’طالبان گئے تو قدرتی آفات نے گھر دیکھ لیا‘

Image caption اگر صرف سڑک کو ہی مکمل طور پر بحال کر دیا جائے تو ہوٹل مالکان کے اسّی فیصد تک مسائل حل ہوجائیں گے

پاکستان میں عام طور پر جب کسی علاقے پر کوئی آفت آتی ہے تو بدقسمتی اس علاقے کے باشندوں کا مقدر بن جاتی ہے۔ ایسی حالت میں اگر مصیبت زدہ افراد کسی نئی مشکل میں پھنس جائیں اور حکومت بھی ان کا ساتھ نہ دیں تو بیچارے عوام کس سے اپنا گلہ کریں؟

بالکل اسی قسم کا منظر آج کل پاکستان کی وادی سوات میں نظر آرہا ہے جہاں اب طالبان تو نہیں رہے لیکن سواتی عوام کے مطابق شدت پسندوں کے جانے کے بعد اب ان کی کمی قدرتی آفات پوری کر رہی ہیں۔

پاکستان کا سوئٹزرلینڈ کہلانے والے ضلع سوات میں اکثریت کا ذریعہ معاش سیاحت کی صنعت سے وابستہ رہا ہے۔

یہاں تقریباً پچاس سے ساٹھ فیصد لوگ سیاحت کے شعبے سے منسلک ہیں جسے علاقے کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔

سوات کے عوام کی بدقسمتی یہ رہی کہ پہلے تین سال تک شدت پسندی کی وجہ سے سیاحوں کی جنت کو خون میں نہلایا گیا اور پھر جب علاقے میں امن و امان بحال ہونا شروع ہوا تو رہ سہی کسر بدترین سیلاب نے پوری کر دی۔

دو ہزار دس میں آنے والے تاریخ کے تباہ کن سیلاب کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان بنیادی ڈھانچے کے ساتھ ساتھ سیاحت کے شعبے کو بھی پہنچا جس سے یہاں کی ہوٹل انڈسٹری بری طرح متاثر ہوئی ۔

ہوٹلوں کے شہر کے نام سے مشہور وادی کالام میں سیلاب کے باعث بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی اور درجنوں ہوٹل سیلابی پانی کی نذر ہوگئے تھے۔ اس کے علاوہ بحرین، مدین اور کالام میں پر کئی کلومیٹر تک سڑک کا نام و نشان تک مٹ گیا تھا جبکہ درجنوں پل بھی تباہ ہوگئے تھے۔

سیلاب کو تین سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود بھی وادی کے بیشتر مقامات پر سڑکیں اور پل بدستور تباہی کا منظر پیش کر رہے ہیں۔

بحرین سے لے کر کالام تک تقریباً پچاس کلومیٹر پر محیط سڑک کی آج بھی وہی حالت ہے جو تین سال پہلے تھی۔ فرق اگر آیا بھی ہے تو صرف اتنا کہ پہلے یہ سڑک بہت زیادہ پتھریلی تھی جس میں اب تھوڑی سی بہتری آئی ہے۔

آج بھی کئی مقامات پر اس سڑک کی مرمت کا کام جاری ہے لیکن وہ انتہائی سست روی کا شکار ہے۔ سڑکوں کی موجودہ حالت اور ان پر کام کی رفتار کو دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان کی مکمل بحالی میں اب بھی تین سے چار سال لگ سکتے ہیں۔

علاقے کے زیادہ تر پل بھی عارضی طور پر بحال کیے گئے ہیں اور اگر پانی کے بہاؤ میں تھوڑا سا بھی اضافہ ہو تو ان عارضی پلوں کو عام ٹریفک کےلیے فوری طور پر بند کر دیا جاتا ہے۔

کالام ہوٹلنگ ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر عبدالودود کا کہنا ہے کہ ’حکمران سوات کے عوام کے ساتھ ایسا سلوک کر رہے ہیں کہ جیسے ہم پاکستانی نہ ہوں بلکہ کسی غیر ملک سے آئے ہوں۔’

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ پچھلے چھ سال سے سوات کے عوام ناکردہ گناہوں کے پاداش میں ظلم کی چکی تلے پیس رہے ہیں ، کبھی طالبان اور کبھی قدرتی آفات لیکن حکمرانوں نے چپ سادھ لی ہے۔

ان کے مطابق وزیر اعظم سے لے کر گورنر اور وزراء تک سب نے گزشتہ تین سالوں میں کالام کے کئی دورے کیے اور ہوٹل انڈسٹری بحال کرنے کے دعوے کیے گئے لیکن آج تک ایک بھی وعدہ ایفا نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اگر صرف سڑک کو ہی مکمل طور پر بحال کر دیا جائے تو ہوٹل مالکان کے اسّی فیصد تک مسائل حل ہوجائیں گے۔

Image caption علاقے کے زیادہ تر پل بھی عارضی طور پر بحال کیے گئے ہیں

سیلاب کی وجہ سے سوات میں بجلی کا نظام بھی بری طرح متاثر ہوا تھا جس میں کالام اور آس پاس کے مقامات کے لوگ دو سال تک مسلسل بجلی کی سہولت سے محروم رہے۔

رواں سال وہاں بجلی بحال تو کر دی گئی ہے لیکن کم وولٹیج اور لوڈشیڈنگ کے باعث اکثر ہوٹل مالکان واپڈا کی بجلی استعمال نہیں کررہے بلکہ وہ محدود پیمانے پر نجی شعبے میں قائم چھوٹے بجلی گھروں سے اپنی ضروریات پوری کر رہے ہیں۔

تاہم علاقے میں ٹیلی فون کا نظام بدستور درھم برھم ہے جبکہ موبائل ٹیلی فون کی سہولت بھی نہ ہونے کے برابر ہے جس سے دور دراز کے علاقوں سے آنے والوں سیاحوں کو یقینی طورپر مشکلات کا سامنا ہے۔

کالام میں ایک ہوٹل کے منیجر آفرین خان نے بتایا کہ یہاں دیگر سیاحتی مراکز کے مقابلے میں سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں لیکن پھر بھی ہر سال سیاحوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت سوات کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک بند کردے اور صرف سڑکوں کی حالت کو بہتر بنادے تو کالام میں سیاحوں کی تعداد دوگنی ہوسکتی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس سال رمضان کے ماہ میں بھی غیر متوقع طور پر سیاحوں کی ایک بڑی تعداد نے کالام کا رخ کیا اور تقریباً ساٹھ فیصد ہوٹل مہمانوں سے بھرے رہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگ سوات کے حسن سے کتنا پیار کرتے ہیں۔

اسی بارے میں