کوئٹہ: فائرنگ سے دو ایف سی اہلکار ہلاک

Image caption ایف سی چیک پوسٹ پرحملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی ہے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں فائرنگ کے ایک واقعے میں فرنٹیئر کور کے دو اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا ہے۔

فائرنگ کے تبادلے میں ایک حملہ آور بھی ہلاک ہوا ہے۔

فرنٹیئر کور بلوچستان کے ترجمان کے مطابق یہ حملہ اتوار کی شام کوئٹہ میں سریاب کے علاقے میں پیش آیا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ سریاب کے علاقے میں اکاؤنٹنٹ جنرل کے پرانے دفتر پر واقع ایف سی کی چیک پوسٹ پر دو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے حملہ کیا۔ اس حملے کے نتیجے میں ایف سی کے دو اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا جبکہ ایف سی اہلکاروں کی جوابی فائرنگ سے ایک حملہ آور بھی ہلاک ہوگیا۔

ایف سی چیک پوسٹ پرحملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی ہے۔

تنظیم کے ترجمان نے نامعلوم مقام سے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ اس حملے میں ان کا ایک ساتھی بھی ہلاک ہوا۔

صوبہ بلوچستان میں گذشتہ کئی سالوں سے کشیدگی چل رہی ہے۔

جمعہ کو بولان میں ایک ٹرین پر حملہ کیا گیا تھا جس کے بعد حکام نے سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران آٹھ افراد کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا اور کہا تھا کہ ہلاک ہونے والے افراد ٹرین حملے میں ملوث تھے۔

فرنٹیئرکور بلوچستان کے ترجمان کے مطابق جمعہ کے روز جعفر ایکسپریس پر حملے کے بعد بولان کے علاقے دوزان میں سرچ آپریشن شروع کیا گیا تھا ۔

اس کارروائی کے بارے میں ڈپٹی کمشنر کھچی وحید شاہ نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ اس علاقے میں’ہیلی کاپٹر نے شیلنگ کی تھی۔ کل رات پائلٹس اور سکیورٹی فورسز نے ہمیں بتایا کہ اس علاقے میں آٹھ افراد ہلا ک ہوئے۔‘

بولان کے دیگر علاقوں میں عید کے روز شروع سے کیے جانے والے سرچ آپریشن میں حکام نے دس سے زائد افراد کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

سرکاری حکام کے دعوؤں کے برعکس بلوچ نیشنل وائس کادعویٰ ہے کہ ہلاک کیے جانے والے لوگ نہتے تھے اور ان میں بعض ایسے بھی افراد شامل تھے جنہیں پہلے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا۔

تنظیم کی جانب سے سنیچر کو جاری ہونے والے ایک بیان میں چار افراد کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ان چار افراد میں سے سلیم مری اور میرو خان مری چار ماہ قبل جبکہ لمبہ مری اوردادو مری کو سات مہینے قبل حکومتی اداروں نے کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ سے غائب کیا تھا۔

ڈپٹی کمشنر کھچی نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’ظاہر ہے یہ لوگ اس طرح کے الزام لگائیں گے کیونکہ ان کے لوگ ملوث تھے لیکن یہاں سکیورٹی فورسز نے جو کارروائی کی اس میں مرنے والے تمام لوگ مقابلے میں مارے گئے۔‘

اسی بارے میں