مشرف کو بیس اگست کو پیش کرنے کا حکم

Image caption اگلی سماعت پر پرویز مشرف کی حاضری کو یقینی بنایا جائے: عدالت

راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے پیش نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اُن کی پیشی کے احکام جاری کر دیے ہیں۔

عدالت نے اُنہیں 20اگست کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

بینظیر کیس: مشرف پر فردِ جرم چھ اگست کو

راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سابق فوجی صدر سمیت آٹھ ملزمان پر فرد جُرم عائد کرنے کے لیے چھ اگست کی تاریخ مقرر کر رکھی تھی۔ پرویز مشرف بےنظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں ان دنوں ضمانت پر ہیں۔

راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے جج چوہدری حبیب الرحمٰن نے اس مقدمے کی سماعت کی تو پولیس نے عدالت کو بتایا کہ ملزم پرویز مشرف کی جان کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ وزارت داخلہ کی طرف سے جاری ہونے والے ہائی الرٹ کی روشنی میں پرویز مشرف کو عدالت میں پیش نہیں کیا جا سکتا۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق پولیس افسر کا کہنا تھا کہ خفیہ اداروں کی رپورٹ کے مطابق شدت پسندوں نے منصوبہ بندی کر رکھی ہے کہ سابق فوجی صدر کو بےنظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں پیشی کے موقعے پر فارم ہاؤس سے راولپنڈی کی عدالت جاتے ہوئے اُنہیں یا تو اغوا کیا جائے گا یا پھر اُنہیں ٹارگٹ کیا جائے گا۔

اس مقدمے میں سرکاری وکیل چوہدری اظہر کا کہنا تھا کہ ملزم پرویز مشرف ضمانت پر ہیں اور اگر وہ عدالت میں پیش نہیں ہوتے تو اُنہیں غیر حاضر تصور کرتے ہوئے اُن کی ضمانت منسوخ کی جائے۔

پرویز مشرف کے وکیل الیاس صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ اُن کے موکل عدالت میں پیش ہونا چاہتے تھے لیکن پولیس اور متعقلہ حکام اُنہیں لے کر عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔

عدالت نے ملزم پرویز مشرف کے عدالت میں پیش نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اُن کے پروڈکشن آرڈر جاری کر دیے۔

عدالت نے ملزم کے وکیل کی طرف سے اُن کے موکل کو ایک روز کا استثنیٰ دینے کی درخواست بھی منظور کرلی۔

عدالت نے کہا ہے کہ اگلی سماعت پر پرویز مشرف کی حاضری کو یقینی بنایا جائے۔

بیس اگست کو عدالت سابق فوجی صدر سمیت آٹھ ملزمان پر فرد جُرم عائد کی جائے گی۔ اس مقدمے میں راولپنڈی پولیس کے سابق سربراہ سعود عزیز اور ایس ایس پی خُرم شہزاد بھی ان دنوں ضمانت پر ہیں جب کہ اس مقدمے میں گرفتار ہونے والے پانچ ملزمان گُذشتہ چھ سال سے اڈیالہ جیل میں ہیں۔

اسی بارے میں