پاکستان بھر میں بارشوں اور سیلاب کی پیش گوئی

پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اٹھارٹی (این ڈی ایم اے) نے منگل سے ملک بھر میں بارشوں اور سیلاب کی پیش گوئی کی ہے۔

این ڈی ایم اے کی جانب سے جاری ہونے والی پریس ریلیز کے مطابق اگلے 48 گھنٹوں میں ملا کنڈ، ہزارہ، مردان، پشاور، راولپنڈی، سرگودھا، گوجرانوالہ، لاہور، ڈیرہ غازی خان، ڈیرہ اسماعیل خان، ژوب، سبی اور نصیر آباد کے تمام اضلاع میں شدید بارشوں اور سیلابی ریلے کا امکان ہے۔

ادارے کے مطابق تمام صوبائی اور دیگر اداروں کو نشیبی علاقوں، دریاؤں، ندی نالوں کی گذر گاہوں اور قریبی علاقوں کو خالی کرنے کی ہدایات جاری کر دیں ہیں۔

این ڈی ایم اے نے نشیبی علاقوں اور آبی گذر گاہوں میں رہائش پذیر افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی ہے۔

اس سے پہلے مکمۂ موسمیات پشاور کے ڈائریکٹر مشتاق شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ منگل سے پشاور، کوہاٹ اور ہزارہ ڈویژن میں شروع ہونے والا مون سون کا یہ سلسلہ بعض مقامات پر شدت بھی اختیار کر سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ شمال اور شمال مشرقی پنجاب کے علاقوں سرگودھا اور جہلم میں بارشیں منگل کی رات سے شروع ہونے کا امکان ہے جب کہ خیبر پختونخوا میں منگل کی صبح یا دوپہر کے وقت بارش ہو سکتی ہے۔

’بارشوں میں 80 ہلاک، 333 دیہات متاثر‘

چترال: سیلابی ریلے سے مکانات، پُل تباہ

دریائے سوات میں سیلاب، پلوں کو نقصان

مشتاق شاہ کے مطابق یہ بارشیں شمالی علاقہ جات جیسے ہزارہ ڈویژن، پشاور اور کوہاٹ ڈویژن میں ہو سکتی ہیں اور بعض علاقوں میں بارشوں کی شدت زیادہ ہو گی۔

انھوں نے کہا کہ یہ بارشیں نوشہرہ، مردان، سوات اور بالائی علاقوں کی ندی نالوں اور آبی گزرگاہوں میں طغیانی کا باعث ہو سکتی ہیں۔

مکمۂ موسمیات پشاور کے ڈائریکٹر نے کہا کہ کہ مون سون کا یہ سلسلہ جب مغرب سے اٹھنے والے نظام سے ٹکراتا ہے تو اس سے بارشوں کی شدت میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔

دوسری جانب قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کے ترجمان لطیف الرحمان کا کہنا ہے کہ انھوں نے تمام متعلقہ علاقوں میں انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی وارننگ جاری کر دی ہے اور ضلعی انتظامیہ سے کہا گیا ہے کہ وہ کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار رہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس وقت صوبے کے دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے لیکن اب بارشوں کے بعد کیا صورت حال پیدا ہوتی ہے اس کے لیے انتظایہ کو چوکس کر دیا گیا ہے ۔

پشاور میں بڈھنی نالے، ناصر باغ شاہ عالم اور بخشو پل کے قریب آبادی کو الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ پانی کا بہاؤ بڑھ جانے پر وہ محفوظ مقامات پر منتقل ہو سکیں۔

انھوں نے کہا کہ الرٹ وارننگ میں انتظامیہ متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا حکم دے گی اور ان کے لیے سکولوں میں رہائش کا انتظام کیا جائے گا اور جہاں سکول یا کوئی سرکاری عمارت دستیاب نہیں ہو گی وہاں متاثرہ افراد کو خیمے اور ٹینٹ فراہم کیے جائیں گے۔

یاد رہے دو ہفتے پہلے بارشوں سے پشاور کے بڈھنی نالے میں طغیانی آنے سے نشاط مل میں ایک سو سے زیادہ مکانات سیلابی ریلے سے تباہ ہو ئے تھے اور صوبے کے مخِتلف علاقوں میں بارشوں اور سیلابی ریلوں سے 19 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں