’ہمیں یاد ہے وہ زمانہ‘

ایم آرڈی کا ایک جلسہ
Image caption ایم آر ڈی کے اہم رہنما غوث بخش بزینجو کارکنوں سے خطاب کر رہے ہیں۔ لیاری 1983

ایم آر ڈی کی کہانی پاکستان کی تاریخ میں ایک ایسا باب ہے جس سے ملک کے بیشتر شہری ابھی بھی شاید نا واقف ہیں۔ جنرل ضیا کے مارشل لا کے خلاف چلنے والی اس قومی تحریک میں ملک کی تقریباً ساری سیاسی جماعتوں کے ساتھہ مزدور تنظیمیں اور طلباء تنظیمیں بھی شریک تھیں (جماعت اسلامی اور مسلم لیگ اس میں شامل نہیں تھیں حالنکہ مسلم پی ایم ایل کا ایک دھڑہ ملک قاسم گروپ کا اس میں اہم کردار تھا)۔

اب جب ایم آر ڈی کی اگست 1983 کی مزاحمت کو تیس سال گزر گئے ہیں قومی سطح پر اس کا ذکر کم ہی ہوتا ہے۔ لیکن سیاستدانوں کا کہنا ہے کہ یہ ملک کی ایک اہم تحریک تھی۔

قیام

ایم آر ڈی کِن حالات میں شروع کی گئی؟ پیپلز پارٹی کے اعتزاز احسن بتاتے ہیں کہ اس کا آغاز ایک طرح سے وکلاء کے رابھوں سے ہوا۔

’انیس سو اسی میں ضیا الحق نے آئین میں ایک ترمیم کی جس کے تحت ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے آئینی اختیارات کو صلب کر دیا گیا۔ اس کے خلاف ایک وکلاء کی تحریک پیدا ہوئی۔ اس کے رہنماؤں میں عابد حسن منٹو، حفیظ لاکھو، بیرسٹر ظہور، سید افضل حیدر تھے، اس طرح کے لوگ تھے جن کا مختلف جماعتوں سے تعلق تھا۔ اس تحریک نے بار اورسیاستدانوں میں تمام جماعتوں کو یکجا کر دیا۔ انیس جون انیس سو اسی میں لاہور میں وکلا کنوینشن ہوا جس میں تمام جماعتوں نے حصہ لیا، سب ایک پلیٹ فارم میں آگئیں ۔‘

اعتزاز احسن ان لوگوں میں شامل تھے جو اس موقع پر گرفتار ہوئے۔وہ کہتے ہیں کہ پھر اس سال اگست میں کراچی میں ایک کنوینشن ہوا ، پھر نومبر میں پشاور میں ایک کنوینشن ہوا۔ ’وکلاء کی تحریک نے تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر دیا۔ جس کی وجہ سے پارٹیوں میں گفت و شنید شروع ہو گئی اور رہنماؤں کا ملنا جلنا ہو گیا۔ اور پھر اکیس فروری انیس سو اٹھاسی کو ایم آرڈی کا اعلان لاہور میں میاں محمود قصوری کے گھر (چار مُزنگ) سے کیا گیا۔ جس میں بیگم نصرت بھٹو بھی شریک ہوئیں اور وہاں سے ان کو گرفتار کیا گیا۔ لیڈرز کو بھی وہاں سے گرفتار کیا گیا، میں پہلے سے ہی گرفتار تھا لیکن سینیٹر اقبال حیدر مرحوم کو وہاں سے گرفتار کیا گیا۔‘

عوامی نیشنل پارٹی کے بیرسٹر لطیف آفریدی بھی تحریک میں شامل تھے۔ اس زمانے میں وہ میر غوث بخش بزنجو کی جماعت میں تھے۔ وہ یاد کرتے ہیں کہ ’ضیا الحق نے تین چار بار مرتبہ انتخابات کرانے کا وعدہ کیا کہ لیکن ہر دفعہ یہ وعدہ توڑا۔ اور وہ زیادہ سخت گیر ہوتا گیا اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو پکڑ دھکڑ کر انہیں جیلوں میں بند کرتا رہا‘۔

