اور حساب کیسے برابر ہوا؟

فوجی آمر جنرل ضیا الحق
Image caption امی نے کہا ’بیٹا ۔۔۔۔دجال نے بھٹو صاحب کو پھانسی دے دی ہے‘

سخت گرمیوں کی وہ دوپہر میرے ذہن کے کسی کونے میں آج بھی محفوظ ہے جب اچانک میرے پرائمری سکول میں میرے استاد نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا کہ بچوں سکول کی چھٹی ہوگئی ہے اور آپ سب گھر جاؤ۔

میرے بچگانہ ذہن کو کچھ سمجھ تو نہیں آرہا تھا لیکن ایک احساس تھا کہ ماحول کچھ بوجھل اور افسردہ ہے۔ خوف اور سراسیمگی کی آمیزش بھی جھلک رہی تھی۔ میں تیز تیز قدموں سے لاڑکانہ کی پتلی پتلی اور سنسان گلیوں سےگھر کی جانب رواں دواں تھا۔ عجیب بات یہ تھی وہ نابینہ فقیرنی، جو گلی میں بہتی نالی کے قریب بیٹھی چپ چاپ اپنا کشکول بجا کر بھیک کی درخواست کرتی تھی وہ بھی آج نہیں تھی۔

اور اروی والا چاچا کہاں غائب ہے؟ ہر شام اماں سے چار آنے لیکر چاچے سے املی میں بنی اروی تو میں ضرور کھاتا تھا۔ آج وہ بھی غائب۔ ’اللہ خیر کرے‘ میرے ذہن میں آیا۔ گلی بالکل سنسان تھی اور ہُو کا عالم تھا۔

گھر میں قدم رکھتے ہی سسکیوں نے خیرمقدم کیا۔ میں خاصہ سہم گیا اور ڈرتے ڈرتے اماں کے قریب گیا۔ دوپٹے میں منہ چھپائے وہ اندر ہی اندر چپ چاپ رو رہی تھیں۔ میں نے ہمت کر کے پوچھا، ’امی کیا ہوا ہے، آپ کیوں رو رہی ہیں؟‘

’بیٹا۔۔۔۔ دجال نے بھٹو صاحب کو پھانسی دے دی ہے‘ اور وہ پھر رونے لگیں۔

میں اتنا کم عمر تھا کہ مجھے اور تو کچھ سمجھ نہیں آیا لیکن یہ بات سمجھ گیا کہ اماں نے جسے دجال۔۔۔۔ کہا ہے وہ کوئی بہت ہی برا انسان ہے جس نے ایک ایسے شخص کو قتل کیا ہے جس کی وجہ سے میری ماں بھی رو رہی ہے حالانکہ عموماً وہ دوسروں کو رلاتی ہیں۔

میں چپ چاپ اپنے کمرے میں چلاگیا اور خاموشی سے سو گیا۔

اس دن نے میرے ذہن پر بہت اثر ڈالا۔ آنے والے دنوں میں میری سیاسی اور سماجی ارتقاء میں گرمیوں کا وہ دن سنگ میل رہا۔ اس دن کے بعد تقریباً پانچ برس تک میں نے دیکھا ملک کے طول عرض میں لوگ وقتاً فوقتاً چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر جنرل محمد ضیاالحق کے خلاف مزاحمت کرتے رہے۔ لیکن ہر مزاحمت اور جمہوریت کی صدا کو فوجی طاقت سے کچل دیا گیا۔ جنرل ضیا کی جیلیں جمہوریت کے حامیوں سے بھر گئی تھیں اور چوراہوں پر ٹکٹیاں لگا گر سیاسی کارکنوں کو اسلام اور پاکستان کے نام پر کوڑے مارے جا رہے تھے۔

Image caption ایم آر ڈی کے کارکنوں کو کوڑے لگائے جا رہے ہیں

ملک کی سیاسی قیادت ابتدا میں تو بہت منقسم تھی لیکن پھر وہ آہستہ آہستہ جنرل ضیا کے جھوٹے وعدوں خود ساختہ اسلامی تشریحات اور آمرانہ اقتدار کے خلاف منظم ہونے لگی اور تحریکِ بحالی جمہوریت یا موومنٹ فار دا ریسٹوریشن آف ڈیموکریسی (ایم آر ڈی) کا قیام ہوا۔ لندن، دبئی اور پاکستان میں ہونے والے اجلاسوں کے بعد طے ہوا کہ 14 اگست 1983 سے سول نافرمانی کی تحریک شروع کی جائے گی جس میں جمہوریت کے حامی کارکن پُر امن طور پر رضاکارانہ گرفتاریاں پیش کریں گے اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک جنرل منصفانہ انتخابات کا اعلان نہیں کرتے۔

مجھے یاد ہے وہ چودہ اگست کا گرم دن جب لاڑکانہ میں پہلے دن گرفتاریاں ہوئی تھیں۔ شہر کے مرکزی پاکستان چوک پر پولیس اور فوج کی درجنوں گاڑیاں تعینات تھیں۔ شام پانچ بجے چوک کے اطراف میں، تمام سڑکوں اور گلیوں میں سینکڑوں لوگ جمع ہوگئے تھے۔ ان کے چہرے جوش سے سرخ ہو رہے تھے اور پورے ماحول میں ولولہ تھا۔

