چیف الیکشن کمشنر فخرالدین جی ابراہیم مستعفی

Image caption جسٹس فخرالدین جی ابراہیم پچھلے سال تئیس جولائی کو چیف الیکشن کیمشنر کے عہدے پر فائز ہوئے

پاکستان کے الیکشن کمیشن کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ فخرالدین جی ابراہیم اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں اور اپنا استعفیٰ صدرِ مملکت کو بھجوا دیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے ترجمان خورشید عالم نے بی بی سی کے نامہ نگار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ چیف الیکشن کمیشن نے بدھ کو اپنا استعفیٰ صدر آصف علی زرداری کو بھجوا دیا ہے۔

جسٹس فخرالدین جی ابراہیم پچھلے سال تئیس جولائی کو چیف الیکشن کیمشنر کے عہدے پر فائز ہوئے۔

فخرالدین جی ابراہیم کے استعفے کا متن

غیر متنازع اور اصولوں کی پاسدار شخصیت

’صاف ستھرے الیکشن کرادوں بس یہی خواہش ہے‘

ان کے عہدے کی معیاد پانچ سال تھی جبکہ اس سے قبل اس عہدے کی معیاد تین سال کے لیے تھی۔

الیکشن کمیشن کے ترجمان نے بتایا کہ فخرالدین جی ابراہیم نے اپنے استعفے میں لکھا ہے کہ چونکہ عام انتخابات کے بعد نئی پارلیمنٹ اقتدار میں آگئی ہے لہٰذا اُس کو موقع دیا جائے کہ وہ نیا چیف الیکشن کمشنر نامزد کرے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ اس استعفے میں مذید کہا گیا ہے کہ دھمکیوں کے باوجود بھی الیکشن کمشن نے ملک میں عام انتخابات کے علاوہ صدارتی انتخابات بھی کروائے ہیں۔

گیارہ مئی کو ملک میں ہونے والے عام انتخابات کے نتائج کے اعلان کے بعد حزب مخالف کی سیاسی جماعتیں بالخصوص پاکستان تحریک انصاف الیکشن کمیشن کو شدید تنقید کا نشانہ بناتی رہی ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کا موقف ہے کہ عام انتخابات میں جو دھاندلی کی گئی ہے اُس کی مثال ملک کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ پاکستان تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کو قومی اسمبلی کے چار حلقوں میں ڈالے جانے ولے ووٹروں کے انگھٹوں کے نشان کی تصدیق کے لیے درخواست دی تھی جس پر مزکورہ سیاسی جماعت کے بقول کوئی عمل درآمد نہیں ہوا۔

سابق حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی ان انتخابی نتائج پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

ملک میں صدارتی انتخاب کے شیڈول میں تبدیلی کے بعد بھی حزب مخالف کی سیاسی جماعتوں نے بھی الیکشن کمیشن کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم پر الیکشن کمیشن نے صدارتی انتخاب کے شیڈول میں ترمیم کی جس کی بعد پاکستان پیپلز پارٹی نے اس صدارتی انتخاب کے عمل کا بائیکاٹ کیا تھا۔

پاکستان میں حکمران اتحاد اور پارلیمنٹ میں موجود حزب اختلاف کی بڑی جماعتوں کے درمیان سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس فخرالدین جی ابراہیم کو بطور چیف الیکشن کمشنر مقرر کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

فخر الدین جج ابراہیم سپریم کورٹ کے جج کے علاوہ سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، گورنر سندھ، اٹارنی جنرل اور وفاقی وزیر قانون کے عہدوں پر بھی فائز رہ چکے ہیں۔ گورنر، اٹارنی جنرل اور وزیر قانون کے عہدوں سے انھوں نے حکومت سے اختلافات کے بعد استعفیٰ دے دیا تھا۔

ان سے قبل چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ کافی عرصے سے خالی تھا اور حامد علی مرزا کے عہدے کی معیاد ختم ہونے کے بعد اس عہدے پر سپریم کورٹ کے ججز نے قائم مقام الیکشن کمشنر کے طور پر بھی کام کیا۔ ان ججز میں جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کے علاوہ جسٹس میاں شاکراللہ جان بھی شامل ہیں۔

اسی بارے میں