سویلین اور عسکری قیادت

Image caption ملک کے دو بڑے سیاسی رہنماؤں اور فوجی سربراہ کے درمیان ملاقات نہ ہو نے کی کوئی وضاحت بھی کسی جانب سے سامنے نہیں آئی ہے

نئی حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے دو ماہ بعد بھی پاکستانی فوج اس سے پہلے باضابطہ رابطے کی منتظر ہے۔

سول اور فوجی قیادت میں یہ رابطہ نہ ہو سکنے کے باعث قومی دفاعی پالیسی کی منظوری سمیت بعض اہم امور تاخیر کا شکار ہیں۔

چودہ برس بعد وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے والے وزیراعظم نواز شریف اور بری فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کے درمیان یوں تو کئی ملاقاتیں ہو چکی ہیں لیکن ملکی سیاسی اور فوجی قیادت ابھی تک کسی ایسے فورم پر اکٹھے نہیں بیٹھے جہاں قومی امور پر تفصیلی اور باضابطہ تبادلہ خیال کا موقع دستیاب ہو۔

ان میں سے ایک اہم فورم کابینہ کمیٹی برائے دفاع ہے جس کا اجلاس موجودہ وزیراعظم نے تاحال طلب نہیں کیا ہے۔

سول حکومت کے ساتھ رابطوں کے ذمہ دار ایک سینیئر فوجی افسر کے مطابق ملک کی سویلین اور فوجی قیادت میں اس باضابطہ رابطے کے فقدان کے باعث کئی امور تاخیر کا شکار ہو رہے ہیں جن میں سر فہرست قومی دفاعی پالیسی (نیشنل ڈیفنس پالیسی) کی منظوری ہے۔

عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ ملکی سرحدوں کی دفاع سے متعلق یہ پالیسی کئی ماہ قبل تیار کی گئی تھی لیکن اسے ابھی تک حکومتی منظوری نہیں مل سکی۔

مسلح افواج کی جانب سے تیار کردہ اس پالیسی کی منظوری وفاقی حکومت، عموماً کابینہ کمیٹی برائے دفاع کے اجلاس میں بحث کے بعد دیتی ہے۔

پیپلز پارٹی کی حکومت نے آخری چند ماہ میں فوجی اور سول حکومت کے درمیان تبادلہ خیال کے اس باضابطہ فورم کا اجلاس نہیں بلایا تھا جبکہ موجودہ حکومت نے بھی تاحال اس کمیٹی کو فعال نہیں کیا ہے۔

کابینہ کمیٹی برائے دفاع کی سربراہی وزیراعظم کرتے ہیں جبکہ وزرا دفاع، داخلہ، خارجہ اور خزانہ، قومی سلامتی کے مشیر، تینوں مسلح افواج کے سربراہان اور بعض دیگر سینیئر فوجی اور سول افسران اجلاس میں شریک ہوتے ہیں۔

حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ کے ترجمان مشاہداللہ خان کا کہنا ہے کہ فوجی اور سول قیادت میں عدم روابط کا تاثر درست نہیں ہے۔

’سول اور فوجی قیادت کے درمیان کئی مواقع پر ملاقاتیں ہو چکی ہیں اور اہم اور فوری نوعیت کے معاملات پر بعض فیصلے بھی کیے گئے ہیں۔‘

موجودہ حکومت ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک جامع پالیسی تیار کرنے کی بھی خواہش مند ہے جسے ’قومی سلامتی پالیسی‘ کا نام دیا جا رہا ہے۔

اس قومی سلامتی پالیسی کی تیاری کے لیے حکومت نے سیاسی رہنماؤں کا اجلاس منعقد کرنے کی کوشش کی لیکن اس میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے یہ کہ کر شرکت کرنے سے انکار کیا کہ وہ اس اجلاس میں جانے سے قبل فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور وزیراعظم نواز شریف سے بند کمرے میں ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔

ملک کے دو بڑے سیاسی رہنماؤں اور فوجی سربراہ کے درمیان یہ ملاقات بھی تاحال نہیں ہو سکی اور ایسا نہ ہو سکنے کی کوئی وضاحت بھی کسی جانب سے سامنے نہیں آئی ہے۔

اسی بارے میں