کراچی میں امن لانے کی ایک نئی کوشش

Image caption ان تین علاقوں کا انتخاب تحقیق کی بنیاد پر کیا گیا ہے، علی عباس زیدی

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے تین علاقوں لیاری، سلطان آباد اور کورنگی میں آئے دن مذہبی انتہا پسندی، ٹارگٹ کلنگ اور گینگ وارز جیسے واقعات پیش آتے ہیں۔

ریاستی ادارے، ضلعی انتظامیہ اور پولیس ان واقعات کی روک تھام میں بظاہر بے بس نظر آتی ہے اور انتطامیہ کو نیم فوجی دستے رینجرز کی مدد بھی حاصل ہے۔

ایسے میں پاکستان میں رضاکارانہ سرگرمیوں پر مبنی پاکستان یوتھ الائنس نامی تنظیم نے ان تین مخصوص علاقوں کے ماحول کو پرامن بنانے اور بدامنی اور فرقہ واریت کو ہوا دینے والے نفرت انگیز مواد کو ختم کرنے کےلیے ایک انوکھا طریقہ اختیار کرنے کی ٹھانی ہے۔

تنظیم کے بانی علی عباس زیدی نے بی بی سی کی نامہ نگار نخبت ملک کو اس منصوبے کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ انھی کی تنظیم کے اس سے پہلے کیے گئے ’امن سواری‘ پراجیکٹ کا دوسرا حصہ ہے جس کے پہلے حصے میں انہوں نے ’امن رکشہ‘ متعارف کروایا تھا لیکن اب ’کراچی یوتھ انشیٹیوو‘ کے ساتھ مل کر آٹھ نوجوانوں پر مشتمل ایک ٹیم لیاری، سلطان آباد اور کورنگی کے بچوں، خواتین اور نوجوانوں کے ساتھ ملکر دنیا میں کراچی کا ایک نیا تعارف کروانا چاہتے ہیں۔

علی عباس زیدی کا کہنا ہےکہ اس منصوبے میں وہ ایسے بچوں پر توجہ دے رہے ہیں جو کبھی سکول نہیں گئے۔

’ہم کوشش کر رہے ہیں کہ ہم ان تین علاقوں میں سترہ ورکشاپس منعقد کر کے چار سو اسی بچوں کو تربیت دیں گے۔ ہر ورکشاپ تین سے چار گھنٹوں کی ہے جو نصابی شکل کی نہیں بلکہ ان کے علاقے میں پھیلے تنازعات کے موضوعات پر مبنی ہے اور اس کی زبان بھی سادہ اور مقامی ہو گی‘۔

علی عباس زیدی کے مطابق ان تین علاقوں کا انتخاب تحقیق کی بنیاد پر کیا گیا ہے اور تحقیق بتاتی ہے کہ ان تینوں جگہوں پر تشدد اور تنازعات کے تین مختلف عناصر ہیں۔

اس منصوبے کا آغاز لیاری کے علاقے سے کیا گیا ہے جہاں علی عباس زیدی کے مطابق وہ اور ان کی ٹیم اس سے پہلے کبھی نہیں گئے تھے لیکن لیاری کے بارے میں میڈیا سے جو کچھ سن رکھا تھا وہ سب غلط نکلا۔

’وہ ساری داستانیں جھوٹی نکلی ہیں۔ لیاری کے لوگ اپنے آپ کو تنہا محسوس کرتے ہیں۔ انھیں شکایت ہے کہ میڈیا ان کی غلط تصویر پیش کرتا ہے لوگ کہتے ہیں۔ لیاری بہت بڑا علاقہ ہے ، چند یونین کونسلز میں جھگڑا ضرور ہے۔ پورے لیاری کو بدنام کیوں کرتے ہیں ہم امن پسند لوگ ہیں‘۔

Image caption چھ مہینوں پر مبنی اس پراجیکٹ کے لیے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ان دونوں تنظیموں کو اجازت نامے بھی دیے گئے ہیں تاکہ وہ اپنا کام خوش اسلوبی سے کر سکیں

