پاکستان، بھارت کا ایک دوسرے پر فائرنگ کا الزام

انڈین بارڈر فورس کے اہلکار (فائل فوٹو)
Image caption انڈین بارڈر فورس کے ترجمان کے مطابق ان کا ایک اہکار زخمی ہوگیا ہے

پاکستان اور انڈیا کے حکام نے ایک دوسرے کی جانب سے سرحدی چوکیوں پر فائرنگ کے الزامات عائد کیے ہیں۔

پاکستان نے الزام عائد کیا ہے کہ انڈیا کی فوج نے کشمیر کے متنازعہ علاقے اور صوبہ پنجاب میں سیالکوٹ سیکٹر میں سرحدی چوکی پر فائرنگ کی ہے جس کے جواب میں دونوں افواج کے درمیان وقفے وقفے سے فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔

دوسری جانب خبر رساں ادارے رائٹرز کو انڈیا کی بارڈر سکیورٹی فورس کے ترجمان نے بتایا ہے کہ پاکستانی رینجرز نے جموں سے چالیس کلومیٹر جنوب میں کناچک کے مقام پر اس کی چوکی پر فائرنگ کی جس میں بی ایس ایف کا ایک اہکار زخمی ہوگیا ہے۔

انڈیا کی بارڈر سکیورٹی فورس کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’یہ دوسری جانب سے ایک بین الاقوامی سرحد پر بلا اشتعال فائرنگ کا واقعہ ہے۔‘

پاکستان کے عسکری ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’انڈین بارڈر سکیورٹی فورس نے سیالکوٹ سیکٹر میں ہیڈ مرالا کے علاقے میں رینجرز کی ایک چوکی پر بلااشتعال فائرنگ کی۔‘

انہوں نے کہا ’وقفے وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے لیکن کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔‘

پاکستان کے عسکری ذرائع کے مطابق’ پاکستان میں سیالکوٹ سیکٹر میں فائرگ کے تبادلے کے بعد بھارتی فوج نے کشمیر کے متنازعہ علاقے میں کوٹلی کے قریب لائن آف کنٹرول پر بھی بلا اشتعال فائرنگ کی۔‘

پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اعزاز چوہدری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ اتوار کی صبح سیالکوٹ سیکٹر میں انڈین بارڈر فورس نے پاکستانی رینجرز پر بلااشتعال فائرنگ کی جس پر رینجرز نے مزاحمت کی اور ذمہ داری سے جواب دیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ’لائن آف کنٹرول پر فائر بندی پر عمل کرنا ضروری ہے۔‘

اس سے قبل بھارت نے الزام عائد کیا تھا کہ منگل کو جموں میں لائن آف کنٹرول کے قریب اس کے پانچ فوجیوں کو ہلاک کرنے والے حملے میں پاکستانی فوجی ملوث تھے اور یہ کہ ’اس واقعے کے مضمرات پاکستان کے ساتھ تعلقات پر نظر آئیں گے‘۔

دریں اثناء پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے لائن آف کنٹرول پر ہونے والے حالیہ واقعات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ دوطرفہ فوجی روابط کے موجودہ طریقۂ کار کو مزید بہتر طریقے سے استعمال کرنے کی ضرورت ہے تاکہ غلط فہمیاں پیدا نہ ہوں اور صورتحال کشیدگی کی طرف نہ بڑھے۔

اسی بارے میں