’اس دھرتی کا مجھ پر قرض تھا۔۔۔‘

Image caption کراچی جیل میں ہی حمیدہ کی ملاقات رشیدہ پنہور سے ہوئی

پاکستان میں گزشتہ تیس برس میں بہت کچھ بدل گیا، اس عرصےمیں دو بار آمریت اور چھ عوامی دور رہے لیکن اگر نہیں بدلا تو یہاں کا نظام جس کا حمیدہ گل کو افسوس ہے۔

حمیدہ گل آج کل گھریلو خاتون ہیں، لیکن وہ تیس سال پہلے اس وقت بحالی جمہوریت تحریک کا حصہ بنیں، جب وہ صرف میٹرک پاس تھیں۔ اِن دنوں اس عمر کے اکثر طالب علم سیاست سے انجان ہوتے ہیں یا اسے برا سمجھتے ہیں۔

جنرل ضیا الحق کے آمریتی دور میں جب جیل بھرو تحریک کا آغاز ہوا تو حمیدہ گل نے بھی رضاکارانہ طور پر گرفتاری پیش کی تھی۔

وہ بتاتی ہیں کہ ان دنوں کئی گرفتاریاں ہوئیں، کوڑے لگتے تھے اور جلسے جلوسوں کے دوران لوگوں کو مارا گیا۔’میں نے محسوس کیا کہ تاریخ کہہ رہی ہے کہ میں اپنا کردار ادا کروں اور اس دھرتی کا مجھ پر قرض ہے۔ میں نے فیصلہ کیا کہ مجھے گرفتاری دینی ہے اور سول نافرمانی کی تحریک کا حصہ بننا ہے۔‘

انہوں نے ستمبر کے پہلے ہفتے میں گرفتاری دی۔ حمیدہ بتاتی ہیں کہ اس روز انہوں نے گھر میں کسی کو کچھ نہیں بتایا، صوفی شاعر شاہ عبدالطیف بھٹائی کا رسالہ لیا اور اجرک اوڑھی۔ جب وہ نکلنے لگیں تو والدہ نے پوچھا کہ اجرک کیوں پہنی ہے کیونکہ وہ عام طور پر دوپٹہ پہنتی تھیں، جس پر ماں کو بتایا کہ ایسے ہی شوق میں پہنی ہے۔

حمیدہ کے مطابق شاہ لطیف کا رسالہ اس وجہ سے اٹھایا کہ یہ رہنمائی اور اندر سے طاقت بخشےگا تاکہ جس تحریک میں وہ اپنا کردار دا کرنے جا رہی ہیں اس کے راستے میں ڈگمگا نہ جائیں۔ انہوں نے حیدرآباد سیشن کورٹ پہنچ کر تقریر کی۔ اس دوران لوگوں کا مجمع لگ گیا اور انہیں گرفتار کرلیا گیا۔

حمیدہ گل کو گرفتاری کے بعد سی آئی ڈی سینٹر حیدرآباد منتقل کیا گیا جہاں صبح سے شام تک بٹھانے کے بعد انہیں مشورہ دیا گیا کہ معافی مانگیں اور چلی جائیں کیونکہ وہ چھوٹی بچی ہیں اور سیاست میں ان کا کوئی کام نہیں ہے۔

’میں نے انہیں کہا کہ یہ ظلم میں بھی محسوس کرتی ہوں، مجھے اس کے خلاف لڑنا ہے۔ اس لیے واپس نہیں جاؤں گی اور نہ ہی معافی مانگوں گی۔‘

اہلکاروں نے انہیں ایک کورا کاغذ دیا اور کہا کہ دستخط کر دیں مگر انہوں نے انکار کیا۔’انہوں نے مجھے گاڑی میں ڈالا اور کئی گھنٹے کے سفر کے بعد لانڈھی جیل لے آئے، ان دنوں لانڈھی جیل بچوں کے لیے مختص تھی اور مجھے کہا گیا کہ آپ بہت چھوٹی ہیں اس لیے یہاں رہنا پڑے گا۔‘

حمیدہ گل کے مطابق انہوں نےگاڑی سے اترنے سے انکار کر دیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ انہیں سینٹرل جیل منتقل کیا جائے جہاں ایم آر ڈی کی دوسری خواتین قید ہیں۔

