زمبابوے: ’عوام پرامن مزاحمتی مہم چلائیں‘

Image caption وزیر اعظم مورگن چنگرائے جو صدر رابرٹ مگابے کا مقابلہ کر رہے ہیں نے ان انتخابات کو ’ایک بہت بڑا ڈرامہ‘ قرار دیا ہے

زمبابوے میں حزبِ اختلاف کے ایک بڑے رہنما روائے بینیٹ نے صدر رابرٹ موگابے کی جماعت کا پارلیمانی انتخابات میں اکثیریت حاصل کرنے کے بعد حکومت کے خلاف ’پرامن مزاحمتی‘ مہم چلانے کا کہا ہے۔

حزبِ اختلاف کی جماعت ڈیموکریٹک چینج (ایم ڈی سی) پارٹی کے خزانچی روائے بینیٹ نے لوگوں کو سول نافرمانی کی ترغیب دیتے ہوئے کہا کہ’موجودہ حکومت کو ختم کرنے کے لیے میں زمبابوے کے عوام سے جن کی ہم نمائندگی کرتے ہیں کہتا ہوں کہ وہ حکومت کے خلاف پرامن مزاحمت کریں اور ان سے مکمل لاتعلقی کا اظہار کریں۔‘

رابرٹ مگابے کی پارلیمان میں بھاری اکثریت

زمبابوے میں پارلیمانی اور صدارتی انتخابات

انتخابات میں صدر رابرٹ مگابے کی جماعت نے پارلیمان میں بھاری اکثریت حاصل کر لی ہے۔

زمبابوے کے الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ زانو پی ایف جماعت نے دو سو دس نشستوں پر مشتمل پارلیمان میں ایک سو سینتیس نشستیں حاصل کی ہیں۔

ایم ڈی سی کے سربراہ اور ملک کے وزیر اعظم مورگن چنگرائے جو صدر رابرٹ مگابے کا مقابلہ کر رہے ہیں نے ان انتخابات کو ’ایک بہت بڑا ڈرامہ‘ قرار دیا ہے۔

صارتی انتخاب کے نتائج کا اعلان ابھی ہونا باقی ہے۔

اس کشیدہ صورتِ حال کے پیشِ نظر اقوامِ متحدہ کے جنرل سیکرٹری بان گی مون نے صدر رابرٹ موگابے اور وزیرِاعظم موگن چنگرائے پر زور دیا کہ وہ اپنے حامیوں کو ’پرامن رہنے‘ کا واضخ پیغام بھیجے۔

سیکرٹری جنرل کے ترجمان مارٹن نیسرکی نے کہا کہ بان گی مون چاہتے ہیں کہ کسی بھی انتخابی معاملے کو ’صاف و شفاف‘ طریقے سے حل کیا جانا چاہیے۔

اس سے قبل زمبابوے میں صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کے حوالے سے افریقی یونین کے مبصر مشن کے سربراہ کا کہنا تھا کہ انتخابات ’آزادانہ، منصفانہ اور قابلِ اعتماد‘ ہوئے۔

ایک مقامی مبصر گروپ کا دعویٰ ہے کہ پولنگ میں بہت بے ضابطگیاں تھیں۔

اس سے پہلے ملکی انتخابات پر نظر رکھنے والی ایک مقامی تنظیم کا کہنا تھا کہ پارلیمانی اور صدارتی انتخابات میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگيوں کے سبب تقریبا دس لاکھ لوگ ووٹ ڈالنے سے محروم رہے۔

’ زمبابوے الیکشن سپورٹ نیٹورک'‘نامی تنظیم کا کہنا تھا کہ جن افراد کو ووٹ ڈالنے نہیں دیا گيا اس میں سے بیشتر کا تعلق شہری علاقوں سے ہے جہاں اپوزیشن امید وار مورگن سوائنگیرائی کے حامیوں کی تعداد زیادہ ہے۔

تنظیم کے مطابق اس کے برعکس دیہی علاقوں میں کم ووٹرز کو مسترد کیا گيا جہاں صدر رابرٹ موگابے کے حمایتوں کی تعداد زيادہ ہے۔

افریقی یونین نے بیشتر پولنگ سٹیشنز پر ان انتخابات کو پر امن اور ضابطے کے مطابق بتایا ہے۔ انتخابی امور پر نظر رکھنے والی ایک مقامی گروپ نے بھی ان انتخابات کو صحیح قرار دیا ہے۔

افریقی یونین کی جانب سے مبصرین کی سربراہی نائیجیریا کے سابق صدر اولیس گن اوباسانجو کر رہے تھے۔

انہوں نے برطانوی خبر رساں ادارہ روائٹرز کو بتایا کہ انتخابات کے دوران ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آيا جس کی بنیاد پر یہ کہا جا سکے کہ اس میں عوام کی مرضی شامل نہیں تھی۔

دارالحکومت ہرارے میں بی بی سی کی نامہ نگار نومسا مسیکو کا کہنا ہے کہ زمباوے کے انتخابی معیار کے اعتبار سے یہ انتخابات غیر معمولی رہے۔

اس کے برعکس دو ہزار آٹھ کے انتخابات میں بڑے پیمانے پر ہوئے تشدد میں اپوزیشن جماعت کے تقریبا دو سو کارکن ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں