑنے کا سب سے بڑا واقعہ تھا۔

بنوں جیل حملے میں حملہ آوروں نے اپنے ساتھیوں سمیت بہت سارے لوگوں کو رہائی دلوائی تھی جن میں سے کچھ فرار ہونے والے دوسرے دن خود ہی واپس آگئے تھے کیونکہ یا تو ان کے خلاف درج مقدمات اتنی معمولی نوعیت کے تھے کہ جن کی سزا اگر ہو بھی جاتی تو وہ شاید اس سے کم ہی ہوتی جو جیل سے بھاگنے پر ان کو ہونی تھی یا وہ اپنی سزائیں تقریباً مکمل کر چکے تھے۔

یاد رہے کہ بنوں جیل حملے میں کوئی پولیس اہلکار ہلاک نہیں ہوا تھا تاہم چار اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان کے حملے میں چھ پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں جبکہ تیرہ افراد زخمی ہیں۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ تیرہ زخمی افراد میں سے کتنے پولیس اہلکار ہیں۔

اسی بارے میں