’دہشتگردی کے سامنے جھکنا کوئی حل نہیں‘

Image caption ملک کے اندرونی مسائل پر توجہ طلب ہیں: جنرل کیانی

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف حکمتِ عملی پر تو دو آرا ہو سکتی ہیں لیکن اس کے سامنے جھکنا کوئی حل نہیں ہے۔

کاکول میں منگل کی شب یومِ پاکستان کی سالانہ فوجی پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے جنرل کیانی نے کہا کہ دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کے معاملے پر قومی اتفاقِ رائے پیدا کر کے اس پر جلد از جلد عملدرآمد ضروری ہے۔

خفیہ اداروں کا مشترکہ سیکرٹیرٹ بنانے کا فیصلہ

انسدادِ دہشتگردی کے لیے 5 نکاتی پالیسی

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے کہ کسی بھی حل پر ہر ممکن حد تک قومی اتفاقِ رائے پیدا کریں اور اس پر یکسو ہو کر جلد عمل کریں۔‘

جنرل اشفاق پرویز کیانی نے یہ بھی کہا کہ دہشتگردی کے خلاف ’جنگ تبھی جیتی جا سکتی ہے جب ہم سب مل کر ایک حکمتِ عملی پر متفق ہوں تاکہ نہ ہمارے ذہنوں میں ابہام رہے اور نہ ہی دہشتگردوں کے۔‘

انہوں نے کہا کہ ہماری سب سے پہلی ترجیح ملک و قوم کا مفاد ہونا چاہیے اور ہمیں یہ کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ آزادی ایک نعمت ہے لیکن اسے برقرار رکھنے کے لیے ہم سب کے کچھ فرائض ہیں۔‘

جنرل کیانی کا یہ بھی کہنا تھا کہ انفرادی مفادات کو قومی مفادات کی نفی کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے اور ملک و قوم کے لیے سب کو ایک ہو کر سوچنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ’ہم نہ بحیثیت قوم نہ کبھی ناکام تھے اور نہ ہوں گے۔‘

پاکستانی فوج کے سربراہ کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کی نئی حکومت دہشتگردی کے خلاف قومی پالیسی کی تیاری کے عمل میں مصروف ہے۔

منگل کی شام ہی اس پالیسی کے چیدہ چیدہ نکات بتاتے ہوئے وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا تھا کہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کے لیے پارلیمان میں موجود جماعتوں کا اتفاقِ رائے کلیدی حیثیت رکھتا ہے اور اس سلسلے میں سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کا اجلاس جلد ہی بلایا جائے گا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت چاہتی ہے کہ اس معاملے کو پہلے بات چیت سے حل کرنے کی کوشش کی جائے تاہم اگر فیصلہ جنگ کرنے کا ہوا تو اس جنگ کو ادھورا نہیں چھوڑا جائے گا اور’ہم دل و جاں سے جنگ کریں گے‘۔

انہوں نے قوم سے کہا کہ وہ جنگ کا فیصلہ ہونے کی صورت میں تیار رہے کیونکہ یہ ایک بھرپور کارروائی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ جس نکتے پر تمام جماعتیں متفق ہوں گی اس پر عملدرآمد کیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ اگر مذاکرات کرنے ہیں تو پوری قوم کا اتفاق ہونا چاہیے اور اگر فوجی کارروائی کرنی ہے تو اس پر بھی پوری قوم کا اتفاق ہونا چاہیے۔

خیال رہے کہ پاکستان کے وزیراعظم میاں نواز شریف نے اپنے انتخاب کے بعد بی بی سی اردو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ طالبان سے بات چیت کے معاملے کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور یہ معاملہ بات چیت سے ہی حل ہو سکتا ہے۔

شدت پسندی پر قابو پانے کے بارے میں سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ’بجائے اس کے کہ آپ اس (طالبان کی مذاکرات کی پیشکش) کو سابقہ حکومت کی طرح ردی کی ٹوکری میں پھینک دیں میرا خیال ہے کہ اس میں سنجیدہ ہونے کی ضرورت ہے اور ہم سب مل کر بیٹھ کر مشورہ کر کے کوئی مثبت ردعمل کا مظاہرہ کریں تو مثبت بات ہوگی۔‘

اسی بارے میں