سلطان آباد میں پھیلے جھگڑے کی وجہ علی عباس کچھ یوں بتاتے ہیں ’وہاں پاکستان کے قبائلی علاقوں مثلاً باجوڑ اور جنوبی وزیرستان سے بہت بڑی تعداد میں لوگ ہجرت کر کے آباد ہوئے ہیں جس کے باعث وہاں مذہبی انتہا پسندی کا رحجان پایا جاتا ہے۔ وہاں کے لوگوں نے تسلیم کیا ہے کہ انتہا پسند تنظیمیں موجود ہیں، ہم نے خود محسوس کیا ہے کہ سلطان آباد میں انتہا پسندی کا رحجان عام ہے کیونکہ سلطان آباد فاٹا کی ہی ایک اور ایجنسی کی شکل پیش کرتا ہے‘۔

پاکستان یوتھ الائنس اور کراچی یوتھ انیشیٹیو کے اس پراجیکٹ میں آٹھ ممبران کے علاوہ رضاکار بھی شامل ہیں جو انہی علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں ۔

علی عباس کہتے ہیں کہ انھیں سب سے زیادہ اپنے رضاکاروں کی سکیورٹی کی پرواہ ہے تاہم علاقے کے لوگوں نے ان کا خیر مقدم کرتے ہوئے ان کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔

چھ مہینوں پر مبنی اس منصوبے کے لیے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ان دونوں تنظیموں کو اجازت نامے بھی دیے گئے ہیں تاکہ وہ اپنا کام خوش اسلوبی سے کر سکیں۔

علی عباس زیدی کے مطابق اس پورے منصوبے کے بارے میں سکیورٹی خدشات بہت زیادہ ہیں اور وہ ذہنی طور پر کسی بھی خطرے کے لیے تیار ہیں تاہم انھوں نے ابھی تک حکومتی اداروں سے سکیورٹی طلب نہیں کی اور نہ ہی کوئی گارڈز وغیرہ اپنے ہمراہ رکھے ہیں۔

علی عباس اس منصوبے کو محض ٹریننگ تک محدود نہیں کر رہے بلکہ آگے چل کر ایک بار پھر رکشوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کی تنظیموں کو اس میں شامل کر کے ان کے ذریعے شہر بھر میں امن کے پیغام کو پھیلانا چاہتے ہیں۔

’پاکستان میں رکشوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کو سب سے زیادہ استعمال دائیں بازو کی تنظیموں نے کیا ہے۔ وہ عقلمند ہیں کہ اس کے ذریعے نفرت انگیز مواد لوگوں تک پہنچاتے رہے ہیں جبکہ ملک کی نام نہاد لبرل کلاس کو محض باتیں کرنا یا لکھنا آتا ہے ۔ ہماری کوشش ہے کہ ان رکشا ڈرائیوروں اور ٹرانسپورٹرز کو سمجھائیں کہ اپنے اس میڈیم کا غلط استعمال نہ ہونے دیں‘۔

پاکستان یوتھ الائینس اور کراچی یوتھ انیشیٹیو کے اس منصوبے میں کراچی کے مختلف علاقوں میں چھ عدد گرافیٹی والز بھی بنائی جائیں گی یعنی ایسی دیواریں جن پر امن اور محبت کا پیغام درج ہو گا ۔

علی عباس کہتے ہیں کہ ان کے اس منصوبے کا مقصد پاکستان کے اس پاپولر یا عام فہم آرٹ کو اس مقام پر پہنچنے سے بچاناہے جہاں اس آرٹ کے ذریعے لوگوں کے گلے کاٹے جاتے ہیں اور معاشرے میں نفرت پھیلائی جاتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس لیے ہمیں اپنے ملک میں اس قسم کے بیانات کو چیلنج کرنا پڑے گا کیونکہ متبادل رائے دیے بغیر کوئی حل نہیں ڈھونڈا جا سکتا۔

اسی بارے میں