’سزائے موت پر عمل درآمد کیا جائے گا‘

Image caption وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ حکومت کسی بھی غیر ملکی دباؤ میں نہیں آئے گی اور وہ ملکی قوانین کے تحت سزائے موت پر عمل درآمد کرنے کے لیے پرعزم ہے

پاکستان کی وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ بین الاقوامی دباؤ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے احتجاج کے باوجود سزائے موت کے قانون پر عمل درآمد کرے گی۔

اس وقت حکومت کے پاس چار سو ستر ایسے افراد کے مقدمات ہیں جن کی تمام تر اپیلیں مسترد ہوچکی ہیں اور اب صرف سزا کے حکم پر عمل درآمد ہونا باقی ہے۔

’سزائے موت پر عملدرآمد معطل کرنے کا مطالبہ‘

سزائے موت کا قانون، حکومت کی متزلزل پالیسی

وزارتِ داخلہ کے ترجمان عمر حمید نے بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا کہ وزارت داخلہ نے صدر آصف علی زرداری کو گُزشتہ ایک ماہ کے دوران پچیس کے قریب مقدمات بھیجے تھے تاکہ اُنہیں پھانسی دینے کا عمل شروع کیا جاسکے لیکن ابھی تک اعوانِ صدر کی طرف سے کوئی جواب سامنے نہیں آیا۔

اُنہوں نے کہا کہ حکومت کسی بھی غیر ملکی دباؤ میں نہیں آئے گی اور وہ ملکی قوانین کے تحت سزائے موت پر عمل درآمد کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

واضح رہے کہ صدر کو آئین کے تحت اختیار ہے کہ وہ عدالت کی طرف سے کسی بھی مجرم کو دی گئی پھانسی پر عمل درآمد روک سکتے ہیں یا پھر سزا کو عمر قید میں تبدیل یا سزا میں تخفیف کر دیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق دور حکومت نے سزائے موت کے قانون کو ختم کر کے اُسے عمر قید میں تبدیل کرنے سے متعلق قانون سازی کے لیے کچھ اقدامات تو کیے تھے لیکن اسے منطقی انجام تک نہیں پہنچایا جاسکا۔

وزارتِ داخلہ کے ذرائع کے مطابق سابق نگراں وزیر اعظم میر ہزار خان کھوسو کی حکومت کے دور میں بھی اُن مقدمات پر سزاؤں پر عمل درآمد نہیں ہوا جس میں مجرموں کو سزائے موت سُنائی گئی تھی۔ سابق نگراں وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری اور سابق سیکرٹری داخلہ خواجہ صدیق اکبر نے وزارت داخلہ کی طرف سے بھیجے جانے والے ایسے پچاس قیدیوں کے مقدمات کو واپس بھجوا دیا تھا جن کی تمام تر اپیلیں مسترد ہوچکی تھی۔

ان مقدمات میں سابق نگراں حکومت کا موقف تھا کہ ان مقدمات سے متعلق فیصلہ کرنا اگلی منتخب حکومت کے اختیار میں ہے۔

وزارت داخلہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ چار ایسی کٹیگریز ہیں جن پر صدر مملکت کی طرف سے سزائے موت پر عمل درآمد کا اطلاق نہیں ہوتا۔ اس میں ملٹری ایکٹ، انسداد دہشت گردی ایکٹ، منشیات ایکٹ اور ریاست کے خلاف کارروائی کے مقدمات شامل ہیں۔

وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق اس وقت تک انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت آج تک پاکستان میں کسی کو بھی دی گئی موت کی سزا پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ جن مجرمان کو اس ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا وہ یا تو عدم ثبوت کی بنا پر رہا کردیے گئے یا پھر اُن میں سے کچھ مجرم جیلوں پر ہونے والے حملوں کے حالیہ واقعات میں فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

مقامی میڈیا پر یہ خبریں آرہی تھیں کہ جی ایچ کیو حملے کے مقدمے میں موت کی سزا پانے والے ڈاکٹر عثمان کو آئندہ چند روز میں تختہ دار پر لٹکا دیا جائے گا جس کے بارے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی طرف سے یہ بیان سامنے آیا کہ اگر ایسا ہوا تو پنجاب حکومت کے خلاف کارروائیاں کی جائیں گی۔

ڈاکٹر عثمان ان دنوں فیصل آباد کی سینٹرل جیل میں ہیں۔ جیل سپرنٹینڈینٹ طارق بابر کے مطابق ڈاکٹر عثمان کو موت کی سزا پر عمل درآمد سے متعلق کوئی اقدامات نہیں کیے گئے اور نہ ہی متعقلہ عدالت سے اُن کے بلیک وارنٹ حاصل کیے گئے ہیں۔

پاکستان میں انسانی حقوق کمیشن کے سیکرٹری جنرل آئی اے رحمان کا کہنا ہے کہ سیاسی حکومتیں اس لیے سزائے موت کے قانون کو ختم کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتی ہیں کیونکہ اُنہیں معلوم ہے کہ اگر ایسا کیا تو مذہبی جماعتیں اور مذہبی تنظیمیں اُن کے خلاف ہو جائیں گی۔

اسی بارے میں