کوئٹہ: 100 ٹن دھماکہ خیز مواد برآمد

Image caption حکام کے مطابق اس کارروائی میں دس افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک گودام پر چھاپے کے بعد سو ٹن دھماکہ خیز مواد برآمد کیا ہے۔

اس چھاپے کے دوران اور گزشتہ چند دنوں میں حکام نے کالعدم تنظیموں سے تعلق کے شبے میں دس افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

فرنٹیئر کانسٹیبلری کے کرنل مقبول شاہ کے مطابق اس گودام سے برآمد ہونے والے مواد میں کیمیائی مواد اور بم دھماکہ کرنے کے کے آلات شامل ہیں۔

علمدار روڈ کوئٹہ: خودکش حملہ اور دو دھماکے پچانوے ہلاک

ہزارہ ٹاؤن کوئٹہ: بم دھماکے سے نواسی ہلاکتیں

کرنل شاہ نے رائٹرز کو بتایا کہ انہیں اس گودام سے 80 ایسے ڈرم ملے جن میں دھماکہ خیز مواد ڈال کر تیار کیا گیا تھا اور یہ دھماکے کے لیے تیار تھے اگر ان کے ساتھ ڈیٹونیٹر لگا دیا جاتا۔

ایف سی نے مخبری پر کارروائی کر کے کوئٹہ کے علاقے سیٹیلائٹ ٹاؤن پر چھاپا مارا، جس کے بعد حکام نے تاروں کے 28 بنڈل، 2800 کلوگرام بارودی مواد، الومینیئم پاؤڈر اور تیزاب کے دس ڈرم قبضے میں لے لیے۔

کرنل مقبول شاہ کے مطابق یہ مواد ان بموں سے مطابقت رکھتا ہے جو کوئٹہ میں اس سے قبل دو حملوں میں استعمال کیے گئے تھے جن کے نتیجے میں 120 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

صوبہ بلوچستان بشمول دارالحکومت کوئٹہ گزشتہ کافی عرصے سے شورش اور فرقہ وارانہ تشدد کی لپیٹ میں ہے جس میں حالیہ برسوں میں کافی تیزی آئی ہے۔

ان چھاپوں سے قبل دو افراد کو گرفتار کیا گیا تھا جو پندرہ ٹن پوٹاشیم کلوریٹ سے بھرا ٹرک لے کر جا رہے تھے۔

ان دونوں افراد نے اطلاعات کے مطابق تفتیش کاروں کو اس گوردام میں پوٹاشیم کلوریٹ، امونیم کلوریٹ اور دھماکے کرنے والے آلات اور ایسی مشینوں کے بارے میں بتایا تھا جو بم بنانے کے لیے مکسنگ کا کام کرتی ہیں۔

اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ یہ گودام کس گروہ کی ملکیت تھا۔

تاہم اس سے قبل کوئٹہ میں جنوری کے مہینے میں ہونے والے دو بم دھماکوں کی زمہ داری کالعدم شدت پسند تنظیم لشکرِ جھنگوی نے قبول جن کا نشانہ کوئٹہ کی شیعہ ہزراہ برادری کے افراد تھے۔

ہزارہ برادری کی تنظیم ہزارہ قومی جرگہ اور شیعہ تنظیم قومی یکجہتی کونسل کے اعدادوشمار کے مطابق جان و مال کو درپیش خطرات کی وجہ سے 1999 سے لے کر فروری 2013 تک تقریباً دو لاکھ ہزارہ بلوچستان چھوڑ کر پاکستان کے دیگر شہروں میں منتقل ہوئے یا پھر ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔

بلوچستان میں فرقہ وارنہ تشدد کے واقعات کے علاوہ بلوچ شدت پسند تنظیمیں بھی مختلف قسم کی شدت پسندی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں جن کا نشانہ عموماً حکومتی اہلکار اور فوج یا نیم فوجی اہلکار ہوتے ہیں۔

اسی بارے میں