گیارہ میں سے پانچ صدور فوجی تھے

سکندر مرزا سے غلام اسحاق خان تک

30 جولائی کو پاکستان کے آئین کے مطابق قومی اسمبلی، سینیٹ اور چاروں صوبائی اسمبلیاں ملک کے 12ویں صدر کا انتخاب کریں گی۔ اس سے قبل پاکستان کے جو صدور گزرے ہیں ان میں سے سب آئینی طریقے سے منتخب نہیں ہوئے تھے، جب کہ 11 میں سے پانچ صدور فوجی تھے۔

اس کے علاوہ وسیم سجاد دو مرتبہ ملک کے عبوری صدر منتخب ہوئے۔

پاکستان کے پہلے صدر میجر جنرل سکندر مرزا تھے جو 23 مارچ 1956 سے 27 اکتوبر 1958 تک اس عہدے پر فائز رہے۔ اس سے قبل وہ پاکستان کے آخری گورنر جنرل بھی رہ چکے تھے۔ 1956 میں جب پاکستان کا پہلا آئین منظور کیا گیا تو اس میں گورنر جنرل کا عہدہ ختم کر کے صدارت کا منصب تخلیق کیا گیا، جس کا انتخاب الیکٹرل کالج کے ذریعے ہونا تھا۔

تاہم صرف دو سال بعد ہی سکندر مرزا جس آئین کے تحت صدر بنے تھے، انھوں نے اسی آئین کو معطل کر کے مارشل لا نافذ کر دیا اور جنرل ایوب خان کو چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر مقرر کر دیا۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا پہلا مارشل لا تھا۔

27 اکتوبر 1958 کو سکندر مرزا نے ایوب خان سے اختلافات کی بنا پر استعفیٰ پیش کر دیا اور جنرل ایوب خان نے صدر کا منصب سنبھال لیا۔

ایوب خان کو الیکٹرل کالج نے منتخب نہیں کیا تھا بلکہ انھوں نے یہ ساغر خود بڑھ کے اٹھایا تھا۔ تاہم اپنے عہدے کو قانونی چھتری فراہم کرنے کے لیے انھوں نے 1960 میں ریفرینڈم منعقد کروایا، جس میں انھیں بھاری حمایت فراہم ہو گئی۔

ایوب خان گیارہ سال کے لگ بھگ صدارت کے عہدے پر براجمان رہے۔ اس دوران ایک اور آئین منظور کیا گیا جس میں ان کی صدارت کی توثیق کی گئی۔ جب کہ اسی دوران انھوں نے محترمہ فاطمہ جناح سے انتخابات میں بھی کامیابی حاصل کی۔

ان انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کے بعد ایوب کی حکومت کے خلاف عوامی ناپسندیدگی جس رفتار سے بڑھتی گئی، اسی رفتار سے ایک شعلہ بیان سیاست دان یعنی ذوالفقار علی بھٹو کا ستارہ بلند ہوتا گیا۔ بالآخر 25 مارچ 1969 کو ایوب خان نے اپنا عہدہ جنرل آغا محمد یحییٰ خان کے سپرد کر کے بن باس لے لیا۔

یحییٰ خان کو پاکستان سیاسی تاریخ کا سب سے رنگین و سنگین کردار کہا جائے تو بے جا نہیں ہو گا۔ انھوں نے پاکستان میں دوسری بار مارشل لا نافذ کیا۔ انھیں بڑے پیمانے پر مشرقی پاکستان کی علیٰحدگی کا ذمے دار سمجھا جاتا ہے۔ ان کے شراب و شباب کے رسیا ہونے کے قصے بھی مشہور ہیں، تاہم ان کے نامۂ اعمال میں یہ نیکی ضرور لکھی ہوئی ہے کہ انھوں نے 1971 میں ملک کی تاریخ کے سب سے صاف و شفاف انتخابات منعقد کروائے۔

تاہم بھارت سے بدترین شکست اور ملک کے دولخت ہونے پر رائے عامہ ان کے اس قدر غیر موافق ہو گئی کہ ان کا مزید اپنے عہدے پر برقرار رہنا ناممکن ہو گیا۔ چناں چہ وہ 20 دسمبر 1971 کو عنانِ اقتدار ذوالفقار علی بھٹو کو سونپ کر چلتے بنے۔

ذوالفقار علی بھٹو کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ پاکستان کے وزیرِ خارجہ، وزیرِ اعظم اور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کے ساتھ ساتھ ڈیڑھ برس تک ملک کے صدر بھی رہے ہیں۔ 1971 میں ان کی جماعت نے مغربی پاکستان میں واضح برتری حاصل کی تھی، جس کے باعث وہ 1973 میں وزیرِاعظم منتخب ہو گئے۔

بھٹو کے دورِ وزارتِ عظمیٰ میں ملک کے صدر چودھری فضل الٰہی چوہدری تھے۔ 1973 کے آئین کے تحت ملک کو پارلیمانی جمہوریت بنا دیا گیا تھا جس میں اختیارات کا طرہ منتخب پارلیمان اور وزیرِاعظم کے سروں پر سجا دیا گیا، جس کے بعد صدر کا عہدہ فائلوں پر دستخط کرنے اور تقریبات میں فیتہ کاٹنے تک سمٹ کر رہ گیا۔ بعض ستم ظریفوں نے صدارت اسی بے توقیری کے پیشِ نظر ایوانِ صدارت کی دیواروں پر لکھ دیا تھا، ’چودھری فضل الٰہی کو رہا کرو۔‘

بھٹو نے وہی غلطی کی جو ان سے قبل سکندر مرزا اور جنرل ایوب خان کر چکے تھے، یعنی فوج کے سربراہ کا ناعاقبت اندیشانہ چناؤ۔ اس کا خمیازہ انھیں یوں بھگتنا پڑا کہ جنرل ضیاالحق 1977 میں انھیں معزول کر کے ملک کے تیسرے چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بن گئے۔ چودھری فضل الٰہی نے کچھ عرصہ ساتھ نبھایا لیکن تابکے؟ آخر 14 ستمبر 1978 کو وہ سبک دوش ہو گئے، جس کے دو دن بعد جنرل ضیاالحق نے صدرِ پاکستان کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا۔

اس مدتِ صدارت کو توسیع دینے کے لیے جنرل ایوب کی مانند جنرل ضیا کو بھی ریفرینڈم کی بیساکھیوں کی ضرورت پڑی۔ چناں چہ 1984 میں انھوں نے وہ بے حد متنازع ریفرینڈم منعقد کروایا جس میں وہ 95 فیصد ووٹ لے کر سرخ رو ہوئے۔

اگلے برس ضیاالحق نے غیرجماعتی انتخابات منعقد کروائے۔ نومنتخب اسمبلی نے نہ صرف ضیاالحق کے تمام سابقہ اقدامات کی توثیق کر دی بلکہ آٹھویں ترمیم بھی منظور کر دی جس کی بدنامِ زمانہ 58- 2B شق کے تحت صدر کو اسمبلی کو تحلیل کرنے کا اختیار حاصل ہو گیا۔

اب صدر محض چودھری فضل الٰہی نہ رہا بلکہ اس کے سامنے وزیرِاعظم اور پارلیمان ربر سٹیمپ بن کر رہ گئے۔

17 اگست 1988 کو گیارہ برس کے بعد صدر ضیاالحق کے اقتدار کا سورج اس وقت غروب ہوا جب ان کا طیارہ بہاولپور کے قریب فضا میں پھٹ کر تباہ ہو گیا۔

1973 کے آئین کے تحت صدر کی غیرموجودگی میں سینیٹ کا چیئرمین صدر بن جاتا ہے۔ اس وقت سینیٹ کے چیئرمین غلام اسحٰق خان تھے، چناں چہ وہ ملک کے پانچویں صدر بن گئے۔

غلام اسحاق خان سے زرداری تک

جب 16 نومبر کو انتخابات ہوئے تو پیپلزپارٹی ایک بار پھر اقتدار میں آ گئی۔ تاہم بے نظیر بھٹو کی حکومت نے مصلحتاً جنرل ضیا کے محرمِ دروں خانہ غلام اسحٰق خان ہی کو صدر جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ خاصا بھاری ثابت ہوا اور جی آئی کے نے دو سال کے اندر اندر ہی بے نظیر بھٹو کی حکومت کی بساط لپیٹ دی۔

اس کے بعد نواز شریف کی حکومت آئی۔ شروع شروع میں تو ان کی حکومت کی غلام اسحٰق خان کے ساتھ خوب پینگیں بڑھیں لیکن رفتہ رفتہ حالات خراب ہوتے گئے اور نوبت بہ ایں جا رسید کہ نواز شریف ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے جولائی 1993 میں نہ صرف خود وزارتِ عظمیٰ سے ہاتھ دھو لیے بلکہ غلام اسحٰق خان کو بھی ساتھ لے ڈوبے۔

