ڈاکٹرشکیل آفریدی سے تعلق نہیں: سیو دا چلڈرن

Image caption کیرولین مائلز ڈاکٹر شکیل آفریدی کی گرفتاری کے بعد پاکستان کا دورہ کرنے والی سیو دا چلڈرن کی اعلیٰ ترین اہل کار ہیں

عالمی امدادی ادارے سیو دا چلڈرن کی سربراہ کیرولین مائلز نےبی بی سی کو خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کبھی بھی ادارے کے ملازم نہیں رہے۔ البتہ انہوں نے سیودا چلڈرن سے اپنے کام کی تربیت حاصل کی تھی۔

پاکستان کے شہرایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے خلاف امریکی آپریشن کے بعد سے سیو دی چلڈرن اس وقت سے مشکل میں آگئی تھی جب پاکستان میں ڈاکٹر شکیل آفریدی گرفتار ہوئے اوران کے نام کے ساتھ سیو دی چلڈرن کا نام بھی جوڑا گیا۔

سیودا چلڈرن جیسی تنظیم کا نام کا جاسوسی کے مقاصد کے استعمال ہونے کی خبروں نے پاکستان میں ان جیسی تنظیموں اور بچوں کی مختلف بیماریوں سے بچاؤ کے پروگراموں کی ساکھ کومتاثرکیا۔

پاکستان اس وقت پولیو کے وائرس سے متاثر تین ممالک میں شامل ہے جہاں پرایبٹ آباد آپریشن کے بعد سے بہت سارے والدین اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے نہیں پلاتے۔

کیرولین مائلز نے اعتراف کیا کہ اس برے تجربے کے بعد غیر ملکی اداروں کو اپنے ملازمین کی تفصیلی جانچ پڑتال کرنی چاہیے اور سیو دا چلڈرن پاکستان میں اپنے تمام عملے کی جانچ پڑتال کر رہا ہے تاکہ آئندہ کسی ناخوشگوار تجربے سے بچا جاسکے۔

ڈاکٹر شکیل آفریدی اورسیو دا چلڈرن کا نام ایک ساتھ آنے کی وجہ سے بہت سارے غیر ملکی امدادی اداروں نے اس کی مذمت بھی کی تھی اور مطالبہ کیا تھا کہ اس قسم کے امدادی اداروں کو جاسوسی کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔

انہی اداروں کی طرز پر بچوں کے لیے کام کرنے والے اس ادارے کی سربراہ بھی اسی موقف کی حامل ہیں اوران کا بھی کہنا تھا کہ وہ اس بات کی مذمت کرتی ہیں کہ بچوں اور عوام کی صحت اورمفاد کے لیے کام کرنے والے اداروں کوغلط مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے۔

سیو دا چلڈرن کے کارکنوں کی انٹیلی جنس اداروں کو اطلاعات کی فراہمی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کے الزامات لگائے گئے بھی لیکن جب انہوں نے تنظیم کے اندر تحقیقات کیں تو پتہ چلا کہ کوئی کارکن کسی ایجنسی کے لیے کام نہیں کر رہا تھا:

’ہم نے خود اپنے ادارے کے اندر تفصیلی تحقیقات کی ہیں اور ہر سوال کا جواب دیا ہے، اور تمام ثبوت فراہم کیے ہیں کہ ہمارا کوئی کارکن کسی انٹیلی جنس ایجنسی کے لیے ایسا کوئی کام نہیں کر رہا۔‘

کیرولین مائلز کا کہنا تھا کہ سیو دا چلڈرن کا پاکستان میں امدادی کام اب پھر سے زور پکڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر آفریدی والا معاملہ اب تقریباً حل ہو چکا ہے اور ادارے کے عملے کوماضی کے مقابلے میں آج کام کرنے میں کوئی دشواری اور خطرہ محسوس نہیں ہو رہا۔

سیو دا چلڈرن اپنے تقریباً دو ہزار کارکنوں کی ٹیم کے ساتھ پاکستان میں کام کر رہی ہے اوراس کی سربراہ کا کہنا تھا کہ آئندہ دنوں میں ان کا فوکس خیبر پختونخوا اورقبائلی علاقوں میں صحت کے شعبے میں بہتری پر ہوگا۔

ڈاکٹرشکیل آفریدی کی گرفتاری کے بعد سے سیودا چلڈرن کے کسی اہم اور مرکزی اہل کار کا یہ پاکستان کا پہلا دورہ ہے۔

اسی بارے میں