گلگت: چلاس میں تین اعلیٰ سرکاری اہلکار ہلاک

Image caption رواں سال جون میں دہشتگردوں نے دیا میر ضلع میں نو غیر ملکی سیاحوں کو ہلاک کر دیا تھا

پاکستان کے شمالی علاقےگلگت بلتستان کے ضلع چلاس میں ایک حملے میں قریبی ضلعے دیامیر کے ایس ایس پی محمد ہلال، پاکستان فوج کے ایک کرنل اور ایک کیپٹن ہلاک ہوگئے ہیں۔

چلاس کے ڈی سی او اجمل بھٹی نے بی بی سی کو بتایا کہ افسران پر حملے کی تحقیقات ایک اعلیٰ تفتیشی ٹیم کر رہی ہے اور ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس دیامیر خود اس کی نگرانی کر رہے ہیں۔

ڈپٹی کمشنر نے ہمارے ساتھی عزیزاللہ خان کو بتایا کہ پیر کی رات کو اجلاس کے بعد کوئی ایک بجے کے لگ بھگ جب تینوں افسران ایک ہی گاڑی میں واپس جا رہے تھے تو ان کی رہائش گاہ کے بعد راستہ اونچائی کی طرف جاتا ہے جہاں حملہ آور پہلے سے موجود تھے اور انھوں نے افسران کی گاڑی پر فائرنگ شروع کر دی تھی جس سے گاڑی پر قابو پانا مشکل ہوگیا تھا اور گاڑی واپس نیچے آئی اور سڑک سے گر گئی تھی۔

اس واقعے میں ہلاک ہونے والے ایس ایس پی ہلال خان کا تعلق خیبر پختونخواہ کے ضلع سوات کے علاقے بری کوٹ سے ہے لیکن انھوں نے اپنی ملازمت کا زیادہ تر وقت پنجاب میں گزارا ہے ۔

فوج کے لیفٹیننٹ کرنل مصطفیٰ جمال کا تعلق صوبہ پنجاب کے علاقے مظفر گڑھ میں خان گڑھ سے بتایا گیا ہے اور انھیں اقبالیات پر کافی عبور حاصل تھا۔

کیپٹن اشفاق کا تعلق خیبر پختونخوا کے علاقے ٹانک سے تھا۔ تینوں افسران کی میتیں منگل کی صبح آرمی کے ہیلی کاپٹر میں ان کے آبائی علاقوں میں پہنچا دی گئی ہیں۔

’میرے گھر میں میٹنگ ہونے والی تھی‘

چلاس کے ڈی سی او اجمل بھٹی کے مطابق تمام علاقے کی ناکہ بندی کر کے تحقیقات ہو رہی ہیں اور وہ اس موقع پر مزید کچھ نہیں کہہ سکتے کہ حملہ آور کون تھے۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس اور فوجی افسران کے کچھ محافظ بھی زخمی ہوئے ہیں لیکن ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان شاہد اللہ شاہد نے بی بی سی سے رابطہ کر کے اس حملے کی زمہ داری قبول کی ہے۔

نانگاپربت بیس کیمپ میں دس غیر ملکی سیاح قتل

سیاحوں کے قتل کی تفتیش میں پیش رفت

ملزمان کی نشان دہی ہو گئی

رواں سال 23 جون کو گلگت بلتستان کے ضلع دیامیر میں نانگا پربت بیس کیمپ میں دس غیر ملکی اور ایک پاکستانی سیاح کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا۔

مقامی حکام کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ضلع دیامیر کے صدر مقام چلاس کے قریب بونردیامروی نانگا پربت بیس کیمپ میں پیش آیا۔

رواں سال 23 جون کو ضلع دیامیر میں نانگا پربت بیس کیمپ میں دس غیر ملکی اور ایک پاکستانی سیاح کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا۔

کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے ترجمان کے مطابق یہ حملہ اس علاقے میں ان کے ذیلی گروپ جنودِ حفصہ نے کیا ہے جس کا مقصد ڈرون حملوں کی جانب عالمی توجہ مبذول کرانا ہے۔

اس واقعے کے بعد وزیراعظم نواز شریف نے دورہ چین کے موقع پر ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان میں توانائی کے بحران پر قابو پانے کے ساتھ امن وامان کی صورتحال پر بھی قابو پانا بہت ضروری ہے۔

وزیراعظم نے کہا تھا کہ سانحہ دیامر جیسے واقعات سے پاکستان کی ساکھ متاثر ہوئی ہے اور چین بھی اپنے شہریوں کی حفاظت چاہتا ہے۔

اسی بارے میں