یہ سیاسی میوزیکل چیئر کا زمانہ تھا، کبھی ہم کبھی تم۔ ایک بار پھر بے نظیر بھٹو اقتدار میں آ گئیں۔ اس بار انھوں نے کسی اور جماعت کے صدر پر بھروسا کرنے کی بجائے اپنی جماعت کے فاروق احمد لغاری کو بھاری اکثریت سے صدر منتخب کرا دیا۔ لیکن نومبر 1996 میں جن پہ تکیہ تھا، انھی پتوں نے ہوا دے دی اور ایک بار پھر بے نظیر بھٹو کی حکومت کو معزول کر دیا گیا۔

نواز شریف ایک بار پھر وزیرِاعظم بن گئے۔ اور جیسا کہ ہوتا آیا ہے، زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ ان کے فاروق لغاری کے ساتھ اختلاف پیدا ہو گئے۔ نواز شریف چوں کہ پہلے ہی ایک سوراخ سے ڈسے ہوئے تھے اس لیے انھوں نے آتے ہی بھاری مینڈیٹ کے زنبور سے آٹھویں ترمیم کا ڈنک نکلوا دیا۔ فاروق لغاری کو چودھری فضل الٰہی بننا منظور نہیں تھا، اس لیے دو دسمبر 1997 کو انھوں نے تنگ آ کر استعفیٰ دے دیا۔

فاروق لغاری کے بعد سپریم کورٹ کے سابق جج اور نواز شریف کے معتمد محمد رفیق تارڑ ملک کے صدر بنے۔ ان کے دورِ میں چوں کہ صدر کے خصوصی اختیارات ختم ہو چکے تھے، اس لیے ایک بار پھر لوگوں کو چودھری فضل الٰہی کی یاد آ گئی۔

نواز شریف نے ماضی سے سبق نہ سیکھتے ہوئے جنرل پرویز مشرف کو خصوصی ترقی دے کر آرمی چیف بنا دیا۔ جب جنرل مشرف نے 12 اکتوبر 1999 کو نواز شریف کی حکومت کو برطرف کیا تو اپنے لیے چیف ایگزیکیٹو کا عہدہ منتخب کیا اور رفیق تارڑ کو صدر رہنے دیا۔ لیکن انھیں محسوس ہوا کہ ملک کے دوسرے فوجی سربراہان کی طرح ان پر صدارت ہی سجے گی، اس لیے انھوں نے بھی ایک ریفرینڈم منعقد کروایا اور رفیق تارڑ کو گھر بھجوا کر 20 جون 2001 میں خود صدارت کا حلف اٹھا لیا۔

تاہم مشرف کی یہ صدارت رفیق تارڑ اور چودھری فضل الٰہی کی طرح بے ضرر نہیں تھی، بلکہ انھوں 58- 2B کا گڑا مردہ نکالا اور اسے جھاڑ پونچھ کر اسمبلی اور وزیرِاعظم کے سر پر داموکلس کی تلوار کی طرح لٹکا دیا۔ اس کا خاطر خواہ اثر ہوا اور منتخب وزیرِاعظم اٹھتے بیٹھتے ’یس باس‘ کا ورد کرنے لگے۔

انھی بھاری اختیار کے ساتھ 2007 میں ایک بار پرویز مشرف کے سر پر صدارت کا سہرا سجایا گیا۔ اس بار انھیں الیکٹرل کالج نے منتخب کیا تھا۔

2008 کے انتخابات میں پیپلزپارٹی کی حکومت بنی، اور اس کے چند ماہ کے اندر اندر ہی حالات نے کچھ ایسا پلٹا کھایا کہ پرویز مشرف کو نہ صرف ایوانِ صدر بلکہ ملک ہی کو خیرباد کہنا پڑ گیا، اور آصف علی زرداری گیارھویں صدر منتخب ہو گئے۔ ویسے تو ملک میں ان کی مخالفت جاری رہی، لیکن یہ کریڈٹ انھیں ضرور دینا پڑے گا کہ وہ 58- 2B سے دست بردار ہو گئے۔ تاہم ان کا اپنی پارٹی پر شکنجہ اتنا مضبوط تھا کہ انھیں بقیہ ماندہ مدتِ وزارت میں کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔

30 جولائی کے انتخابات کے بعد ملک کی تاریخ میں پہلی بار ایک آئینی صدر اپنی مدتِ صدارت ختم کر کے کسی دوسرے آئینی صدر کو صدارت منتقل کرے گا۔

اسی بارے میں