Image caption ایم آر ڈی کے کئی رہنما: مولانا فضل الرحمان، فیصل صالح حیات، نصرت بھٹو اور بینظیر بھٹو

تحریک میں مزدور اور طلبا تنظیموں کے ساتھ ملک کی تقریباً ساری سیاسی جماعتیں موجود تھیں۔ لیکن یہ کیسے ہوا کہ ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے مخالفت اور بھٹو پر انتخابی دھاندلی کے الزامات لگانے والی پی این اے یا پاکستان قومی اتحاد کی جماعتیں بھی اس تحریک میں شامل ہوئیں؟

جمعیت علمائے اسلام کے مولانا فضل الرحمان بتاتے ہیں کہ ’پی این اے کے حلقوں میں ابتدا میں ضیا الحق کے لیے نرم گوشہ پایا گیا کہ اگر نوے دن کے اندر الیکشن کر دئیے جاتے ہیں تو اس حد تک صورتحال کو قبول کیا جا سکتا ہے لیکن بعد میں اس نے تمام سیاسی جماعتوں پر پابندیاں لگائیں اور الیکشن کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا، تو پھر جا کر پی این اے کی قیادت اور خاص طور پر میرے والد مولانا مفتی محمود مرحوم اور نوابزادہ نصر اللہ خان مرحوم نے نے یہ موقف اختیار کیا کہ یہ تو قوم سے ایک وعدہ تھا۔ تو پھر طے ہوا کہ مشترکہ جد وجہد کی جائے۔تو اس کے لیے ایک فارمولا طے ہوا اور جمعیت علمائے اسلام نے تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر تحریک چلائی۔‘

ایم آر ڈی میں شرکت کے فیصلے پر پی این اے کا اتحاد ٹوٹ گیا۔ مولانا فضل الرحمان کہتے ہیں کہ ’جماعت اسلامی اور مسلم لیگ ضیاالحق کے ساتھ رہیں۔ ہم ایم آر ڈی تحریک کی طرف چلے گئے اور جماعت اسلامی آخری وقت تک ضیا الحق کی قریب ترین جماعت تصور کی جاتی رہی۔‘

چاروں صوبوں کی سیاسی قیادت اور کارکن اس میں شریک تھے۔ لطیف آفریدی بتاتے ہیں کہ بلوچستان کی شرکت پوری تھی۔’میں خود اس وقت غوث بخش بزنجو کی جماعت پاکستان نیشنل پارٹی کا صوبائی صدر تھا۔غوث بخش بـزنجو اس تحریک میں سرگرم تھے اور ساتھ بلوچستان سے جو دوسری اہم شخصیت تھی وہ محمود خان اچکزئی ہیں، جن پر قندھاری بازار کوئٹہ میں زبردست فائرنگ کی گئی۔اس میں وہ بچ گئے لیکن ان کے پارٹی کے کئی کارکن شہید ہو گئے۔اس کے علاوہ عام پروگریسیو ورکز، ترقی پسند ورکرز‘ بلوچوں میں بی ایس او وغیرہ، پختون سٹوڈنٹس آرگنائزیشن، پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن یہ سب اس تحریک کے حامی تھے۔‘

اگست 1983

ایم آر ڈی کے قیام کے کچھ ماہ بعد اس کو بڑا دھچکہ پی آئی اے طیارے کے اغوا کے واقعے سے ملا جس کی ذمہ داری ذوالفقار علی بھٹو کے بیٹوں کی مسلح تنظیم الذوالفقار نے قبول کی۔ اس واقعہ میں ایک پاکستانی سفارتکار کو بھی قتل کر دیا گیا۔ ایم آر ڈی کو ایک پُر امن سیاسی مزاحمت کے طور پر شروع کیا گیا تھا جس اور اس واقعے کے بعد مارشل لا حکام کو تحریک کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا جواز مل گیا۔

