’بینظیر بھٹو کو پورے گاؤں نے قتل کیا‘

Image caption سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کے لیے حکومتِ پاکستان کی درخواست پر اقوام متحدہ نے چلی کے سفیر ہیرالڈو منوز کی سربراہی میں کمیشن تشکیل دیا تھا۔

پاکستان کی سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کے لیے اقوام متحدہ کی کمیشن کے سربراہ چلی کے سفیر ہیرالڈو منوز نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ لگتا ایسا ہے کہ سابق وزیرِاعظم کو پورے گاؤں ہی نے قتل کیا ہے۔

یہ بات چلی کے سفیر ہیرالڈو منوز کی کتاب ’Getting Away With Murder‘ میں لکھی ہے جس کے اقتباسات امریکی جریدے فارن پالیسی نے چھاپے ہیں۔

ہیرالڈو منوز نے بینظیر بھٹو کے قتل کے حوالے سے لکھتے ہوئے کہا ہے کہ ’اس کی تحقیقات کے دوران مجھے ایک سپین کا ڈرامہ یاد آ گیا جس میں ایک گاؤں کی ناپسندیدہ شخصیت فوئنٹے اووجنا کو قتل کردیا جاتا ہے اور گاؤں کا مجسٹریٹ ملزم کو گرفتار کرنے میں ناکام رہتا ہے۔ تحقیقات میں سب ہی گاؤں والے کہتے ہیں کہ یہ قتل فوئنٹے اووجنا نے کیا ہے۔‘

’یو این تحقیقات میں کب کیا ہوا‘

’مناسب سکیورٹی ہوتی تو بینظیر بچ سکتی تھیں‘

واضح رہے کہ سابق وزیرِاعظم بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کے لیے اقوام متحدہ نے چلی کے سفیر ہیرالڈو منوز کی سربراہی میں کمیشن تشکیل دیا تھا۔

اپنی کتاب میں ہیرالڈو نے لکھا ہے کہ فوئنٹے اووجنا کی طرح بینظیر بھٹو کو بھی پورے گاؤں نے قتل کیا۔ ’القاعدہ نے حکم دیا، پاکستانی طالبان نے حکم پر علمدرآمد کیا، طالبان کو ممکنہ طور پر اسٹیبلشمنٹ کے چند عناصر کی مدد حاصل تھی، مشرف حکومت کی لاپرواہی کے باعث یہ جرم مرتکب ہوا، سینیئر پولیس افسران نے کور اپ کی کوشش کی، بھٹو کی سکیورٹی ٹیم ناکام رہی، اور پاکستان کے سیاستدان تحقیقات کی بجائے آگے چلنے پر اکتفا کریں گے۔‘

فارن پالیسی میں چھپنے والے اس کتاب کے اقتباسات کے مطابق ہیرالڈو کا خیال ہے کہ یہ قتل بھی ان جرائم میں شامل ہو گیا ہے جو کبھی حل نہیں ہو پائے۔

کتاب میں ہیرالڈو نے لکھا ہے کہ جب کمیشن نے اس وقت کے بّری فوج کے سربراہ جنرل کیانی اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل شجاع پاشا سے ملاقات کرنے کی درخواست کی تو حکومت نے انکار کردیا۔

’اگرچہ ہماری درخواست خفیہ تھی لیکن وفاقی وزیرِداخلہ رحمان ملک نے بیان میں کہا کہ اعلیٰ فوجی اور انٹیلیجنس حکام تک کمیشن کو رسائی نہیں دی جائے گی۔‘

کتاب میں ہیرالڈو لکھتے ہیں کہ ایک حکومتی اہلکار نے مشورہ دیا کہ ملاقات کے لیے جنرل کیانی کو براہ راست درخواست کریں۔

’اس حوالے سے کئی دفعہ غیر رسمی بات چیت ہوئی اور میں نے دھمکی دی کہ اگر فوج کے سربراہ اور آئی ایس آیی کے سربراہ سے ملاقات نہیں کرائی جائے گی تو یہ کمیشن دوبارہ پاکستان نہیں آئے گا۔‘

ہیرالڈو کے مطابق ان کو ملاقات کی اجازت مل گئی۔

ہیرالڈو نے لکھا ہے کہ 24 فروری 2010 کو ان کو سخت سکیورٹی میں اسلام آباد میں واقع آئی ایس آئی کی عمارت لے جایا گیا۔ ’وہاں پر کافی انتظار کرنا پڑا اور آخر کار ہمیں مزید سکیورٹی چیکنگ کے بعد ڈی جی آئی ایس آئی جنرل شجاع سے ملاقات کی اجازت ملی۔‘

جنرل شجاع کمیشن کے اراکین سے بڑے مہمان نواز طریقے سے ملے۔ انہوں نے کمیشن کو یہ واضح کیا کہ آئی ایس آئی تحقیقاتی ایجنسی نہیں ہے اور تحقیقات کا جو کام یہ ایجنسی کرتی ہے وہ صرف شواہد اکٹھے کرنے کی حد تک کرتی ہے۔

ہیرالڈو نے کتاب میں لکھا ہے کہ جنرل کیانی سے ملاقات جنرل شجاع سے ملاقات سے زیادہ غیر معمولی تھی۔

’جنرل کیانی صرف مجھ سے ملنے کے لیے تیار ہوئے۔ مجھے 25 فروری کی رات کو اقوام متحدہ کے صرف ایک سکیورٹی گارڈ کے ہمراہ اس گاڑی میں آرمی ہاؤس آنے کا کہا گیا جو بلٹ پروف بھی نہیں تھی۔ مجھے نہیں معلوم کہ یہ شرط کس کی جانب سے رکھی گئی تھی۔‘

آرمی ہاؤس پہنچنے پر جنرل کیانی نے جو سولین لباس پہنے ہوئے تھے مجھ سے ملاقات کی۔ ’کمرے میں ایک اور شخص موجود تھا جو بات چیت کے نوٹ لے رہا تھا۔ پہلے آرمی ہاؤس کی مرمت اور تزئین و آرائش پر بات ہوتی رہی۔‘

ہیرالڈو لکھتے ہیں کہ انہوں نے جب مشرف اور بینظیر کے درمیان ہونے والے معاہدے کے بارے میں پوچھا تو جنرل کیانی نے کہا ’یہ کیوں مجھ سے پوچھ رہے ہیں؟‘

Image caption ’ ’ڈیل‘ کے تحت بینظیر نے وزیرِاعظم ہونا تھا اور مشرف نے صدر‘

’میں نے غصے میں کہا کہ اس لیے کہ بینظیر کی پاکستان واپسی سے قبل جو مذاکرات ہوئے تھے اس میں وہ بھی موجود تھے۔‘

ہیرالڈو لکھتے ہیں کہ اسّی کی دہائی میں جنرل کیانی بینظیر بھٹو کے ڈپٹی ملٹر سیکرٹری رہے ہیں۔

کتاب میں ہیرالڈو لکھتے ہیں ’جنرل کیانی نے کہا کہ معاہدے کے مطابق بینظیر بھٹو نے سال کے آخر میں پاکستان واپس آنا تھا لیکن وہ جلدی آ گئیں۔ جنرل کیانی نے مجھے یقین دلایا کہ ’ڈیل‘ کے تحت بینظیر نے وزیرِاعظم ہونا تھا اور مشرف نے صدر۔‘

کتاب میں لکھا گیا ہے کہ جنرل کیانی نے کہا ’پولیس نے غیر پیشہ وارانہ رویہ اختیار کیا۔ اگر پہلے چوبیس گھنٹوں میں کرائم سین کو محفوظ نہیں جاتا تو تمام شواہد ضائع ہو جاتے ہیں۔‘

ہیرالڈو لکھتے ہیں کہ جنرل کیانی نے کہا کہ ان کو شک ہے کہ محسود اس قسم کا حملہ کرنے کے قابل ہے۔ ’جنرل کیانی نے کہا کہ مشرف حکومت نے اس حوالے سے پریس کانفرنس کرنے میں جلد بازی کی۔‘

ہیرالڈو نے لکھا ہے کہ آئی ایس آئی کا یا چند عناصر کے اس جرم میں ملوث ہونے کا شبہات بے بنیاد نہیں ہیں۔

یاد رہے کہ اس کمیشن نے فروری 2010 کے آخری ہفتے میں پاکستان کا تین روزہ آخری دورہ مکمل کیا تھا۔ اس دورے میں کمیشن کے سربراہ اور اراکین نے پاکستان کے صدر آصف علی زرداری، اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، سینیئر حکومتی اہلکاروں اور سول سوسائٹی کے اراکین سے ملاقاتیں کیں تھیں۔

اس کے علاوہ اس کمیشن کے سربراہ نے پاکستان کے تین دورے کیے۔ بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کا عملہ تحقیقاتی عمل شروع ہونے کے پہلے دن سے ہی پاکستان میں موجود تھا۔

خیال رہے کہ بینظیر بھٹو کو دسمبر دو ہزار سات میں راولپنڈی کے تاریخی لیاقت باغ میں ایک انتخابی جلسے کے بعد خود کش حملے میں قتل کر دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں