جامع مذاکرات: ’بھارت کو تاریخیں تجویز کی گئی ہیں‘

Image caption دفترِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق یہ بھی ممکن ہے کہ بھارت بھی مذاکرات کی بحالی کے لیے اپنی مجوزہ تاریخیں دے

پاکستان کے دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے بھارت کو جامع مذاکرات کی بحالی اور تصفیہ طلب مسائل حل کرنے کے لیے تاریخیں تجویز کی ہیں۔

اسلام آباد میں جمعے کو صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے دفترِ خارجہ کے ترجمان اعزاز احمد چوہدری نے کہا کہ جامع مذاکرات کے آٹھ معاملات میں سے دو کے لیے تاریخیں تجویز کی گئی ہیں جن میں ایک وولر بیراج اور دوسرا سرکریک کا معاملہ ہے۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق انھوں نے کہا کہ بھارت نے ان مجوزہ تاریخوں کے حوالے سے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

’پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں‘

’مذاکرات کے لیے مثبت ماحول ضروری ہے‘

’پاکستان سے پہلے جیسے تعلقات جاری نہیں رہ سکتے‘

دفترِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق یہ بھی ممکن ہے کہ بھارت بھی مذاکرات کی بحالی کے لیے اپنی مجوزہ تاریخیں دے۔

اعزاز احمد چوہدری نے کہا کہ دونوں ممالک کے رہنماؤں نے تعلقات بہتر بنانے کی خواہش ظاہر کی ہے اور توقع ہے کہ دونوں جامع مذاکرات بلا تعطل شروع کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ ہم نے پہلے ہی ٹریک ٹو سفارتکاری شروع کر دی ہے اور توقع ہے کہ یہ دونوں ملکوں کے تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے مددگار ثابت ہو گی۔

دفترِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق پاکستان امن پسند ملک ہے اور اس نے بھارت سمیت اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ دوسری جانب سے بھی پاکستان جیسے جذبے کا اظہار کیا جائے گا۔

پاکستانی حدود میں امریکی ڈرون حملوں کے بارے میں اعزاز احمد چوہدری نے کہا کہ پاکستان نے ڈرون حملوں کے بارے میں امریکہ کو اپنے تحفظات سے واضح طور پر آگاہ کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا موقف جان لیا گیا ہے اور توقع ہے کہ اس معاملے پر غور کیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ امریکی ڈرون حملہ پاکستان کی خود مختاری اور بین الاقوامی اصولوں کے منافی ہیں۔

امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری کے دورے کے نتائج کے حوالے سے ایک سوال پر ترجمان نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات اہم ہیں اور امریکی وزیر خارجہ کے دورے سے ان تعلقات کو دوبارہ معمول پر لانے میں مدد ملی ہے۔

ترجمان کے مطابق دونوں ممالک نے سٹریٹیجک مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ انھوں نے کہا امریکہ اور پاکستان توانائی، اقتصادی تعاون اور کاؤنٹر ٹیررازم کے حوالے آنے والے دو مہینوں میں مذاکرات کریں گے۔

توانائی کے شعبے میں امریکی امداد کے بارے میں پوچھے جانےوالے ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ امریکہ نے پہلے ہی دیامیر بھاشا ڈیم کے لیے دو سو ملین ڈالرز دینے کا اعلان کیا ہے۔

دوسری جانب بھارت نے عندیہ دیا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ امن مذاکرات پھر شروع کر رہا ہے جو اس سال کے شروع میں مقبوضہ کشمیر میں کنٹرول لائن پر جھڑپوں کی وجہ سے تعطل کا شکار ہو گئے تھے۔

بھارتی سیکرٹری خارجہ سجاتھا سنگھ نے نئی دہلی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارت وزیراعظم نواز شریف کی سربراہی میں نئی پاکستانی حکومت سے امن مذاکرات کا سلسلہ اسی جگہ سے شروع کرے گا جہاں گزشتہ حکومت کے ساتھ مذاکرات تعطل کا شکار ہوئےتھے۔

نئی دہلی نے پاکستان کے ساتھ امن مذاکرات ممبئی حملوں کے بعد معطل کر دیے تھے۔ بھارت اس حملے کا ذمہ دار پاکستان کے حمایت یافتہ شدت پسندوں پر عائد کرتا ہے۔

سنہ 2011 میں دوبارہ شروع ہونے والے دو ادوار میں زیادہ تر توجہ تجارت اور ویزا پر مرکوز رکھی گئی تھی۔

دونوں ممالک کے تعلقات اس سال جنوری اور فروری میں دوبارہ کشیدہ ہو گئے جب دونوں جانب کے کل چھ فوجی کشمیر کے ڈی فیکٹو بارڈر پر فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں