بینظیر قتل کیس: مشرف پر فردِ جرم عائد

Image caption جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے صحتِ جرم سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی بے گناہی ثابت کریں گے

راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف پر بینظیر قتل کیس میں فردِ جرم عائد کر دی ہے۔

تاہم جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے صحتِ جرم سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی بے گناہی ثابت کریں گے۔

ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق عدالت نے منگل کو جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف سمیت سات افراد پر فردِ جرم عائد کی جس میں قتل، اقدامِ قتل، دہشت گردی اور عیانتِ مجرمانہ یعنی مجرمانہ سازش کی تیاری کی دفعات شامل ہیں۔

بینظیر قتل کیس: پرویز مشرف مرکزی ملزمان میں شامل

مشرف کو بیس اگست کو پیش کرنے کا حکم

سابق فوجی صدر پرویز مشرف، ڈی آئی جی سعود عزیز اور ایس ایس پی خُرم شہزاد کمرہ عدالت میں موجود تھے جبکہ باقی چار ملزمان راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں تھے جن پر فرد جُرم جیل میں لگائی گئی۔

ان ملزمان میں حسنین گُل، محمد رفاقت، قاری عبدالرشید اور شیر زمان شامل ہیں۔ یہ ملزمان گُزشتہ پانچ سال سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں ہیں اور اُن پر اس سے پہلے بھی اس مقدمے میں فرد جُرم عائد کی جاچکی ہے۔

اس مقدمے میں گرفتار ہونے والے آٹھویں کم سن ملزم اعتزاز شاہ کا مقدمہ یہی عدالت جووینائل یعنی نابالغ افراد سے متعلقہ قوانین کے تحت علیحدہ سنے گی۔

عدالت نے ملزمان کو ستائیس اگست تک اپنا جواب داخل کروائیں گے تاہم انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سابق فوجی صدر کی جانب سے مستقل طور پر اس مقدمے میں حاصری سے استثنی سے متعلق درخواست منظور کرلی ہے۔ اب پرویز مشرف اُس وقت عدالت میں پیش ہوں گے جب بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کا فیصلہ سُنایا جائے گا۔

جج نے منگل کو عدالت میں فردِ جرم پڑھ کر تمام ملزمان کو پڑھ سنائی جس پر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے جرم کی صحت سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ان کہ خلاف یہ مقدمہ سیاسی طور پر بنیایا گیا ہے اور وہ بےگنا ہ ہیں اور اپنی بے گناہی ثابت کریں گے۔

پرویز مشرف کے وکیل الیاس صدیقی کا کہنا ہے کہ ’ان کے موکل کے خلاف صرف اعانت مجرمانہ کا مقدمہ ہے تاہم اگر قتل کے مقدمے میں دیگر ملزمان کو سزا ہوتی ہے تو پھر ان کے موکل کو بھی ہو گی۔‘

یاد رہے کہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے علاوہ راولپنڈی پولیس کے سابق سربراہ ڈی آئی جی سعود عزیز اور ایس ایس پی خُرم شہزاد بھی اس مقدمے میں ضمانت پر ہیں جبکہ پانچ ملزمان اڈیالہ جیل میں ہیں۔

منگل پچیس جون کو پاکستان کے تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو سابق وزیرِاعظم بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں مرکزی ملزمان میں شامل کیا تھا۔ ایف آئی اے کی ٹیم نے پرویز مشرف کے خلاف چارج شیٹ امریکی شہری مارک سیگل کے بیان کی بنیاد پر تیار کی تھی اور ایف آئی اے کے مطابق سابق فوجی صدر پرویز مشرف دورانِ تفتیش اپنی بےگناہی ثابت کرنے میں ناکام رہے۔

مارک سیگل نے کہا تھا کہ بینظیر بھٹو نے اپنی زندگی میں ہی اُنہیں بتایا تھا کہ اگر اُنہیں کچھ ہوا تو اس کی ذمہ داری اُس وقت کے صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف پر ہوگی۔

اسی بارے میں