’پاک بھارت دوستی اور امن کا خواب‘

Image caption دونوں ممالک کے کارکن گزشتہ تین ماہ سے سرحد پر مشترکہ جشن کی تیاریاں کر رہے تھے

پاکستان اور بھارت میں حالیہ کشیدگی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان امن اور دوستی کے خواہشمند چند قدم پیچھے ہٹ گئے ہیں اور انہوں نے پاکستان کے یوم آزادی کے موقع پر دونوں مملکوں کی سرحد پر منعقد مشترکہ پروگرام ملتوی کر دیا ہے۔

پاک انڈیا پیپلز سارک کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ سرحد پر ہلاکتوں اور نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن پر حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے تناظر میں کیا گیا ہے۔

حملوں میں پاکستانی فوجی ملوث تھے: بھارت

پاک بھارت تعلقات میں اتار چڑھاؤ کی تفصیل

پاک انڈیا پیپلز سارک نے چودہ اگست کو کھوکھراپار موناؤ سرحد پر مشترکہ جشن کا پروگرام بنایا تھا اور تجویز دی تھی کہ سرحد کی دونوں اطراف چوبیس اگست کو امن کانفرنسوں کا انعقاد کیا جائے۔

یاد رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کی جانب سے بھی جب بھارت سے تعلقات میں بہتری کی کوشش کی گئی تو، ان ہی دنوں ممبئی حملے اور قندھار میں بھارتی قونصل خانے پر حملے کے واقعات پیش آئے، جس کا الزام پاکستان پر عائد کیا گیا جس کے بعد صورتحال کشیدہ ہوگئی اور پیپلز پارٹی حکومت کو اپنے موقف میں تبدیلی لانی پڑی۔

موجودہ وزیراعظم میاں نواز شریف نے بھی اپنی حکومت کے قیام کے بعد بھارت سے اچھے تعلقات کی خواہش کا اظہار کیا اور بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے انہیں مبارک باد کے لیے ٹیلیفون بھی کیا۔

اس بار پھر سرحد پر فائرنگ کے واقعات ہوئے اور نتیجے میں صورتحال کشیدہ ہوگئی۔

پاک انڈیا پیپلز سارک کے پاکستانی رہنما کرامت علی اس وقت بھارت میں موجود ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ بھارت میں سیاسی جماعتوں اور میڈیا کی جانب سے انتہائی جذباتی رد عمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’یہاں جو دوست ہیں ان کا خیال ہے کہ تھوڑا وقت دینا چاہیے، اسی لیے اس پروگرام کو کچھ دنوں کے لیے ملتوی کر دیا ہے۔‘

کرامت علی کے مطابق یہ تو اب معمول بن گیا ہے کہ عام لوگ جب کچھ کرنا چاہتے ہیں یا حکومتوں کے درمیان تھوڑے بہتر تعلقات پیدا ہوتے ہیں تو کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آجاتا ہے۔ ’دونوں ملکوں میں ایسے لوگ ہیں جن کو کشیدگی یا تنازعے سے فائدہ پہنچاتا ہے، وہ نہیں چاہیں گے کہ ان کے مفادات متاثر ہوں۔‘

کرامت علی کے مطابق’ کشیدگی سے دونوں ملکوں کے عام لوگ متاثر ہوتے ہیں کیونکہ پاکستان ہو یا بھارت ابھی تک ساٹھ فیصد لوگوں کو پینے کا صاف پانی نہیں ملتا، آدھی سے زیادہ آبادی کو صاف ستھرا ٹوائلیٹ تک میسر نہیں ہے۔جو بڑھتی ہوئی ملٹرائزیشن ہے، اس سے کچھ لوگوں کو ضرور فائدہ ہوتا ہے کیونکہ وہ لوگوں کو لڑا کر حکمرانی کرتے رہتے ہیں‘۔

پاکستان اور بھارت میں دوستی اور امن کا خواب دیکھنے والے یہ کارکن گزشتہ تین ماہ سے سرحد پر مشترکہ جشن کی تیاریاں کر رہے تھے لیکن کامیاب نہیں ہوئے۔ کرامت علی کے مطابق وہ تو کوشش ہی کر سکتے ہیں، جو کبھی کامیاب ہوتی ہے تو کبھی نہیں۔

ادھر پاک انڈیا پیپلز سارک کے بھارتی رہنما سمیر گپتا کا کہنا ہے کہ وہ امن کے لیے لوگوں سے جب بات چیت کرتے ہیں اور آہستہ آہستہ لوگوں کی سوچ بدلتے ہیں لیکن جب بھی کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آتا ہے تو دونوں طرف میڈیا اس کو اچھلاتا ہے اور یہ میڈیا ساری محنت ضائع کردیتا ہے یعنی جو اقدامات تین سال میں اٹھائے جاتے ہیں وہ تین روز میں ضائع ہو جاتے ہیں۔

سمیر گپتا کے مطابق اگر کسی کو دشمن بنایا جائے تو وہ بیچنا آسان ہوجاتا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ’انڈیا میں پاکستان کو خطرہ بنا کر فروخت کرنا بہت آسان ہے، ایسے دھڑا دھڑ خبریں بکتی ہیں اور ٹی وی چینلز کی ریٹنگ بڑھ جاتی ہیں۔ اسی طرح کی صورتحال پاکستان میں بھی نظر آتی ہے۔‘

اسی بارے میں