’ تین چار گھنٹے وہاں ہی روکا گیا اور بعد میں سینٹرل جیل لے آئے۔ جب میں جیل کے بڑے گیٹ کے اندر داخل ہوئی تو یہ خیال ذہن میں آیا کہ اس میں اکیلے کیسے رہوں گی، لیکن جب وارڈ میں پہنچی تو ایسا محسوس ہوا جیسے یہاں ایک بہت بڑا شہر آباد ہے، ایک خاص مہمان کی طرح میرا استقبال کیا گیا۔‘

حمیدہ کے مطابق جیل میں جن خواتین کے ساتھ ملاقات ہوئی ان میں سے کسی کو کوئی مایوسی نہیں تھی۔ وہ اس پرجوش طریقے سے جیل میں رہیں کہ کبھی محسوس ہی نہیں ہوا کہ جیل میں ہیں۔

Image caption جیل میں جن خواتین کے ساتھ ملاقات ہوئی ان میں سے کسی کے پاس کوئی مایوسی نہیں تھی

کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کی ذیلی تنظیم ڈیموکریٹک سٹوڈنٹس فیڈریشن کی کارکن حمیدہ گل کہتی ہیں کہ جیل میں بھی مایوسی کا ماحول نہیں تھا۔

’رات کو قومی گیت گاتے تھے جبکہ دن میں تقریریں ہوتی تھیں۔ ہم ایسی تقریبات کرتے تھے جس سے تحریک کو جِلا ملے اور ہم جیل میں مایوس نہ ہوں تاکہ باہر کے لوگوں کو یہ پیغام مل سکے کہ اگر حوصلہ اور عزم ساتھ ہوں تو حالات کتنے بھی دشوار کیوں نہ ہوں ہم بڑی سے بڑی قربانی بھی دے سکتے ہیں‘۔

حمیدہ گل ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تو گھر والوں کو پتہ تھا کہ وہ طلبا کی سیاست میں تھیں، لیکن یہ اندازہ نہیں تھا کہ وہ گرفتار ہو جائیں گی۔ بقول ان کے ’گرفتاری کے بعد والد کا پیغام آیا کہ ہمت اور حوصلے کے ساتھ رہنا کبھی مایوس نہ ہونا۔ مجھے تم پر فخر ہے۔ اور جب والدہ ملنے آئیں تو انہوں نے نصیحت کی کہ اب جو قدم اٹھایا ہے اس کو نبھانا، اس سے حوصلہ اور بڑھ گیا۔‘

کراچی سینٹرل جیل میں حمیدہ گل کی پاکستان پیپلز پارٹی کی سرکردہ رہنما رقیہ خانم سومرو، نورجہاں سومرو، شمیم این ڈی خان اور رشیدہ پنہور جیسی نڈر خواتین سے ملاقات ہوئی۔

حمیدہ گل کے مطابق جیل میں لیکچر اور تقاریر ہوتی تھیں اور جو غیر سیاسی عورتیں ہوتی تھیں ان کو بھی لے کر آجاتے تھے اور ان کے مسائل پر بھی بات چیت ہوتی تھی۔ وہ انہیں سمجھاتے تھے کہ وہ آخر جیل کیوں آئے ہیں۔ یہ ہی وجہ تھی کہ ان عام خواتین کو بھی یہ سمجھ میں آیا کہ سیاسی تحریک کیا ہوتی ہے ۔

حمیدہ گل کی شادی ایک سیاسی کارکن شبیر لاشاری سے ہوئی، دونوں کا خواب سماج کی تبدیلی تھا۔ وہ بتاتی ہیں کہ جیل سے رہائی کے بعد شادی ہوگئی۔ ان دنوں ہی ان کی جماعت پاکستان کمیونسٹ پارٹی بھی انتشار کا شکار ہوگئی جس سے وہ کافی مایوس ہوئے اور وہ سیاسی طور پر غیر متحرک ہوگئے کیونکہ انہیں ایسی کوئی پارٹی نظر نہیں آئی جس کے ساتھ کام کریں۔

حمیدہ اپنی بیٹی اور شوہر کے ساتھ کراچی میں ایک متوسط آبادی کے علاقے میں کرائے کے مکان میں رہتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تحریک تو اب بھی چل رہی ہے اور لوگ بھی لڑ رہے ہیں، لیکن ایم آر ڈی نے ٹھہرے ہوئے پانی میں ایک پتھر پھینکا تھا۔

اسی بارے میں