فخرالدین جی ابراہیم کے استعفے کا متن

پاکستان کے الیکشن کمیشن کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ فخرالدین جی ابراہیم اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں اور اپنا استعفیٰ صدرِ مملکت کو بھجوا دیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے ترجمان خورشید عالم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ چیف الیکشن کمیشن نے بدھ کو اپنا استعفیٰ صدر آصف علی زرداری کو بھجوا دیا ہے۔

فخرالدین جی ابراہیم کے استعفے کا متن:

فخرالدین جی ابراہیم نے اپنے استعفی میں لکھا ہے کہ وہ چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ قبول کرنے کو تیار نہیں تھے تاہم پارلیمان کے کچھ سینیئر ارکان کے کہنے پر انھوں نے یہ ذمہ داری قبول کی۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ واحد آدمی تھے جس پر حکومت اور حزب اختلاف کے ارکان متفق تھے۔

انھوں نے کہا کہ سیاسی کارکن، اساتذہ، وکلاء صحافی اور سکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی شدت پسندوں کا نشانہ بنے اور عام انتخابات میں مہم کے دوران ایک اُمیدوار کو بھی ان کے چھ سالہ بیٹے سمیت قتل کردیا گیا۔ جمہوری جدوجہد میں یہ لوگ اصل ہیرو ہیں۔

فخرالدین جی ابراہیم کا کہنا تھا کہ انھوں نے جہوری روایات کو زندہ رکھنے کے لیے اپنے تئیں بہت کوشش کی اور الیکشن کمیشن نے کسی دباؤ میں آئے بغیر تمام اُمیدواروں کو یکساں مواقع فراہم کیے۔

انھوں نے کہا کہ ذاتی دھمکیاں ملنے کے باوجود وہ اُن قوتوں کے خلاف کھڑے رہے جو عام انتخابات کا التوا چاہتی تھیں۔

فخرالدین جی ابراہیم نے کہا کہ اُن کی تقرری مشاورتی عمل مکمل ہونے کے بعد کی گئی۔

انھوں نے کہا کہ اُن کے عہدے کی معیاد سنہ 2017 ہ میں ختم ہو رہی ہے تاہم اُن کی رائے میں نئی منتخب پارلیمان کو یہ موقع دیا جانا چاہیے کہ وہ نئے الیکشن کمشنر کے لیے اتفاق رائے پیدا کرکے نیا الیکشن کمشنر مقرر کریں۔

انھوں نے کہا کہ نئے الیکشن کمشنر کے لیے کافی وقت ہوگا کہ وہ 2018 میں ملک میں ہونے والے عام انتخابات کے لیے تیاری کرسکیں۔

اسی بارے میں