پھر ایم آرڈی کا اہم مزاحمتی مرحلہ چودہ اگست انیس سو تراسی سے شروع کیا گیا۔

اعتزاز احسن بتاتے ہیں کہ ’ہم نے سوچا کہ موومنٹ میں جان ڈالی جائے۔ انیس سو تراسی میں بڑی پر جوش تحریک شروع کی گئی اور سندھ میں بالخصوص۔ سکرنڈ اور دادو اور حیدر آباد اور نیشنل ہائی وے پر بہت سے لوگ مارے گئے۔‘

اس بارے میں مولانا فضل الرحمان بتاتے ہیں ’سندھ میں کافی سختی کی گئی۔ سڑکوں پر اگر لوگ قرآن کریم کا ختم کرنے کے لیے احتجاجی انداز میں بیٹھے تو ان کو روندا گیا، مارا گیا، ان پر گولیاں چلائی گئیں۔ دیہاتوں کو انہوں نے جلایا۔ میں اس وقت جیل میں تھا تو ہمارے قائم مقام صدر تھے مولانا محمد شاہ امروٹھی مرحوم، انہوں نے ایمنسٹی انٹرنیشنل سے اپیل کی کہ وہ آئیں اور اس صورتحال کو دیکھیں۔‘

لطیف آفریدی بتاتے ہیں کہ اگست 1983 میں ملک بھر میں ہزاروں لوگ گرفتار کیے گئے جس میں وکیل، سیاسی کارکن اور سیاسی رہنما کے علاوہ ’ہر طبقہ فکر کے وہ لوگ شامل تھے جو اس جمہوری تحریک سے وابسطہ تھے‘۔

اعتزاز احسن کہتے ہیں کہ ’تمام لیڈرشپ کو گرفتار کر لیا گیا‘۔

مولانا فضل الرحمان یاد کرتے ہیں کہ ’میں خود کوئی چار پانچ سال مسلسل جیل آتا جاتا رہا۔ اور میرے پارٹی کے لوگ گرفتار ہوئے۔ اور اس وقت تمام سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے قربانیاں دیں۔‘

گرفتاریوں کا سلسلہ جاری رہا۔ لطیف آفریدی بتاتے ہیں کہ ان کو بھی گرفتار کیا گیا۔ ’ستائیس اگست کو پشاور میں قصہ خوانی میں ہم نے بڑا ہنگامہ کیا۔ میں اور کچھ دوست اس وقت گرفتار ہوئے اور ہمیں اگلے دن ڈیرہ اسمعیل خان جیل پہنچا دیا گیا۔ وہاں پر تقریباً چار ، پانچ سو پیپلز پارٹی اور نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے لوگ بند تھے۔‘ وہ بتاتے ہیں کہ دس دن بعد انہیں ہرپور جیل منتقل کیا گیا جہاں پر بھی سینکڑوں کارکن گرفتار تھے، اور بہت سارے سیاسی رہنما بھی۔

مولانا فضل الرحمان بھی بتاتے ہیں کہ وہ کئی مرتبہ گرفتار ہوئے اور تحریک چلانے کے لیے سب کو چھپ چھپ کر کام کرنا پڑتا۔

لطیف آفریدی کہتے ہیں کہ اس کارروائی میں سب سے زیادہ نشانہ پیپلز پارٹی اور مزدور کسان پارٹی کے کارکنوں کو بنایا گیا۔

اور اعتزاز احسن کہتے ہیں کہ حکام کا رویہ اس زمانے میں واقعی سخت تھا۔ ’ہم نے مشرف کے خلاف بعد میں تحریک چلائی، لیکن ان کا رویہ نسبتاً نرم رہا۔ ضیا الحق کے مارشل لا میں تو کوڑے لگائے جاتے، پھانسی کی سزا دے دی جاتی۔ حراست میں تشدد کیا جاتا۔ ’ہمارے کئی دوست کو لاہور قلعہ لے جایا جاتا۔ جب وہ واپس آتے تو بہت بُری حالت ہوتی تھی ان کی۔‘

اسی بارے میں