’توہین مذہب کے قانون میں تبدیلی دائرہ اختیار سے باہر‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے نومنتخب گورنر اور برطانوی ایوان نمائندگان کے سابق رکن چوہدری محمد سرور کا کہنا ہے کہ وہ اقلیتوں کو حقوق دلانے میں بھی کردار ادا کریں گے تاہم توہین مذہب کے قانون میں تبدیلی ان کے دائرۂ اختیار سے باہر ہے۔

یہ بات انھوں نے بی بی سی اردو کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں کہی۔

گورنر چوہدری محمد سرور نے حلف برداری کے بعد مختصر تقریر میں عزم ظاہر کیا تھا کہ وہ پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کے سلسلے میں کام کریں گے۔

گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو قتل کردیا گیا

’شعور پیدا کرنے کی ضرورت‘

توہین رسالت کے الزام پر عیسائی بستی پر حملہ

شیری رحمان کے خلاف توہین مذہب کی درخواست

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

تاہم جب ان سے یہ سوال پوچھا گیا کہ اقلیتیں توہین مذہب کے قانون کے باعث خود کو غیر محفوظ سمجھتی ہیں اور کیا وہ اس قانون میں تبدیلی کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں گے، تو گورنر کا کہنا تھا:

’کسی بھی معاشرے کو جانچنے کے لیے کہ وہ ایک صحت مند معاشرہ ہے یا نہیں، یہ دیکھنا ضروری ہے کہ وہاں اقلیتیں کس حد تک محفوظ ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان میں ایسے واقعات ہوئے ہیں جن سے دنیا بھر میں پاکستان کی بدنامی ہوئی، اور بحثیت پاکستانی ہمارے سر شرم سے جھکے لیکن پاکستانی حکومت اور عوام نے ایسے واقعات کو ہمیشہ مسترد کیا ہے۔

’مجھے یقین ہے کہ نئی حکومت کی پالیسیوں میں اقلیتیوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔ لیکن قانون میں تبدیلی کرنا تو پارلیمنٹ کا کام ہے میرا تو ایک آئینی کردار ہے جو میں ادا کروں گا۔‘

گورنر پنجاب کا کہنا تھا کہ وہ پاکستانی عوام کی زندگیوں میں تبدیلی لانا چاہتے ہیں: ’میں نے برطانیہ میں بحثیت پارلیمنٹیرین، بحثیت کونسلر اور بحیثیت بزنس مین وسیع تجربہ حاصل کیا ہے۔ میں اس تجربے کو پاکستانی عوام کی زندگیوں میں بہتری لانے کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہوں۔ پاکستان بہت سی مشکلات سے گزر رہا ہے۔ میں برطانیہ میں ریٹائرڈ زندگی گزار رہا تھا، مجھے لگا کہ مجھے پاکستان کے لوگوں کی مدد کرنی چاہیے۔‘

صوبہ پنجاب کو درپیش مسائل کے سوال پر انہوں نے کہا کہ اس وقت پورے ملک اور پنجاب کے لیے سب سے اہم مسئلہ تو بجلی کا بحران ہے لیکن دوسرا بڑا مسئلہ تعلیم کی کمی ہے:

’پاکستان میں اس وقت 70 لاکھ بچے ایسے ہیں جو سکول جانے کی عمر کے ہیں لیکن سکول تک ان کی رسائی نہیں۔ ان بچوں کو ہم نے سکولوں تک لانا ہے اور ہم کوشش کریں گے کہ ہر سال دس لاکھ ایسے بچوں تک تعلیم کی فراہمی یقینی بنائیں۔ اس کے لیے میں اپنے غیر ملکی رابطوں کو بھی استعمال کروں گا۔‘

35 برس بعد سکاٹ لینڈ اور اپنے خاندان سے علیٰحدگی پر گورنر پنجاب کا کہنا تھا کہ یہ آسان فیصلہ نہیں تھا اور خاص طور پر ایسے لوگوں سے جدا ہونا جنہوں نے اس دوران مجھے کونسلر کی حثیت سے اور ممبر پارلیمنٹ کی حثیت سے سپورٹ کیا مجھے محبت دی اور میرے ساتھ کھڑے رہے۔

’یہ فیصلہ میں نے بوجھل دل کے ساتھ کیا ہے اور میں یقیناً ان لوگوں کی کمی محسوس کروں گا۔ لیکن جس طرح میں نے سکاٹ لینڈ میں رہتے ہوئے پاکستان سے تعلق قائم رکھا وہاں بھی لوگوں سے رابطہ برقرار رہے گا۔‘

اپنی تعیناتی پر ہونے والی تنقید پر چوہدری سرور نے بتایا کہ جمہوریت اور سیاست کا حسن ہی یہی ہے کہ لوگ اختلاف رائے رکھتے ہیں۔

’یقیناً میرے حوالے سے ایسی باتیں ہوئی ہیں کہ وائسرائے برطانیہ سے درآمد کیا گیا ہے بلکہ یہ بھی کہا گیا کہ ڈیوڈ کیمرون نے جب پاکستان کا دورہ کیا تو میری تعیناتی کے لیے لابی کیا۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’ایسی باتیں تو چلتی رہتی ہیں لیکن سمجھ دار لوگوں کو پتہ ہے کہ ان باتوں میں کوئی حقیقت نہیں۔ اور اگر میں لوگوں کی خدمت کرنے میں کامیاب ہوگیا تو یہ بادل بھی چھٹ جائیں گے۔‘

تاہم گورنر پنجاب کا کہنا تھا کہ انھیں جنوبی پنجاب کے ارکانِ اسمبلی کا مکمل اعتماد حاصل ہے اور یہ تاثر درست نہیں کہ ان کی بحیثیت گورنر تعیناتی سے جنوبی پنجاب میں بےچینی ہے۔

’جب یہ بات میڈیا میں اچھالی گئی تو جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے تمام پارلیمنٹرینز نے ایک مشترکہ پریس ریلیز میں یہ جاری کی جس میں انھوں نے یہ اعلان کہ وہ اس فیصلے کی حمایت کرتے ہیں۔‘

الگ صوبے کے بارے میں بات کرتے ہوئے نومنتخب گورنر نے کہا کہ اس پر تمام جماعتوں کی اپنی اپنی ترجیحات ہیں: ’میں سمجھتا ہوں کہ جو بھی آئینی تبدیلی لانی ہوتی ہے اس میں تمام جماعتوں کا اتفاق رائے ہونا ضروری ہے اور مجھے توقع ہے کہ تمام پارٹیاں سے مل بیٹھ کے حل کر لیں گی۔‘

اسی بارے میں