چترال: سیلابی ریلے سے مکانات، پُل تباہ

Image caption اب تک ان سیلابی ریلوں کی وجہ سے کسی کی ہلاکت کی اطلاع نہیں ہے

پاکستان کے شمالی علاقے چترال میں شدید بارشوں اور سیلاب سے املاک کو شدید نقصان پہنچا ہے اور سیلابی ریلے کی وجہ سے چترال میں درجنوں مکانات اور چار پل تباہ ہوگئے ہیں۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق حالیہ بارشوں کی وجہ سے پچاس سے زیادہ گھر اور چار پل تباہ ہو چکے ہیں۔

ان سیلابی ریلوں کی وجہ سے وادیِ چترال کا اپنے ضلعی صدر مقام سے رابطہ بھی منقطع ہو گیا ہے۔

اب تک ان سیلابی ریلوں کی وجہ سے کسی کی ہلاکت کی اطلاع نہیں ہے۔

تاہم ریڈیو پاکستان کے مطابق چترال میں ایک سو سے زیادہ مکانات اور چھ پُل تباہ ہوئے ہیں۔

پاکستان کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے این ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین تفصیلات کے مطابق صوبہ خیبر پختون خوا میں دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر نچلے سے درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔

اسی طرح منگلا ڈیم میں درمیانے سے اونچے درجے کا سیلاب ہے۔

پنجاب میں دریائے چناب میں ہیڈ خانکی اور ہیڈ قادر آباد کے مقام پر درمیانے درجہ کا جبکہ ہیڈ مرالہ کے مقام پر درمیانے سے اونچے درجے کا سیلاب ہے۔

دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی کے مقام پر نچلے سے درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ملک کے باقی دریاؤں میں پانی کی سطح معمول کے مطابق ہے جبکہ دریائے جہلم، چناب، راوی، ستلُج کے اوپر کے علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیش گوئی ہے جس سے پانی کی مقدار میں اضافے کا خدشہ ہے۔