خیبر پختونخوا:دو حلقوں کے نتائج روک دیے گئے

Image caption ضمنی انتخابات میں چند مقامی افراد نے خواتین کو ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں نوشہرہ اور لکی مروت میں ضمنی انتخابات کے دوران مقامی افراد کی جانب سے خواتین کو ووٹ ڈالنے کی اجازت نہ دینے پر پشاور ہائی کورٹ نے از خود نوٹس لیتے ہوئے دونوں حلقوں کے نتائج روکنے کا حکم دیا ہے۔

الیکشن کمیشن نے ان حلقوں کے متعلقہ پولنگ سٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کرانے کا حکم دیا ہے۔

ضمنی انتخابات: غیر حتمی ابتدائی نتائج

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے پانچ نوشہرہ اور این اے ستائیس لکی مروت میں بعض یونین کونسلز کی سطح پر مقامی افراد نے متفقہ طور پر یہ تحریری فیصلہ کیا تھا کہ خواتین ووٹ ڈالنے پولنگ سٹیشنز نہیں آئیں گی اور اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرے گا۔

نوشہرہ میں پاکستان تحریک انصاف اور عوامی نیشنل پارٹی کے امیدواروں کے مابین مقابلہ ہے جبکہ لکی مروت میں پاکستان تحریک انصاف اور جمیعت علماء اسلام کے امیدوار مدِمقابل ہیں۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس دوست محمد خان نے ذرائع ابلاغ کی ان رپورٹس پر از خود نوٹس لیتے ہوئے صوبائی انتظامی کے افسران سے کہا ہے کہ وہ اس واقعے کا نوٹس لیں اور جن افراد نے خواتین کو انتخابات میں شرکت کرنے سے روکا ہے ان کی نشاندہی کریں۔

الیکشن کمیشن نے صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد نوشہرہ اور لکی مروت کے اٹھارہ پولنگ سٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کرانے کا حکم دیا ہے۔

خیبر پختونخوا میں ضمنی انتخاب کے لیے قومی اور صوبائی اسمبلی کے چار چار حلقوں پر پولنگ ہوئی ہے لیکن بیشتر پولنگ سٹیشنز پر ووٹ ڈالنے کی شرح کم رہی ہے۔

قومی اسمبلی کے حقلہ این اے ون پشاور ون میں اندرون شہر ایک پولنگ سٹیشن میں ڈھائی سو ووٹرز میں سے صرف تیس ووٹ ڈالے گئے ہیں۔پولنگ سٹیشنز پر فوج اور پولیس اہلکار تعینات رہے تاکہ کسی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔

اسی بارے میں