شہباز تاثیر اغوا کیس، ملزمان کی شناخت پریڈ

Image caption شہباز تاثیر کی رہائی کے لیے ان کے اہلخانہ بھاری تاوان ادا کرنے کے لیے بھی تیار تھے لیکن تاحال یہ ممکن نہیں ہوسکا ہے

لاہور کی ایک مقامی عدالت نے پنجاب کے مقتول گورنر سلمان تاثیر کے بیٹے شہباز تاثیر کے اغوا میں ملوث تین ملزموں کو شناخت پریڈ کے لیے جیل بھجوا دیا ہے۔ اس عدالتی کارروائی کے ساتھ ہی اس بات کی تصدیق ہوگئی ہے کہ پولیس شہباز تاثیر کے اغواکاروں تک تو پہنچ گئی ہے لیکن فی الحال انہیں بازیاب نہیں کرایا جاسکا۔

’شہباز تاثیر کی رہائی کیلیے مذاکرات جاری‘

’شہباز تاثیر پاک افغان سرحدی علاقے میں‘

لاہور میں سی آئی اے پولیس ایس پی عمر ورک نے بی بی سی کے نامہ نگار علی سلمان کو بتایا کہ ان تینوں ملزموں کا تعلق لاہور سے ہے اور انھیں ازبک ساتھیوں کے ہمراہ گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا کہ تینوں ملزم فرہاد بٹ، اختر اور عبدالرحمان تحریک طالبان القاعدہ گروپ سے تعلق رکھتے ہیں اور اغوا برائے تاوان کی متعدد وارداتوں میں ملوث رہے ہیں۔

سابق گورنر سلمان تاثیر کے صاحبزادے شہباز تاثیر کو دوسال پہلے اگست کے مہینے میں ہی دن دہاڑے اُن کے دفتر کے قریب سے اغوا کر لیا گیا تھا۔

سپرنٹنڈنٹ پولیس عمر ورک نے بتایا کہ ان ملزموں نے شہباز تاثیر کو اغوا کرنے کے بعد انہیں افغانستان کی سرحد پر اپنے ساتھی طالبان کے حوالے کردیا تھا اور ان ملزموں کی گرفتاری کے بعد شہباز تاثیر کی بازیابی کے لیے رابطے کیے جارہے ہیں۔

Image caption شہباز تاثیر کو دوسال پہلے اُن کے دفتر کے قریب سے اغوا کر لیا گیا تھا

انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے میں زیادہ معلومات فراہم نہیں کرسکتے کیونکہ اس سے شہباز تاثیر کی رہائی میں مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزموں سے امریکی شہری وارن وائنسٹین کے اغوا کے بارے میں بھی پوچھ گچھ کی جاری ہے۔ ایک امریکی امدادی ادارے کے ادھیڑ عمر کے سربراہ وارن وائنسٹین کو بھی لاہور سے اغوا کیا گیا تھا۔

شہباز تاثیر کے والد پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کو ان کے اغوا سے چند مہینے پہلے قتل کردیا گیا تھا اور ان قتل کے ملزم ممتاز قادری کو اگرچہ عدالت نے سزائے موت سنائی ہے لیکن پاکستان کے بعض مذہبی حلقے ان کے حمایتی ہیں۔

سی آئی اے پولیس کا کہنا ہے کہ شہباز تاثیر کے قتل میں بھی شدت پسند مذہبی گروپ ملوث تھا جو اس سے پہلے بھی اغوا برائے تاوان کی وارداتیں کرتے رہے ہیں۔

ان ملزموں نے ایک کاروباری شخصیت شیخ شاہد کے اغوا کا بھی اعتراف کیا ہے اور انہیں دس کروڑ روپے تاوان کے بعد رہا کردیا گیا تھا۔

مقتول سلمان تاثیر کا شمار پاکستان کے امیر ترین لوگوں میں ہوتا تھا اور ان کے صاحبزادے کی رہائی کے لیے ان کے اہلخانہ بھاری تاوان ادا کرنے کے لیے بھی تیار تھے لیکن تاحال یہ ممکن نہیں ہوسکا ہے۔

گذشتہ چند روز سے پاکستانی میڈیا میں تحریک طالبان پاکستان کے حوالے سے یہ خبر بھی گردش کر رہی ہے کہ شہباز تاثیر سنہ دوہزار بارہ میں ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہوچکے ہیں لیکن اس خبر کی کہیں سے تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ملزموں سے تفتیش کرنے والی سی آئی اے پولیس نے ایسی کسی اطلاع سے لاعلمی ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ شہباز تاثیر کی بازیابی کے لیے رابطے کیے جارہے ہیں۔

اسی بارے میں