ڈرون حملے نہیں رکیں گے، سٹریٹیجک ڈائیلاگ بحال

Image caption امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری اور سرتاج عزیز نے اسلام آباد میں صحافیوں سے بات چیت کی

پاکستان اور امریکہ نے سٹریٹیجک مذاکرات کی بحالی کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان جمعرات کو پاکستانی وزیراعظم کے خارجہ امور اور قومی سلامتی کے خصوصی مشیر سرتاج عزیز اور امریکہ کے وزیرِ خارجہ جان کیری نے اسلام آباد میں ایک مشترکہ نیوز کانفرنس میں کیا۔

کیا ہوا، کیا نہیں، کچھ پلے پڑا؟

شمالی وزیرستان میں ڈرون حملہ، دو ہلاک

پھر ڈرون حملہ، سترہ ہلاکتیں، پھر پاکستان کا احتجاج

نیوز کانفرنس سے پہلے امریکی وزیرِ خارجہ نے پاکستان کے وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف، برّی فوج کے سربراہ اشفاق پرویز کیانی، ڈی جی آئی ایس آئی اور دیگر پاکستانی اعلی حکام سے ملاقاتیں بھی کیں۔

پاکستانی وزیرِ اعظم کے مشیر سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ بہتر تجارتی تعلقات کا خواہاں ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکی مارکیٹوں تک بہتر رسائی اور پاکستان میں براہِ راست امریکی سرمایہ کاری بھی چاہتا ہے۔

ڈرون حملوں کے حوالے سے سرتاج عزیز نے پاکستان کے موقف دہرایا کہ ’یہ نہ صرف پاکستان کی خود مختاری کی خلاف ورزی ہے بلکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں نقصان دے بھی ثابت ہوئے ہیں‘۔

ڈرون حملوں کے حوالے سے امریکی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ ’امریکہ کے دشمنوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور صدر اوباما دہشتگردوں کے خلاف براہِ راست امریکی کارروائیوں کے حوالے سے ایک واضح اور جوابدہ پالیسی پیش کر چکے ہیں، تاہم دونوں ممالک کے خدشات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے بات چیت جاری ہے‘۔

Image caption امریکی وزیرِ خارجہ نے پاکستان کے وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف اور دیگر قیادت سے ملاقات بھی کی تھی۔

جان کیری کا کہنا تھا امریکہ پاکستان کے ساتھ دیرپا اور مضبوط تعلقات چاہتا ہے جو کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں معاونت یا کسی ایک موضوع تک محدود نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ پاکستان عوام کے معاشی مسائل اور تونائی کے بحران میں مدد گار ہونا چاہتا ہے۔

پاکستان اور بھارت کے تعلقات کے حوالے سے امریکی وزیرِ خارجہ نے دونوں ممالک کی جانب تعلقات میں بہتری کی کوششوں کو سراہا۔ اُن کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان اور بھارت اعتماد کے ساتھ ایک دوسرے کے ملک میں سرمایہ کاری کریں گے تو دنیا بھر کے سرمایہ کار اعتماد کے ساتھ اس خطے میں سرمایہ کاری کر سکے گا۔

یاد رہے کہ اس دورے سے پہلے امریکی وزیرِ خارجہ نے پاکستان کا دورہ سنہ دو ہزار گیارہ میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد کیا تھا۔

اسلام آباد میں بی بی سی نامہ نگار کم غٹاس کا کہنا ہے کہ واشنگٹن میاں نواز شریف کی حکومت کو اس بات کا احساس دلانا چاہتا ہے کہ پاکستان میں شدت پسندی اُن کے ملک کی معاشی بہتری کے عزائم کے لیے بھی خطرہ ہے۔

پاکستان نےگزشتہ برس 26 نومبر کو سلالہ چیک پوسٹ پر امریکی ہیلی کاپٹرز کے حملے میں چوبیس فوجیوں کی ہلاکت کے بعد افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کو پاکستان کے راستے تیل اور دوسری رسد کی فراہمی روک دی تھی۔ اس کے علاوہ صوبہ بلوچستان میں امریکہ کے زیر استعمال شمسی ائر بیس کو خالی کرایا گیا تھا۔

خیال رہے کہ مسلم لیگ ن کے اقتدار میں آنے کے بعد کسی بھی بڑے امریکی عہدے دار کا پاکستان کا یہ پہلا دورہ ہے۔

جان کیری کے دورۂ اسلام آباد کے موقع پر افغان میں قیام امن کے عمل کو آگے بڑھانے پر بھی بات چیت ہوئی۔

پاکستان افغانستان میں قیامِ امن کوششوں میں کردار ادا کرنے کی بات کرتا رہا ہے۔ اسی حوالے سے پریس کانفرنس میں جان کیری نے پاکستان کی طالبان کے ساتھ دوحا میں مذاکرات کے سلسلے میں معاونت کے لیے شکریہ ادا کیا۔ ایک سوال کے جواب میں جان کیری نے کہا کہ طالبان کے ساتھ دوحا میں مذاکرات ہوں یا نہ ہوں، اس سے امریکہ کی مجموعی طور پر افغانستان پالیسی پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کے خارجہ امور اور قومی سلامتی کے خصوصی مشیر سرتاج عزیز نے کابل کے اپنے حالیہ دورے کے دوران کہا تھا کہ اگر افغان رہنما چاہیں تو پاکستان افغانستان میں استحکام کے لیے افغان دھڑوں کے درمیان مذاکرات میں مدد دینے کے لیے تیار ہے۔

اسی بارے میں