رمشا پر الزام لگانے والے امام مسجد بری

Image caption گزشتہ سال اکتوبر میں توہین مذہب کے چھوٹے مقدمے میں پھنسانے کے ایک ملزم اور مقامی مسجد کے امام کے خلاف بیان دینے والے دو افراد اپنے بیان سے منحرف ہوگئے تھے

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی ایک ضلعی عدالت نے ایک مسیحی لڑکی پر توہین مذہب کا الزام لگانے والے ایک مقامی مسجد کے پیش امام کو اس مقدمے سے بری کر دیا ہے۔

عدالت کا کہنا ہے کہ ملزم خالد جدون کے خلاف کوئی شواہد نہیں ملے جس کی بنا پر اس مقدمے کو چلایا جا سکتا ہے۔

امام مسجد کو بری کرنے کے فیصلے پر شدید مایوسی ہوئی: پال بھٹی

’رمشا مسیح کینیڈا منتقل ہو گئیں ہیں‘

توہین مذہب: امام کے خلاف گواہ منحرف

’رمشا کے خاندان کو جان کا خطرہ‘

رمشا کی بستی میں عجیب سے خاموشی

رمشا کیس: امام مسجد پر بھی توہین مذہب کا الزام

ملزم نے مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن پر حلف دیا کہ اُنہوں نے قرآن کی بےحرمتی نہیں کی۔

اسلام آباد کی مقامی پولیس نے مقامی تاجر کے کہنے پر سنہ دو ہزار بارہ میں رمشا مسیح کے خلاف توہین عدالت کا مقدمہ درج کیا تھا اور پولیس نے اُنہیں اس مقدمے میں گرفتار کر لیا تھا۔

بعدازاں ایڈیشنل سیشن کورٹ نے عدم ثبوت کی بنا پر رمشا مسیح کو بری کر دیا تھا جس کے بعد اس وقت کی حکومت نے سکیورٹی خدشات کی بنا پر اُن کو اہلخانہ سمیت نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا تھا۔ اس کے بعد کچھ عرصہ قبل رمشا مسیح اور اُس کے گھر والوں کو کینیڈا منتقل کر دیا گیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی عدم ثبوت کی بنا پر گزشتہ برس نومبر میں رمشا مسیح کو اس مقدمے سے بری کر دیا تھا۔

مقامی مسجد کے پیش امام خالد جدون کے وکیل واجد گیلانی نے بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا کہ اُنہوں نے اپنے موکل کی بریت کی درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ اس کا کوئی چشم دید گواہ نہیں ہے کہ اُن کے موکل نے رمشا مسیح کی طرف سے جس لفافے میں قرآن کے اوراق پڑے ہوئے تھے اس میں مقدس کتاب قرآن کے جلے ہوئے اوراق شامل کیے تھے۔

اُنہوں نے کہا کہ یہ اوراق مقامی مسجد کے پیش امام نے نہیں بلکہ اس مقدمے کی تفتیش کرنے والے پولیس افسر سب انسپکٹر منیر حیسن جعفری نے شامل کیے تھے۔

واجد گیلانی کا کہنا تھا کہ استغاثہ کی جانب سے عدالت میں کوئی ایسا ثبوت پیش نہیں کیا جا سکا جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ خالد جدون قصوروار ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ توہین مذہب قانون کے تحت مقدمے کا اندراج وفاقی یا صوبائی حکومت کی تحریری درخواست پر ہوتا ہے جبکہ اس مقدمے میں ایک عام شہری کو مدعی بنایا گیا۔

یاد رہے کہ اس مسجد کے نائب پیش امام نے بھی الزام عائد کیا تھا کہ ملزم خالد جلدون نے مقدس کتاب کے جلے ہوئے اوراق اس میں شامل کیے تھے۔ گزشتہ سال اکتوبر میں توہین مذہب کے چھوٹے مقدمے میں پھنسانے کے ایک ملزم اور مقامی مسجد کے امام کے خلاف بیان دینے والے دو افراد اپنے بیان سے منحرف ہوگئے تھے۔

ایک سال قبل اسلام آباد کے نواحی علاقے میں ہونے والے اس واقعہ پر مشتعل افراد نے وہاں پر موجود عیسائی برادری سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد کے متعدد مکانات کو نقصان پہنچایا تھا۔ جس کے بعد وہاں پر مقیم عیسائی برادری محفوظ مقام پر منتقل ہو گئی تھی۔

اس وقت حکام کے مطابق اس واقعے کے بعد اس گاؤں سے چھ سو افراد نقل مکانی کر کے اپنے رشتہ داروں کی طرف چلے گئے تھے۔

واضح رہے کہ یہ مقدمہ توہین مذہب کے قانون کی شق 295 بی کے تحت درج کیا گیا تھا اور جرم ثابت ہونے کی صورت میں اس کی سزا عمر قید ہے۔

اس وقت پاکستانی علماء اور مشائخ کے نمائندہ گروپ آل پاکستان علماء کونسل نے مسیحی لڑکی کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ معاملہ پاکستان کے لیے ایک ’ٹیسٹ کیس‘ ہے اور اس میں کسی قسم کی ناانصافی نہیں ہونی چاہیے۔ اس کے علاوہ مسیحی برادری نے واقعے کے خلاف اور رمشا کو رہا کرنے کے لیے کئی مظاہرے کیے تھے۔

اسی بارے میں