’لاپتہ کیس میں ایف سی کے خلاف شواہد ہیں‘

Image caption عدالت نے جو احکامات دیے تھے ان پر عملدرآمد نہیں ہوا: چیف جسٹس

پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ بلوچستان میں بعض لاپتہ افراد کے معاملات میں فرنٹیئر کور کے خلاف شواہد موجود ہیں۔

انہوں نے یہ ریمارکس جمعرات کو کوئٹہ میں بلوچستان بدامنی کیس کی سماعت کے دوران دیے جس کی سماعت ان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق سماعت کے دوران بلوچستان حکومت کے وکیل شاہد حامد نے لاپتہ افراد کے حوالے سے سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد سے متعلق رپورٹ پیش کی جس پر چیف جسٹس نے مکمل عدم اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ عدالت نے اس حوالے سے جو احکامات جاری کیے ان پر عملدرآمد بھی نہیں ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کا کیس سنہ 2010 ء سے عدالت عظمیٰ میں زیر سماعت ہے لیکن تاحال یہ مسئلہ حل نہیں ہوا۔

سماعت کے دوران ایف سی کے نمائندے میجر ندیم نے عدالت کو بتایا کہ ایف سی کے پاس کوئی لاپتہ فرد موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایف سی بلوچستان میں قیام امن کے لیے اہم کردار ادا کر ر ہی ہے۔

نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ’ایف سی کے لوگوں نے یہاں بڑی قربانیاں دی ہیں لیکن بعض لاپتہ افراد کے کیسز میں فرنٹیئر کور کے خلاف شواہد موجود ہیں‘۔

سماعت کے دوران وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نے عدالت کو آگاہ کیا کہ انہیں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے پر امن احتجاج بھی کرنے نہیں دیا جا رہا ہے۔

عدالت نے بلوچستان بدامنی کیس کی سماعت جمعہ تک ملتوی کرتے ہوئے وفاقی سیکرٹری داخلہ کو عدالت میں پیش ہو کر لاپتہ افراد کے بارے میں جواب دینے کا حکم دیا۔

قبل ازیں عدالت نے بولان میں مسافروں کے قتل، عید کے دن کوئٹہ میں دس افراد کی ہلاکت اور پولیس لائن میں خودکش دھماکے سے متعلق ازخود نوٹسز کی سماعت بھی کی۔

سماعت کے دوران بلوچستان حکومت کے وکیل نے عدالت میں ان واقعات کی تحقیقات اور ملزمان کی گرفتاری سے متعلق رپورٹ پیش کی تاہم عدالت نے اس رپورٹ پر بھی عدم اطمینان کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت آئین کے آرٹیکل9 کے تحت لوگوں کے جان و مال کا تحفظ نہیں کر رہی ہے اور بلوچستان کے بعض علاقوں میں اس کی رٹ نہیں ہے۔

اسی بارے میں