بلوچستان: تشدد کے واقعات میں دس ہلاک

عسکریت پسند
Image caption ہلاک ہونے والے آٹھ افراد کے بارے میں حکام کا دعویٰ ہے کہ ان کا تعلق کالعدم عسکریت پسند تنظیموں سے ہے۔

پاکستان کے صوبے بلوچستان کے تین مختلف علاقوں میں بم دھماکے اور فائرنگ کے واقعات میں دس افراد ہلاک ہوگئے۔

سنیچر کو پیش آنے والے تشدد کے واقعات میں ہلاک ہونے والوں میں حکومت کی حامی ایک قبائلی شخصیت بھی شامل ہے۔

ڈیرہ بگٹی کے علاقے میں بم دھماکے اور فائرنگ سے دو افراد ہلاک ہوگئے۔

کوئٹہ پھر سوگوار، نمازیوں پر فائرنگ سے نو ہلاک

کوئٹہ: نمازِ جنازہ میں دھماکہ، ڈی آئی جی سمیت تیس ہلاک

بلوچستان میں شدت پسندی کے اہم واقعات

ڈیرہ بگٹی میں لویز فورس کے ذرائع کے مطابق نامعلوم افراد نے پٹوخ کے علاقے میں دھماکہ خیز مواد نصب کیا تھا جس کے پھٹنے سے ایک قبائلی شخصیت وڈیرہ ذرہ خان ہلاک ہوا۔ وڈیرہ ذرہ خان حکومت کے حامی بتائے جاتے ہیں۔

فائرنگ کے ایک اور واقعے میں حکومت کی ایک اور حامی شخصیت کا ذاتی محافظ ہلاک ہوا۔

سنیچر کو ہلاک ہونے والے آٹھ افراد کے بارے میں حکام کا دعویٰ ہے کہ ان کا تعلق کالعدم عسکریت پسند تنظیموں سے ہے۔

انتظامیہ کے ایک اہلکار نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ بولان کے علاقے میں فرنٹیئر کور کے سرچ آپریشن کے دوران چھ مسلح افراد ہلاک ہوگئے۔ اہلکار کا کہنا تھا کہ یہ لوگ فائرنگ کے تبادلے میں مارے گئے۔

ایک اور واقعے میں دو افراد کوئٹہ کے قریب ضلع مستونگ کے علاقے اسپلینجی میں ہلاک ہوئے۔

فرنٹیئر کور بلوچستان کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ اس علاقے میں مسلح افراد نے ایف سی کی ایک چیک پوسٹ پر حملہ کیا۔ جوابی فائرنگ سے دو افراد ہلاک ہوگئے۔

انھوں نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں کوہزئی اور نواز شامل ہیں۔

فرنٹیئر کور بلوچستان کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ مارے جانے والے دونوں افراد کا تعلق کالعدم بلوچ عسکریت تنظیم سے ہے۔ ترجمان کا یہ بھی یہ دعویٰ تھا کہ یہ افراد چند روز بیشتر مسافروں کو بسوں سے اتارنے اور ان کو قتل کرنے کے واقعہ میں ملوث تھے۔

انھوں نے کہا کہ ان کے قبضے سے اسلحہ بھی بر آمد کر لیا گیا۔

اسی بارے میں