فوجی اہلکار پشاور جیل کے معائنے پر

Image caption پشاور سینٹرل جیل میں شکیل آفریدی کے علاوہ اور بھی ہائی پروفائل قیدی ہیں: آئی جی جیل خانہ جات

حکام کے مطابق پاکستانی فوج کے اہلکار پشاور سینٹرل جیل کے حفاظتی انتظامات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ پشاور جیل میں اسامہ بن لادن کی تلاشی میں مدد دینے والے پاکستانی ڈاکٹر شکیل خان آفریدی بھی قید ہیں۔

صوبے کے نئے آئی جی جیل خانہ جات ذاکر حسین آفریدی نے بی بی سی کی نمائندہ نخبت ملک سے بات کرتے ہوئے پشاور سینٹرل جیل میں فوج کی موجودگی کی تصدیق کی ہے ۔

ڈی آئی خان جیل پر حملہ، 27 پولیس اہلکار معطل

بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان جیلوں پر حملوں میں مماثلت

ان کا کہنا ہےکہ پشاور سینٹرل جیل میں القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کی تلاش میں امریکی اداروں کی مدد کرنے کے الزام میں گرفتار ڈاکٹر شکیل آفریدی کے علاوہ کچھ اور ہائی پروفائل ملزم بھی قید ہیں تاہم ذاکر حسین نے ان کے نام بتانے سے معذوری ظاہر کی ہے ۔

ذاکر حسین آفریدی کا کہنا ہےکہ صوبے کی باقی جیلوں میں سکیورٹی کا انتظام تسلی بخش ہے اور وہاں ضلعی انتظامیہ ، جیل حکام اور پولیس ، اپنے فرائض انجام دے رہی ہے۔

ذاکر حسین نے صوبے کی کسی بھی اور جیل میں فوج کی موجودگی کی تردید کی ہے ۔ البتہ ان کا کہنا تھا کہ ’ فوج تمام ٹرانزٹ پوائنٹس پر ضرور موجود ہے تاہم باقی انتظامیہ ، ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام نے اپنے اپنے ہنگامی پلان بنائے ہوئے ہیں۔‘

ذاکر حسین نے بتایا ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان جیل توڑنے کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور پندرہ دن میں اس کے نتیجے میں حقائق سامنے آئیں گے ۔ ان کا کہنا ہے کہ اس انکوائری کے پیش نظر کئی پولیس افسران کو معطل کیاگیا ہے ۔ جس میں سابق آئی جی جیل خانہ جات خالد عباس بھی شامل ہیں ۔

اسی بارے میں