کراچی میں ’فلیش کڈنیپنگ‘ میں اضافہ

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں جہاں بڑھتے جرائم لوگوں کی پریشانیوں میں اضافہ کر رہے ہیں وہیں اغوا کی وارداتوں کے ایک نئے رجحان نے شہریوں کے پریشانیوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

اس جرم کو مقامی طور پر’فلیش کڈنیپنگ‘ یا ’ایکسپریس کڈنیپنگ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

پاکستان میں اغوا کی پھلتی پھولتی ’صنعت‘

ان وارداتوں کا شکار شہریوں نے بی بی سی کو بتایا کہ مسلح افراد انہیں ایک دن کے لیے اغوا کر کے ان کے بینک اکاؤنٹوں سے تاوان وصول کر چکے ہیں۔

اس سے پہلے کہ ان کے خاندانوں کو ان کی گمشدگی کا پتہ بھی چل سکے، انہیں اس اس دھمکی کے ساتھ واپس پہنچا دیا جاتا ہے کہ اگر کسی کو بتایا تو جان سے مار دیے جائیں گے اور اب مغوی اس قدر خوفزدہ ہیں کہ اپنا نام تک بتانے کو تیار نہیں۔

نورین (فرضی نام) ایسی ہی ایک خاتون ہیں جنہوں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ بازار سے گھر تک کا پانچ منٹ کا فاصلہ ان کی زندگی کا سب سے لمبا سفر بن جائے گا۔

گاڑی میں بیٹھتے ہی ان کو اور ان کے بیس سالہ بیٹے کو دو مسلح افراد نے یرغمال بنا لیا۔ دو گھنٹے تک زندگی اور موت کے بیچ اٹکے ماں بیٹے کو کراچی کی سڑکوں پر گھمایا گیا، رقم لوٹ لی گئی اور یہاں تک کے ان کے اے ٹی ایم سے تمام رقم نکلوا لی گئی۔

نورین کی ان کی مجبوری ان کی آنکھوں کے آنسوؤں سے ٹپکتی نظر آئی: ’ان کے پاس میرا بیٹا تھا، میں ان کے ہاتھ سے اس کو چھین لینا چاہتی تھی، لیکن میں کچھ بھی نہیں کر سکی۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے پولیس کو کیوں نہیں اطلاع کی تو جواب سادہ سا تھا: ’ہمیں اب کسی پر اعتبار نہیں رہا ، اطلاع کا کیا فائدہ ہوتا، ہمیں تو دونوں طرف سے ڈر ہے۔‘

کراچی میں کسی کے لیے بھی کسی کو اغوا کرنا بظاہر ایک عام سی بات ہو گئی ہے۔ اس کا ثبوت بی بی سی کو خفیہ ذرائع سے ملنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آیا۔جس میں ملزم پولیس کا روپ دھار کر دن دہاڑے ایک شخص کو اپنی وین میں ڈال کر لے جاتے ہیں۔

شاید یہ بھی ایک وجہ ہے کہ اغوا کی اس خوفناک نئی طرز کی اطلاعات پولیس تک نہیں پہنچائی جا رہی ہیں۔ انسدادِ جرائم سیل کے ایس ایس پی او نیاز کھوسو کا کہنا ہے کہ نظام اس قدر پیچیدہ ہو گیا ہے کہ لوگ تھانہ کچہری کے چکر لگانے سے زیادہ پچاس ہزار تاوان دے کر اپنی جان کی امان پانے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں۔

کراچی میں پرائیوٹ حفاظتی کنسلٹنٹ نوید خان کا کہنا ہے کہ ایسی کئی وارداتوں کے مغوی ان سے رابطہ کر چکے ہیں۔

ان کا ذاتی خیال ہے کہ چونکہ فلیش کیڈنیپنگ کا دورانیہ اتنا کم ہوتا ہے اور اکثر گھر والوں تک کو معلوم نہیں ہوتا، اس لیے مغوی کو برآمد کرنے کے لیے پولیس کچھ کر بھی نہیں سکتی۔

ان کا مشورہ ہے کہ ’شہریوں کو اپنے آپ کو مشکل ہدف بنانا ہو گا۔ ایسے بنک یا اے ٹی ایم کا رخ نہ کریں جو سنسان جگہ پر ہو، اپنے زیور یا فون کبھی نمائشی طریقے سے نہ پیش کریں اور ہر وقت اپنے آس پاس کے ماحول سے چوکنا رہیں‘۔

تاہم اغوا برائے تاوان کی ’صنعت‘ گزشتہ کئی سالوں سے کراچی میں پھلتی پھولتی نظر آ رہی ہے اور پچھلے آٹھ ماہ سے ایس ایس پی کھوسو اس جرم سے وابستہ افراد کے تعاقب میں ہیں اور اس عمل میں پولیس اور سیٹیزن پولیس لائیزین کمیٹی مل کر کام کر رہی ہے اور محدود وسائل کی وجہ سے پولیس ان کیسوں میں جدید تکنیکی امداد شہری پولیس کمیٹی یا ’سی پی ایل سی‘ سے حاصل کرتی ہے۔

المیہ یہ ہے کہ بہت سے لوگ اغوا کے معاملات میں سی پی ایل سی سے تو رابطہ کر لیتے ہیں لیکن پولیس پر اعتماد کھوتے نظر آ رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کے اب بھی پچاس فیصد اغوا کی وارداتیں پولیس کو رپورٹ تک نہیں ہوتیں۔

ایس ایس پی او کھوسو کے نزدیک اس جرم کو ختم کرنا کراچی کے باقی مسائل کی طرح ایک پیچیدہ عمل ہے اور اس کے سیاسی زاویے پر غور کرنا ضروری ہے۔

ان کا کہنا ہے: ’آدھے سے زیادہ کراچی نو گو ایریا ہے، پولیس وہاں آزادی سے کچھ بھی نہیں کر پاتی۔ اور اغوا کرنے والے ایسے ہی علاقوں کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں‘۔

تاہم اس سال تقریباً ستر سے زائد اغوا کے کیسوں پر ایف آئی آر درج ہوئی ہے اور بائیس ملزمان قانون کی گرفت میں بھی آ چکے ہیں۔

کہا جا رہا ہے کہ یہ بھی ایک وجہ ہے کے فلیش کڈنیپنگ کی وارداتیں بڑھ رہی ہیں جس میں ملزم کو زیادہ منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی اور پکڑے جانا زیادہ مشکل ہوتا ہے۔

بی بی سی کی بات ایسے بہت سے عام مڈل کلاس شہریوں سے ہوئی جو بازار سے گھر تک کے مختصر سفر کے دوران اپنا احساسِ تحفظ اور اپنا ساز و سامان دونوں گنوا چکے تھے ـ لیکن خوف کا یہ علم تھا کہ پولیس تک جانا تو دور کی بات، کیمرے پر بات تک کرنے کو تیار نہیں تھے۔

سوال یہ اٹھتا ہے کہ جس ملک میں پولیس بھی ہے، عدلیہ بھی اور عوام کے لیے کچھ کرنے کے دعویدار حکمران بھی، لیکن پھر بھی یہ سہمے لوگ کسی پر بھی اعتبار کیوں نہیں کر پا رہے؟

اسی بارے میں