’حملہ آور آرام سے داخل ہوئے اور پہلے روح افزا پیا‘

Image caption جیسے ہی پہلا فائر ہوا جیل میں موجود قیدیوں نے اپنی تیاری شروع کر دی: علی امین

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے وزیرِ مال علی امین نے کہا ہے کہ سینٹرل جیل ڈیرہ اسماعیل خان پر ہونے والا حملہ پہلے سے طے شدہ تھا اور جیل میں موجود لوگوں کو پتہ تھا کہ حملہ آور آنے والے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ جیسے ہی پہلا فائر ہوا جیل میں موجود قیدیوں نے اپنی تیاری شروع کر دی۔

علی امین کے مطابق ’حملہ آور بہت آرام سے جیل میں گھسے، انھوں نے پہلے روح افزا پیا۔ اس کے بعد انھوں نے کچھ لوگوں کو چن چن کر مارا۔‘

ڈی آئی خان جیل پر حملہ، طالبان 243 قیدی چھڑا لے گئے

سینٹرل جیل پر حملے کی تصاویر

وزیرِ مال علی امین نے بدھ کو ڈیرہ اسماعیل خان کے سینٹرل جیل کا دورہ کیا۔

انہوں نے بتایا ’حملہ آوروں کے پاس سپیکر بھی تھے اور وہ سپیکر پر اعلان کر رہے تھے کہ فلاں فلاں باہر آ جائے اور جب ان کے بندے باہر آتے تو حملہ آور انھیں اسلحہ دیتے اور وہ ان کے ساتھ مل جاتے اور یہ کارروائی تین گھنٹوں تک جاری رہی۔‘

علی امین کے مطابق جیل والوں نے شروع میں تھوڑی بہت مزاحمت کی۔ ’لیکن جیل والوں نے بزدلی دکھائی، انھوں نے حملہ آوروں کے خلاف لڑائی نہیں کی بلکہ یہ لوگ ڈر کر چھپ گئے جس کا ثبوت یہ ہے دہشت گردوں نے شروع میں فائرنگ کر کے پولیس کے پانچ افراد کو ہلاک کر دیا۔‘

ان کا کہنا تھا پولیس کا سپاہی، کوئی تھانے کا ایس ایچ او، ڈیس ایس پی سارے کے سارے کہاں تھے کیونکہ دہشت گرد تین گھنٹوں تک جیل میں گھسے رہے اور پھر وہاں سے چلے گئے۔

علی امین نے کہا صوبائی حکومت واقعے کے ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دے گی کیونکہ یہ سب کے سب سفارش پر بھرتی ہوئے ہیں اور ان کی بھرتی ایم این اے اور ایم پی اے کے کوٹے کے تحت عمل میں آئی اور اسی وجہ سے یہ کام نہیں کر رہے۔ ’یہ لوگ پولیس کی وردی پہنتے ہیں اور عوام کے ٹیکس پر نتخواہ اور مراعات لیتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ جیل والوں نے دہشت گردوں کا مقابلہ نہیں کیا بلکہ یہ لوگ حملے کے وقت نالوں میں گھس گئے اور جوابی فائر بھی نہیں کر رہے تھے۔

Image caption وزیرِ مال علی امین نے بدھ کو ڈیرہ اسماعیل خان کے سینٹرل جیل کا دورہ کیا

ایک سوال کہ انٹیلیجنس اداروں نے جیل انتظامیہ کو اس حملے کی پہلے سے باخبر کر دیا تھا کہ اس طرح کا حملہ ہو سکتا ہے کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ یہ بات بالکل صحیح ہے کہ انٹیلیجنس اداروں نے جب یہ خبر دی تو کمشنر نے ایک اجلاس طلب کیا جس میں تمام کمانڈرز موجود تھے۔

’اس اجلاس کے بعد انھوں نے اگلے دن جیل کو چیک کیا لیکن یہ پتہ نہیں کہ انھوں نے کیا چیک کیا اور کیا اقدامات جاری کیے۔ مگر اس کے باوجود پورا ڈیرہ اسماعیل خان دھماکوں سے گونج رہا تھا۔ ’جیل میں تین گھنٹوں تک دہشت گردوں کی کارروائی جاری رہی۔‘

انھوں نے کہا اس سے پہلے جب بنوں جیل میں حملہ ہوا تو ان کو برطرف کرنے کی بجائے ڈیرہ اسماعیل خان جیل بھیج دیا گیا جس کے بعد انھوں نے یہ کارنامہ انجام دیا۔

انھوں نے کہا کہ ان تمام افراد کو برطرف کیا جائے گا، جس جس نے بھی بزدلی کا مظاہرہ کیا ہے۔ وہ سب سے سب گھر جائیں گے کیونکہ حکومت کو ایسے افراد کی ضرورت نہیں ہے جو خطرے کے وقت دہشت گردوں کا سامنا کرنے کے بجائے گٹروں میں گھس جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ افراد کو برطرف کر کے نئی افراد کی میرٹ پر بھرتی کی جائے گی۔

اسی بارے میں