پھر اچانک ایک گلی سے دو نوجوان پھولوں کے ہار پہنے، ہاتھوں میں جمہوریت کے حق میں لکھے پلے کارڈ اٹھائے اور جنرل ضیا اور آمریت کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے نمودار ہوئے۔ مظاہرین میں بجلی دوڑ گئی۔ ہر طرف نعرے بلند ہونے لگے۔’مارشل لا کا جو یار ہے۔۔۔ غدار ہے غدار ہے،‘ ’آمریت مردہ باد، جمہوریت زندہ بعد۔‘ کچھ اور بھی نعرے تھے جو شاید کچھ زندہ اور مردہ لوگوں کو گراں گزریں اس لیے نہیں لکھ رہا۔

دونوں نوجوان نعرے لگاتے، دلیرانہ انداز سے پولیس اور فوج کی گاڑیوں کی جانب بڑھنے لگے۔ جیسے ہی وہ ان کے قریب پہنچے، پولیس کے کچھ سپاہیوں نے انہیں دبوچ لیا۔ جبکہ فوجی اپنی مشین گنیں تانیں چوکس انداز میں کھڑے رہے۔

رضاکارانہ گرفتاریوں اور مظاہروں کا یہ سلسہ پورے سندھ میں جب کئی روز تک نہیں رکا تو فوج نے اسے طاقت سے کچلنے کا فیصلہ کیا۔ مجھے یاد ہے رات کے وقت پولیس تھانوں سے صدائیں بلند ہونا شروع ہوگئی تھیں۔ پولیس اور فوجی گرفتار کارکنوں کو رات رات بھر تھرڈ ڈگری ٹارچر کا نشانہ بناتے تھے تاکہ وہ بتائیں کہ یہ تحریک کون چلا رہا ہے اور کیسے۔

Image caption اس دور میں روز کارکن گرفتاریاں دیتے تھے

اس زمانے میں جمہوری تحریک کے رہنما بہت ہی زیادہ رازداری سے کام کرتے تھے۔ کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی تھی کہ کون کس مشن پر ہے؟ اور اسی رازداری کی وجہ سے کئی رہنما گرفتار ہونے سے بچ گئے اور تحریک کو جاری رکھا۔

پھر کسی دن خبر آتی تھی کہ آج مورو میں فوج نے فائرگ کر کے پانچ جمہوری کارکنوں کو ہلاک کردیا۔ کبھی خیرپور ناتھن شاہ میں، کبھی دادو میں تو کبھی میہڑ میں۔ پورا سندھ جل رہا تھا لیکن احتجاج تھا کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ عوام نے جیسے تہیہ کر لیا تھا کہ اب وہ مزید اس درندہ آمریت کو برداشت نہیں کریں گے۔ اور بھلا وہ کیسے بھلا سکتے تھے کہ جنرلوں نے ان کے محبوب قائد کو رات کی تاریکی میں، قوانین کو بالائے طاق رکھ کر، پھانسی پر چڑھا دیا تھا۔ اب تو وقت تھا سارے حساب برابر کرنے کا۔

اور حساب کیسے برابر ہوا؟ جنرل ضیا کی شامت آئی۔ ایک فوج نواز سندھی زمیندار کی دعوت اور بہلانے پھسلانے پر جنرل صاحب نے دادو کا دورہ کرنے کی حامی بھری۔ جمہوری کارکنوں کو جیسے ہی یہ معلوم ہوا کہ جنرل ضیا آ رہے ہیں انہوں نے بھی اپنا منصوبہ بنا لیا۔ جنرل ضیا کا ہیلی کاپٹر جہاں اترنا تھا اس کے آس پاس میں کھیتوں کھلیانوں میں درجنوں لوگ جمع ہوئے اور اپنے ساتھ چند گدھے بھی لائے۔

جیسے ہے جنرل صاحب ہیلی کاپٹر سے نکلے، لوگ جوک در جوک کھیتوں سے نکلے، درختوں سے کودے ہر طرف سے دوڑتے ہوئے میدان کی جانب لپکے۔ ان کے ساتھ جو گدھے تھے ان پر بڑا بڑا ضیا الحق لکھا ہوا تھا اور وہ بھی ڈھینچوں ڈھینچوں کرتے آنے والے مہمان کے استقبال کے لیے دوڑے۔

پھر جو ہوا وہ پہلے اس خطے میں کسی نے نہ دیکھا تھا نہ سنا تھا۔ درجنوں لوگ جو نعرے لگاتے، بینر لہراتے، دوڑے چلے آ رہے تھے وہ اچانک ایک جگہ رک گئے۔ بس یہ جگہ اتنی دور تھی جہاں سے جنرل صاحب انہیں باآسانی دیکھ سکتے تھے۔ پھر کیا لپک جھپکتے ہی تمام مظاہرین نے اپنی دھوتیاں اتار پھینکیں اور آمریت مخالف نعرے بلند کرتے، ناچنے لگے۔

جنرل ضیا کے میزبانوں کی حالت شرم، غصے اور بے بسی کی وجہ سے ابتر ہو رہی تھی اور جنرل ضیا غصے میں تھے۔ ان کو فوراً ایک گاڑی میں بٹھا کر فوجی چھاؤنی لے جایا گیا۔

ایم آر ڈی کی تحریک نے ثابت کیا تھا کہ آمریت کتنی بھی طاقتور ہو، وہ عوام کی طاقت کے سامنے بالکل بے بس ہے اور خاص طور پر جب وہ دھوتیاں اتار دیں۔

اسی بارے میں