باڑہ روڈ کھول دیا لیکن بازار تاحال بند

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر پشاور کو خیبر ایجنسی کو منسلک کرنے والا اہم باڑہ روڈ چار سالوں کی بندش کے بعد آج آمدو رفت کے لیے کھول دیا گیا ہے تاہم باڑہ بازار تاحال بند ہے۔

یہ روڈ چار سال پہلے دہشت گردی اور شدت پسندی کے بڑھتے ہوئے واقعات کی وجہ سے بند کر دیا گیا تھا۔

یہ روڈ ابتدائی طور چار گھنٹوں کے لیے صبح کے وقت اور چار گھنٹوں کے لیے سہ پہر کے وقت کھلا رہے گا۔

خیبر ایجنسی سے نقل مکانی شروع

اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ باڑہ ناصر خان نے بی بی سی کو بتایا کہ باڑہ روڈ سے متصل دیگر سڑکیں بھی کھول دی گئی ہیں۔ ان سڑکوں میں اہم فرنٹیئر روڈ، درو اڈہ روڈ، چرسیانوں چوک روڈ اور الحاج مارکیٹ سے باڑہ بازار جانے والے روڈ شامل ہیں۔

گزشتہ روز خیبر ایجنسی کی پولیٹکل انتظامیہ اور سکیورٹی فورسز نے روڈ کھولنے کا جائزہ لیا تھا اور آج صبح مقامی قبائلی رہنماوں کی موجودگی میں رکاوٹیں ہٹا کر روڈ کھول دیا گیا ہے۔

اے پی اے ناصر خان نے بتایا کہ ان تمام شاہراہوں پر سکیورٹی فورسز کی چوکیاں موجود رہیں گی اور آنے جانے والوں پر کڑی نظر رکھی جائے گی تاکہ کسی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے ۔

باڑہ سے مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ باڑہ روڈ کے ساتھ مختلف قبائل آباد ہیں جن میں شلوبر، ملک دین خیل، بر قمبر خیل اور اکا خیل شامل ہیں۔ یہ روڈ ان اقوام کے علاقوں سے گزرتے ہیں جو تیراہ تک موجود ہیں۔

یہ روڈ ستمبر سنہ دو ہزار نو میں اس وقت بند کر دیا گیا تھا جب علاقے میں تشدد کے واقعات بڑھ گئے تھے اور سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن شروع کرنا تھا۔ خیبر ایجنسی میں متحارب گروہوں کے درمیان جھڑپوں کی وجہ سے بھی علاقے میں کشیدگی رہتی ہے۔

خیبر ایجنسی میں خیبر یونین کے رہنما بازار گل آفریدی نے بی بی سی کو بتایا کہ اس بازار کو بند کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ چار سال تک لوگوں کو مشکلات کا سامنا رہا اب بھی اگر نیک نیتی سے کھول دیا ہے تو حکومت اور سکیورٹی اداروں کا وہ شکریہ ادا کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ چار سال پہلے بھی کچھ تنظیموں کے درمیان جھڑپیں ہوتی تھیں جسے دہشت گردی کی شکل دے دی گئی تھی حالانکہ اس کا حل نکل سکتا تھا اب بھی وہی علاقہ ہے اور وہی لوگ موجود ہیں کچھ فرق نہیں آیا ہے۔

بازار گل نے کہا کہ اس روڈ کے کھلنے سے تجارتی سرگرمیاں بہتر ہوں گی اور فوجی آپریشن سے متاثرہ افراد واپس اپنے گھروں کو جا سکیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ باڑہ بازار کو بھی جلد از جلد کھولا جائے ۔ انھوں نے کہا اس بازار میں پانچ ہزار ددکانیں ہیں جو عرصہ چار سال سے بند پڑی ہیں جس میں موجود سامان کب کا خراب ہو چکا ہے ۔

مقامی قبائل کی جانب سے باڑہ روڈ کھولنے کا مطالبہ بار بار دہرایا جاتا رہا ہے۔ اس سال جنوری میں جب مبینہ طور پر سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے اٹھارہ مقامی لوگ ہلاک ہو گئے تھے جن کی لاشیں یہاں گورنر ہاؤس کے سامنے لائی گئی تھیں۔ اس وقت بھی حکومت کے ساتھ معاہدے کے وقت دیگر مطالبوں میں ایک اہم مطالبہ یہی تھا کہ باڑہ روڈ کو فوری طور پر کھولا جائے۔

اسی بارے میں