’بارشوں میں 80 ہلاک، 333 دیہات متاثر‘

Image caption محکمۂ موسمیات نے پیر کو آنے والے دنوں میں مزید تیز بارشوں کی پیش گوئی کی تھی

پاکستان کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے این ڈی ایم اے کے مطابق ملک بھر میں شدید بارشوں کے باعث ہلاک ہونے والی افراد کی تعداد اسی تک پہنچ گئی ہے اور تین سو تینتیس یہات متاثر ہوئے ہیں۔

دوسری جانب محکمۂ موسمیات نے مزید تیز بارشوں کی پیش گوئی کی تھی۔

منگل کو این ڈی ایم اے کی ویب سائٹ پر جاری اعداد و شمار کے مطابق بارشوں اور سیلاب کے باعث ہلاک ہونے والوں کی کُل تعداد اسّی ہے جن میں سے پندرہ افراد پنجاب، دس خیبر پختونخوا، بائیس سندھ، اٹھارہ بلوچستان، قبائلی علاقوں میں بارہ جبکہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں تین ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

دریائے سوات میں سیلاب، پُلوں کو نقصان

چترال میں سیلابی ریلوں سے مکانات، پُل تباہ

ان بارشوں سے پاکستان بھر میں 1405 مکانات جزوی اور 2483 مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں جبکہ 36 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

این ڈی ایم کے مطابق بارشوں اور سیلاب سے تین سو تینتیس دیہات متاثر ہوئے ہیں جن میں سےدو سو پچہتر دیہات صوبہ پنجاب میں ہیں۔

قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں جاری حالیہ بارشوں اور سیلاب کے باعث اکاسّی ہزار تین سو اکتالیس افراد بے گھر ہوئے ہیں۔ بے گھر ہونے والے افراد میں سے چھیاسٹھ ہزار پانچ کا تعلق صوبہ پنجاب سے ہے۔

این ڈی ایم کے مطابق متاثر ہونے والے افراد کی مدد کے لیے پندرہ کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔ ان کیمپوں میں سے گیارہ کیمپ پنجاب اور چار کیمپ سندھ میں قائم کیے گئے ہیں۔

بلوچستان

این ڈی ایم اے کے بقول بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں کوئی کیمپ قائم نہیں کیا گیا۔ صوبہ خیبر پختونخوا میں پندرہ دیہات متاثر ہوئے ہیں جبکہ تین سو چھتیس افراد بے گھر ہوئے ہیں۔

این ڈی ایم اے کی ویب سائٹ کے مطابق بلوچستان میں بارشوں اور سیلاب سے اٹھارہ افراد ہلاک جبکہ دو افراد لا پتہ اور دو زخمی ہوئے ہیں۔

این ڈی ایم کے مطابق بارشوں اور سیلاب سے بلوچستان میں اٹھائیس دیہات متاثر ہوئے ہیں۔

قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر پلاننگ عبدالطیف کاکڑ نے کوئٹہ میں پیر کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پی ڈی ایم اے کی جانب سے سیلاب سے متاثرہ افراد کی امداد کے لیے کارروائی جاری ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ جن علاقوں میں زمینی رابطے منقطع ہوئے ہیں وہاں متاثرین کو امداد کی فراہمی کے لیے دو ہیلی کاپٹروں کی بھی مدد لی جا رہی ہے۔

این ڈی ایم اے کے مطابق متاثرین کی امداد کے لیے 1830 خیمے، خوراک کے 2500 پیکٹ، 300 کمبل، 3000 مچھردانیاں اور پانی کے 300 جیری کینز دیے گئے ہیں۔

خیبر پختونخواہ

این ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں اور سیلاب سے خیبر پختون خوا میں دس افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ہیں جبکہ 315 مکانات جزوی اور 98 مکانات مکمل طور تباہ ہوئے ہیں۔

بارشوں اور سیلاب سے پشاور چترال، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان سب سےزیادہ زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

پشاور سے نامہ نگار عزیز اللہ خان کا پیر کو کہنا تھا کہ پشاور میں چارسدہ روڈ پر نشاط مل کے علاقے میں کوئی ایک سو سے زائد مکانات تباہ ہوئے ہیں۔

خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شاہ فرمان نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ سیلاب کے بعد امدادی کارروائیاں فوری طور پر شروع کر دی گئی تھیں۔

این ڈی ایم اے کے مطابق متاثرین کی امداد کے لیے 200 خیمے، 200 کمبلیں اور خوراک کے 66 پیکٹ اور پانی کے پچاس جیری کینز دیے گئے ہیں۔

سندھ

این ڈی ایم اے کے مطابق صوبہ سندھ میں سیلاب اور بارشوں سے بائیس افراد ہلاک اور دس زخمی ہوئے ہیں جبکہ پندرہ دیہات متاثر اور پندرہ ہزار افراد بے گھر ہوئے ہیں۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق بارشوں سے کراچی کے علاوہ سندھ کے دیگر علاقوں سکھر، جیکب آباد، لاڑکانہ، دادو، قمبر، کندھ کوٹ گھوٹکی، شکارپور اور بدین میں بھی شدید بارش سے شہری ،اور دیہی علاقے بھی متاثر ہوئے ہیں۔

این ڈی ایم اے کے مطابق متاثرین کی امداد کے لیے 8800 خیمے اور 10000 مچھردانیاں دی گئیں ہیں۔

پنجاب

این ڈی ایم کے مطابق پنجاب میں سیلاب اور بارشوں سے پندرہ افراد ہلاک اور اٹھارہ زخمی ہوئے ہیں جبکہ 1089 مکانات جزوی طور پر اور 2385 مکانات مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں۔

پنجاب کے وزیرِاعلیٰ نے متاثرین کی امداد کے لیے پانچ کروڑ روپے کا اعلان کیا ہے۔

این ڈی ایم اے کے مطابق پنجاب متاثرین کی امداد کے لیے پانچ ہزار خیمے، خوراک کے 1430 پیکٹ اور پانی کی 5000 بوتلیں دی گئیں ہیں۔

صوبے کے جنوبی علاقے رود کوہیوں میں شدید سیلابی ریلوں کے باعث شدید متاثر ہوئے ہیں۔

قبائلی علاقے

این ڈی ایم اے کے مطابق اب تک وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں میں بارہ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ ایک شخص تاحال لاپتہ ہے۔

اتوار کو این ڈی ایم کے ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ کُرم ایجنسی میں بارش اور سیلابی ریلوں میں چار افراد ہلاک ہوئے جبکہ جنوبی وزیرستان میں سیلابی ریلوں کے باعث پانچ افراد ہلاک ہوئے اور شمالی وزیرستان میں بھی بارشوں کے باعث ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔

اسی بارے میں