بینظیر کیس: مشرف پر فردِ جرم 6 اگست کو

سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں سابق فوجی صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف سمیت دیگر ملزمان پر فرد جُرم چھ اگست کو عائد کی جائے گی۔

عدالت نے پولیس کے حکام کو پرویز مشرف سمیت دیگر ملزمان کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔

جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو منگل کے روز سخت سکیورٹی میں اُن کے فارم ہاؤس سے اس مقدمے کی سماعت کرنے والی راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

عدالت نے ملزم پرویز مشرف کے علاوہ دیگر نامزد ملزمان جن میں راولپنڈی پولیس کے سابق سربراہ ڈی آئی جی سعود عزیز اور ایس ایس پی خُرم شہزاد بھی شامل ہیں کو مقدمے کے چالان کی نقول تقسیم کی گئیں۔

اس مقدمے کی تفتیش کرنے والی ایف آئی اے کی ٹیم نے پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو کے قتل میں پرویز مشرف کو مرکزی ملزمان میں شامل کیا ہے۔

سابق فوجی صدر پرویز مشرف اس مقدمے میں ضمانت پر ہیں اور ایف آئی اے نے اس عدالتی فیصلے کو ابھی تک ہائی کورٹ میں چیلنج نہیں کیا۔ سعود عزیز اور خُرم شہزاد بھی ان دنوں اس مقدمے میں ضمانت پر ہیں۔ اس مقدمے میں دیگر پانچ ملزمان گرفتار ہیں جو ان دنوں راولپنڈی کی اڈیالہ کیل میں ہیں۔

گُزشتہ سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے تھے کہ اگر اگلی سماعت پر ملزم پرویز مشرف کو عدالت میں پیش نہ کیا گیا تو پھر عدالت اُنہیں جیل منتقل کرنے کے احکامات جاری کرے گی۔

پرویز مشرف کو سکیورٹی خدشات کی بنا پر اُن کے فارم ہاؤس میں رکھا ہوا ہے جسے عدالت نے سب جیل قرار دیا ہوا ہے۔

سابق آرمی چیف کے خلاف تین مقدمات درج ہیں جن میں سے دو پر وہ ضمانت پر ہیں۔ ان مقدمات میں بینظیر بھٹو کے قتل کے علاوہ اعلی عدلیہ کے ججز کو حبس بےجا میں رکھنے کا مقدمہ بھی شامل ہے۔

راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پرویز مشرف کے اکاؤنٹس اور اثاثے بھی بحال کردیے ہیں۔ یہ اثاثے سابق فوجی صدر کے اس مقدمے میں اشتہاری قرار دیے جانے کے بعد ضبط کیے گئے تھے۔

دوسری طرف بلوچستان ہائی کورٹ نے صوبے کے سابق وزیر اعلی نواب اکبر بُگٹی کے قتل میں پرویز مشرف کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی ہے جبکہ اس مقدمے کی سماعت کونے والے کوئٹہ کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ ملزم پرویز مشرف کو اُنیس اگست کو پیش کریں۔

اسی بارے میں