’میرے لیے نہیں عدلیہ کے لیے جیل کاٹی‘

Image caption حامد خان نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ یہ نوٹس واپس لیں لیکن عدالت ایسا کرنے پر آمادہ نظر نہیں آئی

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین نے توہینِ عدالت میں اظہار وجوہ کے نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے لیے آٹھ روز کے لیے جیل گئے تھے۔

عمران خان کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس وقت کسی اور سیاسی رہنما کو گرفتار نہیں کیا تھا، جس کے جواب میں چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عمران نے ان کی ذات کے لیے نہیں بلکہ عدلیہ کے لیے جیل کاٹی تھی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سنہ 2007 میں عدلیہ کی آزادی کی تحریک میں سول سوسائٹی وکلاء اور دیگر افراد نے ماریں بھی کھائیں بلکہ بعض افراد کو تو اپنی نوکریاں بھی گنوانی پڑیں مگر انھوں نے تو کبھی ایسی باتیں نہیں کیں۔

چیف جسٹس کے اس جواب کے بعد عمران خان روسٹم پر نہیں آئے اور ان کے وکیل حامد خان ہی بینچ کو مختلف سوالوں کا جواب دیتے رہے۔

حامد خان نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ یہ نوٹس واپس لیں لیکن عدالت ایسا کرنے پر آمادہ نظر نہیں آئی۔

بینچ میں موجود جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ جب کوئی شخص بغیر کسی ثبوت کےالزام عائد کرتا ہے تو پھر اسے نتائج کا بھی انتظار کرنا چاہیے۔

حامد خان نے عدلیہ کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کی کہ ان کے موکل نے آپ کو نہیں بلکہ ریٹرنگ افسران کے بارے میں کہا تھا کہ ان کا کردار شرمناک ہے لیکن عدالت یہ بات ماننے کو تیار نہیں تھی۔

عمران خان جب کمرۂ عدالت میں آئے تو کافی مطمعین دکھائی دے رہے تھے اور پارٹی کے دیگر رہنما بھی ان کے ہمراہ تھے۔

سماعت کے دوران تحریک انصاف کے سربراہ نے متعدد بار روسٹم پر آنے کی کوشش کی۔

کمرۂ عدالت میں موجود پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بار بار عمران خان کو روسٹم پر جانے کے بارے میں کہتے رہے تاہم ان کے ساتھ بیٹھی ہوئی شیریں مزاری انھیں بیٹھنے کا مشورہ دیتی رہیں۔

آخر کار جب عمران خان روسٹم پر جانے لگے تو شیریں مزاری نے عمران خان سے کہا کہ وہ کوئی بیان دینے سے پہلے حامد خان سے بات کرلیں جو پہلے سے روسٹم پر موجود تھے۔

سماعت کے دوران عدلیہ پہلے تو متحرک دکھائی دی جس سے یہی ظاہر ہو رہا تھا کہ شاید عدلیہ آج ہی عمران خان پر فردِ جرم عائد کرنے کی تاریخ دے دے تاہم عدلیہ اور حامد خان کے درمیان خوشگوار جملوں کے بعد عدلیہ نے عمران خان کو تفصیلی جواب جمع کروانے کے لیے تین ہفتوں کی مہلت دے دی۔

کمرۂ عدالت میں یہ تاثر بھی دیا جا رہا تھا کہ اگر حامد خان پاکستان میں ہوتے تو شائد یہ معاملہ اس نہج تک نہ پہنچتا۔ حامد خان تحریک انصاف کے رہنما بھی ہیں اور وہ چھٹیاں گزانے کے لیے بیرون ملک گئے تھے تاہم عمران خان کو توہینِ عدالت کا نوٹس ملنے کے بعد وہ وطن واپس آگئے۔

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے سابق وزیر اعلی اسلم رئیسانی بھی عمران خان سے اظہار یکجہتی کے لیے سپریم کورٹ پہنچے تھے۔

اسلم رئیسانی کو پہلے تو سپریم کورٹ میں موجود سکیورٹی کے عملے نے اندر جانے کی اجازت نہیں دی جس پر انھوں نے احتجاج کیا۔

سکیورٹی اہلکاروں پر اسلم رئیسانی کے احتجاج کا کوئی اثر نہ ہوا پھر انھیں کسی نے بتایا کہ وہ بلوچسان کے سابق وزیر اعلیٰ ہیں جس پر سکیورٹی اہلکاروں نے انھیں اندر جانے کی اجازت دی۔

اسی بارے میں