صحافی عبدالرزاق بلوچ

جس اکلوتے بھائی کا چہرہ دیکھنے کی لیے بہنیں گزشتہ پانچ ماہ سے بے قرار تھیں اور جب وہ چہرہ سامنے آیا تو اس قدر مسخ تھا کہ وہ اسے پہچان ہی نہ سکیں۔

صحافی عبدالرزاق بلوچ کی بہن سعیدہ سربازی نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے پیر کی انگلیوں پر موجود نشان سے بھائی کی لاش کی شناخت کی۔

’آنکھیں پھوڑ دی گئی تھیں، چہرا سیاہ اور سوج چکا تھا۔ پیروں کے علاوہ پورا جسم جیسے جھلس گیا ہو۔‘

بلوچی اور اردو میں شائع ہونے والے روزنامہ توار کے سب ایڈیٹر عبدالرزاق بلوچ چوبیس مارچ کو لاپتہ ہوئے تھے۔ بدھ کی صبح سرجانی ٹاؤن کے ویرانے سے ان کی لاش ملی تھی جس کی رشتے دار شناخت نہیں کرسکے تھے۔

رزاق بلوچ کی چھوٹی بہن سعیدہ سربازی نے بی بی سی کو بتایا کہ لاش چار سے پانچ روز پرانی لگ رہی تھی کیونکہ اس سے تعفن اٹھ رہا تھا۔ ’یہ منظر جو ہم نے دیکھا خدا کسی بھی بہن کو نہ دکھائے۔‘

بیالیس سالہ عبدالرزاق بلوچ چار بچوں کے والد تھے۔ ان کی بہن کا کہنا ہے کہ وہ سیدھے سادھے انسان تھے کبھی اونچی آواز میں بات نہیں کرتے اور انہوں نے کبھی بچوں کو ڈانٹا تک نہیں تھا۔

’بچپن میں پاکستان کی آزادی کے دن ملی نغموں اور عید میلادالنبی میں نعتوں کے مقابلے میں شرکت کرتے تھے، انہوں نے کئی سرٹیفیکٹ جیتے۔‘

عبدالرزاق رواں سال چوبیس مارچ کو ان کے اہل خانہ کے مطابق لیاری کے علاقے چاکیواڑہ سے مبینہ طور پر حراست میں لیے گئے تھے۔ اس کی ایف آئی آر بھی درج کرائی گئی تھی۔

گمشدگی کے کچھ روز بعد سول ڈریس میں نامعلوم افراد نے ان کے اخبار توار میں توڑ پھوڑ کی تھی، جس کے بعد دفتر بند کردیا گیا۔

سعیدہ سربازی کا کہنا ہے کہ ان کے بھائی کو سچ لکھنے کی سزا دی گئی ہے۔ ’وہ کسی کے سامنے نہیں جھکتا اور بکتا تھا۔ دوسرا میڈیا تو بکا ہوا نظر آتا ہے۔‘

انہوں نے کہا ’گزشتہ پانچ مہینوں میں ہم نے میڈیا اور صحافی دونوں کو دیکھ لیا۔ صحافیوں اور صحافی تنظیموں کو اپنے ساتھی کا ساتھ دینا چاہیے تھا لیکن افسوس کہ انہوں نے ایسا نہیں کیا۔‘

عبدالرزاق چھ بہنوں کے اکلوتے بھائی تھے۔ ان کے والد فالج کی وجہ سے معذور ہیں اور والدہ عارضہ قلب میں مبتلا ہیں۔

حکومت اور اداروں سے مایوس سعیدہ سربازی کہتی ہیں کہ ’عدل انصاف اور انسانی حقوق کے ادارے بھی ردی کے کاغذ کی طرح ہیں جن کی کوئی افادیت اور اہمیت نہیں‘۔

اسی بارے میں